السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3493. -- باب: الدليل على أن الطبخ لا يخرج هذه الأشربة من دخولها في الاسم، والتحريم إذا كانت مسكرة
-- باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ ان مشروبات کو پکانا انہیں شراب کے نام میں شامل ہونے سے خارج نہیں کرتا، اور اگر وہ نشہ آور ہوں تو ان کی حرمت برقرار رہتی ہے۔
حدیث نمبر: 17381
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ أَبِي عُمَرَ الْبَهْرَانِيِّ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ الطِّلَاءِ، فَقَالَ:" إِنَّ النَّارَ لَا تُحِلُّ شَيْئًا وَلَا تُحَرِّمُهُ".
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «طِلَاءٍ» کے متعلق سوال کیا گیا تو فرمایا: آگ نہ کسی چیز کو حلال کرتی ہے اور نہ حرام۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17381]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17382
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَشِيطٍ الْوَعْلَانِيُّ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ أَبَا مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيَّ، حَجَّ فَدَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَتْ تَسْأَلُهُ عَنِ الشَّامِ وَعَنْ بَرْدِهَا، فَجَعَلَ يُخْبِرُهَا، فَقَالَتْ: كَيْفَ تَصْبِرُونَ عَلَى بَرْدِهَا؟ فَقَالَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّهُمْ يَشْرَبُونَ شَرَابًا لَهُمْ يُقَالُ لَهُ الطِّلَاءُ، فَقَالَتْ: صَدَقَ اللهُ، وَبَلَّغَ حِبِّي، سَمِعْتُ حِبِّي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِي يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا".
محمد بن عبداللہ کہتے ہیں کہ جب ابو مسلم خولانی حج پر گئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے۔ آپ رضی اللہ عنہا ان سے شام اور وہاں کی سردی کے متعلق پوچھنے لگیں اور پوچھا: وہ یہ سردی کیسے برداشت کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اے ام المؤمنین! وہ «طِلَاء» نامی مشروب پیتے ہیں۔ تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ نے سچ فرمایا اور میرے محبوب نے پہنچایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے لوگ شراب پییں گے لیکن اس کا نام دوسرا رکھ دیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17382]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17383
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" لَيَشْرَبَنَّ أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ، يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا، وَتُضْرَبُ عَلَى رُءُوسِهِمُ الْمَعَازِفُ، يَخْسِفُ اللهُ بِهُمُ الْأَرْضَ، وَيَجْعَلُ مِنْهُمْ قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ".
سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے لوگ شراب کا نام تبدیل کر کے شراب پییں گے، ان کے سروں پر آلاتِ موسیقی بجائے جائیں گے، اللہ ان کو زمین میں دھنسا دے گا اور ان میں سے بعض کو بندر اور خنزیر بنا دے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17383]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17384
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَرَجَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: إِنِّي وَجَدْتُ مِنْ فُلَانٍ رِيحَ شَرَابٍ، فَزَعَمَ أَنَّهُ شَرِبَ الطِّلَاءَ، وَأَنَا سَائِلٌ عَمَّا شَرِبَ، فَإِنْ كَانَ يُسْكِرُ جَلَدْتُهُ، فَجَلَدَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْحَدَّ تَامًّا.
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: میں نے فلاں سے شراب کی بو محسوس کی ہے، اگر اس نے طلاء پی ہے اور اس میں نشہ تھا تو میں اسے حد لگاؤں گا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے پوری حد لگائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17384]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17385
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ:" قَدْ جَاءَتْ فِي الْأَشْرِبَةِ آثَارٌ كَثِيرَةٌ بِأَسْمَاءَ مُخْتَلِفَةٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، وَكُلٌّ لَهُ تَفْسِيرٌ: فَأَوَّلُهَا الْخَمْرُ: وَهِيَ مَا غَلَى مِنْ عَصِيرِ الْعِنَبِ، فَهَذَا مَا لَا اخْتِلَافَ فِي تَحْرِيمِهِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِنَّمَا الِاخْتِلَافُ فِي غَيْرِهِ وَمِنْهَا السَّكَرُ: وَهُوَ نَقِيعُ التَّمْرِ الَّذِي لَمْ تَمَسَّهُ النَّارُ، وَفِيهِ يُرْوَى عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: السَّكَرُ خَمْرٌ ⦗٥١٣⦘ وَمِنْهَا الْبِتْعُ: وَهُوَ نَبِيذُ الْعَسَلِ، وَمِنْهَا الْجِعَةُ: وَهُوَ نَبِيذُ الشَّعِيرِ وَمِنْهَا الْمِزْرُ: وَهُوَ مِنَ الذُّرَةِ".
حضرت ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مشروبات کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بہت سی روایات مختلف ناموں کے ساتھ آئی ہیں اور ہر ایک کی وضاحت ہے: ان میں پہلی «الْخَمْرُ» ہے، یہ انگور کا وہ رس ہے جس میں جوش آ جائے، اس کی حرمت میں مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں، اختلاف صرف اس کے علاوہ میں ہے۔ ان میں سے ایک «السَّكَرُ» ہے جو کھجور کو بھگو کر بنائی جاتی ہے اور اسے آگ نہیں چھوتی، اس کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: سکر شراب ہے۔ ان میں سے «الْبِتْعُ» ہے یعنی شہد کی شراب، ان میں سے «الْجِعَةُ» ہے، یہ جو کی شراب ہے، اور ان میں سے «الْمِزْرُ» ہے جو مکئی کے دانے سے بنتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17385]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17386
قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: حَدَّثَنِيهِ أَبُو الْمُنْذِرِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ أكيلٍ مُؤَذِّنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ فَسَّرَ هَذِهِ الْأَرْبَعَةَ الْأَشْرِبَةَ، وَزَادَ:" وَالْخَمْرُ مِنَ الْعِنَبِ، وَالسَّكَرُ مِنَ التَّمْرِ" قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَمِنْهَا السُّكْرُكَةُ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ الْأَشْعَرِيِّ التَّفْسِيرُ فَقَالَ: إِنَّهُ مِنَ الذُّرَةِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے ان چار مشروبات کی وضاحت کی اور یہ اضافہ کیا: ”اور خمر انگور سے ہے اور سکر کھجور سے۔“ ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان میں سے «السُّكْرُكَةُ» بھی ہے، اور اس کی وضاحت اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: یہ مکئی سے بنتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17386]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17387
قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: ثنا حَجَّاجٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، يَخْطُبُ فَقَالَ:" خَمْرُ الْمَدِينَةِ مِنَ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ، وَخَمْرُ أَهْلِ فَارِسَ مِنَ الْعِنَبِ، وَخَمْرُ أَهْلِ الْيَمَنِ الْبِتْعُ، وَهُوَ مِنَ الْعَسَلِ، وَخَمْرُ الْحَبَشِ السُّكْرُكَةُ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَمِنَ الْأَشْرِبَةِ أَيْضًا الْفَضِيخُ، وَهُوَ مَا افْتُضِخَ مِنَ الْبُسْرِ مِنْ غَيْرِ أَنْ تَمَسَّهُ النَّارُ، وَفِيهِ يُرْوَى عَنِ ابْنِ عُمَرَ: لَيْسَ بِالْفَضِيخِ، وَلَكِنَّهُ الْفَضُوخُ.
سیدنا صفوان بن محرز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اہلِ مدینہ کی شراب تر کھجور سے ہے اور اہلِ فارس انگور سے بناتے ہیں اور اہلِ یمن شہد سے اور اہلِ حبشہ مکئی کے دانے سے اور ابوعبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «الْفَضِيخُ» ”فضیخ“ بھی ایک شراب ہے جو تر کھجور سے بنتی ہے لیکن اسے آگ نہیں چھوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17387]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17388
وَيُرْوَى عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ قَالَ:" نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، وَمَا كَانَتْ غَيْرُ فَضِيخِكُمْ هَذَا"، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: حَدَّثَنِيهِ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: فَإِنْ كَانَ مَعَ الْبُسْرِ تَمْرٌ فَهُوَ الَّذِي يُسَمَّى الْخَلِيطَيْنِ، وَكَذَلِكَ إِنْ كَانَ زَبِيبًا وَتَمْرًا فَهُوَ مِثْلُهُ وَمِنَ الْأَشْرِبَةِ: الْمَنْصَفُ، وَهُوَ أَنْ يُطْبَخَ عَصِيرُ الْعِنَبِ قَبْلَ أَنْ يَغْلِيَ حَتَّى يَذْهَبَ نِصْفُهُ، وَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّهُ يُسْكِرُ، فَإِنْ كَانَ يُسْكِرُ فَهُوَ حَرَامٌ، وَإِنْ طُبِخَ حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثَاهُ وَيَبْقَى ثُلُثُهُ فَهُوَ الطِّلَاءُ، وَإِنَّمَا سُمِّيَ بِذَلِكَ لِأَنَّهُ شُبِّهُ بِطِلَاءِ الْإِبِلِ فِي ثِخَنِهِ وَسَوَادِهِ، وَبَعْضُ الْعَرَبِ يَجْعَلُ الطِّلَاءَ الْخَمْرَ بِعَيْنِهَا، يُرْوَى أَنَّ عَبِيدَ بْنَ الْأَبْرَصِ قَالَ فِي مَثَلٍ لَهُ:.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: شراب کی حرمت نازل ہوئی اور اس وقت تمہاری اس فضیخ کے سوا کوئی شراب نہ تھی۔
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر خشک اور تر کھجور ملا کر شراب بنائی جائے تو اس کا نام «خَلِيْطَيْنِ» ”خلیطین“ ہوتا ہے اور منقیٰ اور کھجور بھی اسی طرح ہے۔ ایسے ہی ایک مشروب «مُنَصَّف» ”منصف“ بھی ہے، وہ یہ کہ انگور کے رس کو پکایا جاتا ہے، اس کے خراب ہونے سے پہلے یہاں تک کہ وہ آدھا رہ جاتا ہے اور مجھے یہ بات پتا چلی ہے کہ اس میں نشہ پیدا ہو جاتا ہے تو پھر یہ حرام ہے۔ اگر اس کو پکانے کے بعد اس کا تیسرا حصہ بچے تو یہ «طِلَاء» ”طلاء“ ہوتا ہے، اونٹوں کے طلاء جیسا جو گاڑھا ہوتا ہے اور سیاہ ہوتا ہے اور بعض عرب «طِلَاء» ”طلاء“ کو بعینہٖ شراب ہی قرار دیتے ہیں۔ عبید بن ابرص نے اسی بارے میں یہ شعر کہا ہے:
یہ شراب کی کنیت طلاء رکھتے ہیں
جیسے بھیڑیے کی کنیت ابو جعدہ رکھی جاتی ہے
یہ سارے مشروبات جو «خَمْر» ”خمر“ کے نام سے کنایہ ہیں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان میں داخل ہیں: ”میری امت کے لوگ شراب پییں گے لیکن اس کا نام دوسرا رکھ دیں گے“ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو بھی عقل کو ڈھانپے وہ شراب ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17388]
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر خشک اور تر کھجور ملا کر شراب بنائی جائے تو اس کا نام «خَلِيْطَيْنِ» ”خلیطین“ ہوتا ہے اور منقیٰ اور کھجور بھی اسی طرح ہے۔ ایسے ہی ایک مشروب «مُنَصَّف» ”منصف“ بھی ہے، وہ یہ کہ انگور کے رس کو پکایا جاتا ہے، اس کے خراب ہونے سے پہلے یہاں تک کہ وہ آدھا رہ جاتا ہے اور مجھے یہ بات پتا چلی ہے کہ اس میں نشہ پیدا ہو جاتا ہے تو پھر یہ حرام ہے۔ اگر اس کو پکانے کے بعد اس کا تیسرا حصہ بچے تو یہ «طِلَاء» ”طلاء“ ہوتا ہے، اونٹوں کے طلاء جیسا جو گاڑھا ہوتا ہے اور سیاہ ہوتا ہے اور بعض عرب «طِلَاء» ”طلاء“ کو بعینہٖ شراب ہی قرار دیتے ہیں۔ عبید بن ابرص نے اسی بارے میں یہ شعر کہا ہے:
یہ شراب کی کنیت طلاء رکھتے ہیں
جیسے بھیڑیے کی کنیت ابو جعدہ رکھی جاتی ہے
یہ سارے مشروبات جو «خَمْر» ”خمر“ کے نام سے کنایہ ہیں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان میں داخل ہیں: ”میری امت کے لوگ شراب پییں گے لیکن اس کا نام دوسرا رکھ دیں گے“ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو بھی عقل کو ڈھانپے وہ شراب ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17388]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح