السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3538. -- باب: الإذن بالهجرة
-- باب: ہجرت کی اجازت ملنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 17734
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: لَمَّا ضَاقَتْ عَلَيْنَا مَكَّةُ وَأُوذِيَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفُتِنُوا وَرَأَوْا مَا يُصِيبُهُمْ مِنَ الْبَلَاءِ وَالْفِتْنَةِ فِي دِينِهِمْ، وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْتَطِيعُ دَفْعَ ذَلِكَ عَنْهُمْ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنَعَةٍ مِنْ قَوْمِهِ وَعَمِّهِ، لَا يَصِلُ إِلَيْهِ شَيْءٌ مِمَّا يَكْرَهُ مَا يَنَالُ أَصْحَابَهُ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ مَلِكًا لَا يُظْلَمُ أَحَدٌ عِنْدَهُ فَالْحَقُوا بِبِلَادِهِ حَتَّى يَجْعَلَ اللهُ لَكُمْ فَرَجًا وَمَخْرَجًا مِمَّا أَنْتُمْ فِيهِ"، فَخَرَجْنَا إِلَيْهَا أَرْسَالًا حَتَّى اجْتَمَعْنَا وَنَزَلْنَا بِخَيْرِ دَارٍ إِلَى خَيْرِ جَارٍ أَمِنَّا عَلَى دِينِنَا، وَلَمْ نَخْشَ مِنْهُ ظُلْمًا. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.
ام المؤمنین سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب ہم پر مکہ تنگ ہو گیا اور اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو طرح طرح کی تکلیفوں اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے اپنے دین پر عمل کرنے کی وجہ سے آزمائشوں اور فتنوں کو دیکھا اور یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان سے یہ تکلیفیں دور کرنے سے قاصر ہیں، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنی قوم اور اپنے چچا کی حمایت میں محفوظ تھے اور جو تکلیفیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو پہنچتی تھیں ان میں سے کوئی ناگوار چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں پہنچتی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”حبشہ کی سرزمین میں ایک ایسا بادشاہ ہے جس کے پاس کسی پر ظلم نہیں کیا جاتا، لہٰذا تم ان کے شہر میں چلے جاؤ، جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے متبادل تمہارے لیے کوئی اور راستہ نہ نکال دے۔“ پھر ہم آہستہ آہستہ وہاں سے نکلے حتیٰ کہ ہم حبشہ میں جمع ہو گئے اور ہم اچھے گھر اور اچھے پڑوس میں تھے، وہاں ظلم و زیادتی کا ڈر بھی نہ تھا، پھر انہوں نے لمبی حدیث بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17734]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17735
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَارُ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِثَ عَشْرَ سِنِينَ يَتْبَعُ الْحَاجَّ فِي مَنَازِلِهِمْ فِي الْمَوَاسِمِ بمَجَنَّةَ وَعُكَاظٍ وَمَنَازِلِهِمْ بِمِنًى؟ مَنْ يُؤْوِينِي وَيَنْصُرُنِي حَتَّى أُبَلِّغَ رِسَالِاتِ رَبِّي وَلَهُ الْجَنَّةُ؟ فَلَمْ يَجِدْ أَحَدًا يُؤْوِيهِ وَيَنْصُرُهُ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيُدْخِلُ صَاحِبَهُ مِنْ مِصْرَ وَالْيَمَنِ فَيَأْتِيهِ قَوْمُهُ أَوْ ذَوُو رَحِمِهِ، فَيَقُولُونَ: احْذَرْ فَتَى قُرَيْشٍ لَا يُصِيبُكَ، يَمْشِي بَيْنَ رِحَالِهِمْ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللهِ، يُشِيرُونَ إِلَيْهِ بِأَصَابِعِهِمْ حَتَّى يَبْعَثَ اللهُ مِنْ يَثْرِبَ فَيَأْتِيهِ الرَّجُلُ مِنَّا فَيُؤْمِنُ بِهِ، ويُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ فَيَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ فَيُسْلِمُونَ بِإِسْلَامِهِ حَتَّى لَمْ يَبْقَ دَارٌ مِنْ دُورِ يَثْرِبَ إِلَّا فِيهَا رَهْطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُظْهِرُونَ الْإِسْلَامَ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللهُ فَائْتَمَرْنَا وَاجْتَمَعْنَا سَبْعِينَ رَجُلًا مِنَّا، فَقُلْنَا: حَتَّى مَتَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْرَدُ فِي جِبَالِ مَكَّةَ وَيَخَالُ، أَوْ قَالَ: وَيَخَافُ، فَرَحَلْنَا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَيْهِ الْمَوْسِمَ فَوَعَدَنَا شِعْبَ الْعَقَبَةِ فَاجْتَمَعْنَا فِيهِ مِنْ رَجُلٍ وَرَجُلَيْنِ حَتَّى تَوَافَيْنَا فِيهِ عِنْدَهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ عَلَامَ نُبَايِعُكَ؟، قَالَ:" تُبَايِعُونِي عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ، وَعَلَى النَّفَقَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ، وَعَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَأَنْ تَقُولُوا فِي اللهِ لَا يَأْخُذُكُمْ فِي اللهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ، وَعَلَى أَنْ تَنْصُرُونِي إِنْ قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ يَثْرِبَ، وَتَمْنَعُونِي مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ وَأَزْوَاجَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ وَلَكُمُ الْجَنَّةُ"، فَقُلْنَا: نُبَايِعُكَ، فَأَخَذَ بِيَدِهِ أَسْعَدُ بْنُ ⦗١٧⦘ زُرَارَةَ وَهُوَ أَصْغَرُ السَّبْعِينَ رَجُلًا إِلَّا أَنَا، فَقَالَ: رُوَيْدًا يَا أَهْلَ يَثْرِبَ، إِنَّا لَمْ نَضْرِبْ إِلَيْهِ أَكْبَادَ الْمَطِيِّ إِلَّا وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللهِ، وَأَنَّ إِخْرَاجَهُ الْيَوْمَ مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ كَافَّةً، وَقَتْلُ خِيَارِكُمْ، وَأَنْ تَعَضَّكُمُ السُّيُوفُ، وَأَمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَصْبِرُونَ عَلَى عَضِّ السُّيُوفِ وَقَتْلِ خِيَارِكُمْ وَمُفَارَقَةِ الْعَرَبِ كَافَّةً، فَخُذُوهُ وَأَجْرُكُمْ عَلَى اللهِ، وَأَمَّا أَنْتُمْ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ خِيفَةً فَذَرُوهُ فَهُوَ أَعْذَرُ لَكُمْ عِنْدَ اللهِ، فَقَالُوا: أَخِّرْ عَنَّا يَدَكَ يَا أَسْعَدُ بْنَ زُرَارَةَ، فَوَاللهِ لَا نَذَرُ هَذِهِ الْبَيْعَةَ وَلَا نَسْتَقِيلُهَا، فَقُمْنَا إِلَيْهِ رَجُلًا رَجُلًا يَأْخُذُ عَلَيْنَا شَرْطَهُ وَيُعْطِينَا عَلَى ذَلِكَ الْجَنَّةَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں دس سال ٹھہرے اور موسمِ حج میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم حاجیوں کے پیچھے ان کے گھروں میں جاتے جو مجنہ اور عکاظ میں تھے اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں بھی ان کے گھروں میں جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”جو مجھے ٹھکانا دے گا اور میری مدد کرے گا حتیٰ کہ میں اللہ کے پیغامات کی تبلیغ کروں اور ان کو لوگوں تک پہنچا دوں تو اس کے لیے جنت ہے“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹھکانا دینے اور مدد کرنے کے لیے کوئی بھی تیار نہ ہوا حتیٰ کہ مضر اور یمن سے کوئی آدمی آتا تو اس کی قوم اور اس کے عزیز و اقارب کے لوگ اسے کہتے کہ قریش کے ایک جوان سے بچنا اور اس سے ملاقات نہ کرنا۔ وہ لوگوں کے گھروں میں جا کر ان کو اللہ کے دین کی دعوت دیتا ہے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف انگلیوں سے اشارے کرتے ہیں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں مدینہ میں منتخب فرمایا اور ہم میں سے کوئی آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا اور وہ آپ پر ایمان لے آتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے قرآن کی تعلیم دیتے۔ پھر وہ آدمی اپنے گھر لوٹتا تو اس کے اسلام کی وجہ سے اس کے اہل و عیال بھی اسلام قبول کر لیتے حتیٰ کہ یثرب (مدینہ) میں کوئی ایسا گھر نہیں تھا جس میں مسلمانوں کی جماعت نہ ہو اور یہ لوگ اسلام کی تبلیغ کرتے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے ہمیں چنا اور ہم ستر آدمیوں نے اکٹھے ہو کر مشاورت کی اور کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کب تک مکہ کے پہاڑوں میں دھکیلا جائے گا اور کب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوف کی زندگی ان پہاڑوں میں گزاریں گے؟ اس کے بعد ہم نے وہاں سے کوچ کیا اور موسمِ حج میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبِ عقبہ میں ہمارے ساتھ ملاقات کا وعدہ کیا حتیٰ کہ ہم اس میں ایک ایک اور دو دو ہو کر داخل ہوئے حتیٰ کہ ہم سب اکٹھے ہو گئے اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ کی کس بات پر بیعت کریں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میری بیعت اطاعت و فرماں برداری پر کرو، خوشی میں بھی اور ناخوشی میں بھی، اور خوش حالی اور تنگ دستی میں خرچ کرنے پر، اور نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے پر، اور اللہ کے دین کی دعوت دینے یا عمل کرنے پر کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرنے پر، اور اس بات پر کہ اگر میں تمہارے پاس یثرب آؤں تو تم نے میری مدد کرنی ہے اور تم نے مجھے بھی اس چیز سے بچانا ہے جس چیز سے تم اپنے آپ کو، اپنی بیویوں کو اور اپنی اولادوں کو بچاتے ہو، تو ایسی صورت میں تمہارے لیے جنت ہے۔“
ہم نے کہا کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کرتے ہیں اور ہم بیعت کے لیے اٹھے تو سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے، جو ان ستر آدمیوں میں سب سے کم عمر تھے سوائے میرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولے: اہل یثرب! ذرا ٹھہر جاؤ! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اونٹوں کے کلیجے مار کر (یعنی لمبا چوڑا سفر کر کے) اس یقین کے ساتھ حاضر ہوئے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں؛ آج آپ کو یہاں سے لے جانے کا معنی ہے سارے عرب سے دشمنی، تمہارے چیدہ سرداروں کا قتل اور تلواروں کی مار۔ لہٰذا اگر یہ سب کچھ برداشت کر سکتے ہو تب تو انھیں لے چلو اور تمہارا اجر اللہ پر ہے اور اگر تمہیں اپنی جان عزیز ہے تو انھیں ابھی سے چھوڑ دو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ قابل قبول عذر ہو گا۔ تو لوگوں نے بیک آواز کہا: اے اسعد بن زرارہ! اپنا ہاتھ ہٹاؤ! اللہ کی قسم! ہم اس بیعت کو نہ چھوڑ سکتے ہیں اور نہ توڑ سکتے ہیں۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک ایک کر کے اٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت لی اور اس کے عوض ہمیں جنت کی بشارت دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17735]
ہم نے کہا کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کرتے ہیں اور ہم بیعت کے لیے اٹھے تو سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے، جو ان ستر آدمیوں میں سب سے کم عمر تھے سوائے میرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولے: اہل یثرب! ذرا ٹھہر جاؤ! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اونٹوں کے کلیجے مار کر (یعنی لمبا چوڑا سفر کر کے) اس یقین کے ساتھ حاضر ہوئے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں؛ آج آپ کو یہاں سے لے جانے کا معنی ہے سارے عرب سے دشمنی، تمہارے چیدہ سرداروں کا قتل اور تلواروں کی مار۔ لہٰذا اگر یہ سب کچھ برداشت کر سکتے ہو تب تو انھیں لے چلو اور تمہارا اجر اللہ پر ہے اور اگر تمہیں اپنی جان عزیز ہے تو انھیں ابھی سے چھوڑ دو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ قابل قبول عذر ہو گا۔ تو لوگوں نے بیک آواز کہا: اے اسعد بن زرارہ! اپنا ہاتھ ہٹاؤ! اللہ کی قسم! ہم اس بیعت کو نہ چھوڑ سکتے ہیں اور نہ توڑ سکتے ہیں۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک ایک کر کے اٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت لی اور اس کے عوض ہمیں جنت کی بشارت دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17735]
تخریج الحدیث: «حسن۔ حديث حاكم»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 17736
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ فَأُمِرَ بِالْهِجْرَةِ وَأُنْزِلَ عَلَيْهِ: {وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا} [الإسراء: ٨٠] ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کا حکم دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا﴾ [سورة الإسراء: 80] ”اور اس طرح دعا کریں کہ اے میرے پروردگار! مجھے جہاں لے جا اچھی طرح لے جا اور جہاں سے نکال اچھی طرح نکال اور میرے لیے اپنے پاس سے غلبہ اور مددگار مقرر فرما۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17736]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17737
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ، ثنا جَدِّي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ بِمَكَّةَ لِلْمُسْلِمِينَ:" قَدْ رَأَيْتُ دَارَ هِجْرَتِكُمْ، أُرِيتُ سَبْخَةً ذَاتَ نَخْلٍ بَيْنَ لَابَتَيْنِ وَهُمَا الْحَرَّتَانِ"، فَهَاجَرَ مَنْ هَاجَرَ قِبَلَ الْمَدِينَةِ حِينَ ذَكَرَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ بَعْضُ مَنْ كَانَ هَاجَرَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَتَجَهَّزَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُهَاجِرًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَى رِسْلِكَ فَإِنِّي أَرْجُو أَنْ يُؤْذَنَ لِي"، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَتَرْجُو ذَلِكَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، قَالَ:" نَعَمْ"، فَحَبَسَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَفْسَهُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَحَابَتِهِ، وَعَلَفَ رَاحِلَتَيْنِ عِنْدَهُ وَرَقَ السَّمُرِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ بِطُولِهِ، مِنْ حَدِيثِ عَقِيلٍ وَيُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا: ”مجھے تمہارا مقامِ ہجرت دکھایا گیا ہے، یہ لاوے کی دو پہاڑیوں کے درمیان واقع ایک نخلستانی علاقہ ہے۔“ اس کے بعد لوگوں نے مدینہ کی جانب ہجرت کی، عام مہاجرینِ حبشہ بھی مدینہ ہی آگئے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی سفرِ مدینہ کے لیے ساز و سامان تیار کر لیا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”ذرا رکے رہو، کیونکہ توقع ہے مجھے بھی اجازت دے دی جائے گی۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا! کیا آپ کو اس پر امید ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ رکے رہے تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کریں، ان کے پاس دو اونٹنیاں تھیں، انہیں بھی چار ماہ تک ببول کے پتوں کا خوب چارہ کھلایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17737]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٢٢٩٨»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17738
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْبَاهِلِيُّ، وَأَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمِرِيُّ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، قَالَ: أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: كَانَ أَوَّلَ مَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ، وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، وَكَانَا يُقْرِئَانِ الْقُرْآنَ، ثُمَّ جَاءَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ وَبِلَالٌ وَسَعْدٌ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ ⦗١٨⦘ عَنْهُ فِي عِشْرِينَ وَبَيْنَهُمْ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْتُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَرِحُوا بِشَيْءٍ قَطُّ فَرَحَهُمْ بِهِ، حَتَّى رَأَيْتُ الْوَلَائِدَ وَالصِّبْيَانَ يَسْعَوْنَ فِي الطَّرَائِقِ، يَقُولُونَ: جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَمَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ حَتَّى قَرَأْتُ: {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} [الأعلى: ١] فِي سُوَرٍ مِثْلِهَا مِنَ الْمُفَصَّلِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے سب سے پہلے ہمارے پاس آنے والے (یعنی مدینہ میں) حضرت مصعب بن عمیر اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہما تھے۔ وہ دونوں قرآن کریم کی تعلیم دیتے تھے، پھر عمار بن یاسر، بلال اور سعد رضی اللہ عنہم آئے۔ پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیس ساتھیوں کے ساتھ آئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو اہل مدینہ نے اتنی خوشی منائی کہ میں نے اس سے پہلے انہیں اتنا خوش ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔ حتی کہ میں نے لڑکوں اور بچوں کو دیکھا کہ وہ مدینہ کی گلیوں میں دوڑتے ہوئے یہ آواز بلند کر رہے تھے: ”رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ میں تشریف لائے تو میں نے ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] اور اس جیسی مفصل سورتیں پڑھ لی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17738]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح