السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3496. -- باب: ما جاء في صفة نبيذهم الذي كانوا يشربونه في حديث أنس بن مالك وغيره عن النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه
-- باب: انس بن مالک اور دیگر صحابہ کی احادیث کی روشنی میں نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کے اس نبیذ (مشروب) کی صفت کا بیان جو وہ پیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 17425
وَذَلِكَ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ عَوْفِ بْنِ سَلَامَةَ، أَخْبَرَاهُ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ قَدِمَ الشَّامَ فَشَكَا إِلَيْهِ أَهْلُ الشَّامِ وَبَاءَ الْأَرْضِ وَثِقَلَهَا، وَقَالُوا: لَا يُصْلِحُنَا إِلَّا هَذَا الشَّرَابُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اشْرَبُوا الْعَسَلَ، فَقَالُوا: لَا يُصْلِحُنَا الْعَسَلُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ: هَلْ لَكَ أَنْ نَجْعَلَ لَكَ مِنْ هَذَا الشَّرَابِ شَيْئًا لَا يُسْكِرُ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَطَبَخُوهُ حَتَّى ذَهَبَ مِنْهُ الثُّلُثَانِ وَبَقِيَ الثُّلُثُ، فَأَتَوْا بِهِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَدْخَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيهِ أُصْبُعَهُ ثُمَّ رَفَعَ يَدَهُ، فَتَبِعَهَا يَتَمَطَّطُ، فَقَالَ: هَذَا الطِّلَاءُ، هَذَا مِثْلُ طِلَاءِ الْإِبِلِ، فَأَمَرَهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يَشْرَبُوهُ، فَقَالَ لَهُ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ: أَحْلَلْتَهَا وَاللهِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كَلَّا وَاللهِ، اللهُمَّ إِنِّي لَا أُحِلُّ لَهُمْ شَيْئًا حَرَّمْتَهُ عَلَيْهِمْ، وَلَا أُحَرِّمُ عَلَيْهِمْ شَيْئًا أَحْلَلْتَهُ لَهُمْ.
محمود بن لبید انصاری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام آئے تو اہل شام نے وہاں کی بیماریوں کی شکایت کی اور کہا کہ ہماری اصلاح صرف اس پینے سے ہو سکتی ہے، تو انہوں نے فرمایا: شہد پیا کرو، تو وہ بولے: شہد سے ہم ٹھیک نہیں ہوں گے۔ ایک شخص کہنے لگا کہ کیا وہ مشروب ہم آپ کے لیے بنائیں کہ اس میں نشہ نہیں ہوتا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، تو انہوں نے اسے اتنا پکایا کہ اس کا دو تہائی ختم ہو گیا اور صرف ثلث بچا، تو وہ آپ کے پاس لایا گیا، آپ نے اپنی انگلی اس میں داخل فرمائی اور پھر اسے باہر نکالا تو وہ ربڑ کی طرح آپ کی انگلی سے بہہ رہا تھا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ تو اونٹوں کے طلاء کی طرح ہے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اس کی اجازت دے دی۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ واللہ! کیا آپ نے یہ حلال کر دیا؟ فرمایا: واللہ! نہیں، جو چیز آپ نے اس کے لیے حرام کی ہے میں اس کو حلال اور جو حلال کی ہے میں اس کو حرام نہیں کر سکتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17425]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17426
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" أَنِ اطْبُخُوا، شَرَابَكُمْ حَتَّى يَذْهَبَ نَصِيبُ الشَّيْطَانِ مِنْهُ، فَإِنَّ لِلشَّيْطَانِ اثْنَيْنِ، وَلَكُمْ وَاحِدَةً".
سیدنا عبداللہ بن یزید خطمی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ اپنے مشروبات کو اتنا پکاؤ کہ اس سے شیطان کا حصہ ختم ہو جائے، شیطان کے لیے اس میں سے دو تہائی اور تمہارے لیے ایک تہائی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17426]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17427
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ الْجُوزِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيذُ الَّذِي يَشْرَبُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يُنْقَعُ لَهُ الزَّبِيبُ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ عَشِيَّةً، وَيُنْقَعُ لَهُ عَشِيَّةً فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً، وَلَا يُجْعَلُ فِيهِ دُرْدِيٌّ".
زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لیے منقہ کی نبیذ بنائی جاتی تھی، آپ صبح کی بنائی ہوئی شام کو پیا کرتے اور شام کی (بنائی ہوئی) صبح کو، اور اس میں تلچھٹ (خمیر) نہیں ڈالی جاتی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17427]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17428
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا ⦗٥٢٤⦘ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، قَالَا: ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، جَارِهِمْ قَالَ: سَمِعْتُ هِلَالًا الْمَازِنِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَرَّةٍ فِيهَا نَبِيذٌ، فَنَهَانِي عَنْهُ فَكَسَرْتُهَا، قَالَ: وَقَالَ سُوَيْدٌ: انْتَبِذْ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَاشْرَبْهُ آخِرَ اللَّيْلِ، وَانْتَبِذْ أَوَّلَ النَّهَارِ وَاشْرَبْهُ آخِرَ النَّهَارِ لَفْظُ حَدِيثِ الصَّغَانِيِّ، وَفِي رِوَايَةِ الْحَسَنِ قَالَ: عَنْ هِلَالٍ الْمَازِنِيِّ.
سیدنا سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مٹی کا گھڑا جس میں نبیذ تھی لایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس سے روک دیا تو میں نے اسے توڑ دیا۔ سوید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رات کے شروع حصے میں نبیذ بناتا تو آخری حصے میں پی لیتا اور صبح کے اول حصے میں بناتا تو شام تک اسے پی لیتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17428]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف