🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3538. -- باب: الإذن بالهجرة
-- باب: ہجرت کی اجازت ملنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17735
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَارُ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِثَ عَشْرَ سِنِينَ يَتْبَعُ الْحَاجَّ فِي مَنَازِلِهِمْ فِي الْمَوَاسِمِ بمَجَنَّةَ وَعُكَاظٍ وَمَنَازِلِهِمْ بِمِنًى؟ مَنْ يُؤْوِينِي وَيَنْصُرُنِي حَتَّى أُبَلِّغَ رِسَالِاتِ رَبِّي وَلَهُ الْجَنَّةُ؟ فَلَمْ يَجِدْ أَحَدًا يُؤْوِيهِ وَيَنْصُرُهُ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيُدْخِلُ صَاحِبَهُ مِنْ مِصْرَ وَالْيَمَنِ فَيَأْتِيهِ قَوْمُهُ أَوْ ذَوُو رَحِمِهِ، فَيَقُولُونَ: احْذَرْ فَتَى قُرَيْشٍ لَا يُصِيبُكَ، يَمْشِي بَيْنَ رِحَالِهِمْ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللهِ، يُشِيرُونَ إِلَيْهِ بِأَصَابِعِهِمْ حَتَّى يَبْعَثَ اللهُ مِنْ يَثْرِبَ فَيَأْتِيهِ الرَّجُلُ مِنَّا فَيُؤْمِنُ بِهِ، ويُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ فَيَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ فَيُسْلِمُونَ بِإِسْلَامِهِ حَتَّى لَمْ يَبْقَ دَارٌ مِنْ دُورِ يَثْرِبَ إِلَّا فِيهَا رَهْطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُظْهِرُونَ الْإِسْلَامَ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللهُ فَائْتَمَرْنَا وَاجْتَمَعْنَا سَبْعِينَ رَجُلًا مِنَّا، فَقُلْنَا: حَتَّى مَتَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْرَدُ فِي جِبَالِ مَكَّةَ وَيَخَالُ، أَوْ قَالَ: وَيَخَافُ، فَرَحَلْنَا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَيْهِ الْمَوْسِمَ فَوَعَدَنَا شِعْبَ الْعَقَبَةِ فَاجْتَمَعْنَا فِيهِ مِنْ رَجُلٍ وَرَجُلَيْنِ حَتَّى تَوَافَيْنَا فِيهِ عِنْدَهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ عَلَامَ نُبَايِعُكَ؟، قَالَ:" تُبَايِعُونِي عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ، وَعَلَى النَّفَقَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ، وَعَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَأَنْ تَقُولُوا فِي اللهِ لَا يَأْخُذُكُمْ فِي اللهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ، وَعَلَى أَنْ تَنْصُرُونِي إِنْ قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ يَثْرِبَ، وَتَمْنَعُونِي مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ وَأَزْوَاجَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ وَلَكُمُ الْجَنَّةُ"، فَقُلْنَا: نُبَايِعُكَ، فَأَخَذَ بِيَدِهِ أَسْعَدُ بْنُ ⦗١٧⦘ زُرَارَةَ وَهُوَ أَصْغَرُ السَّبْعِينَ رَجُلًا إِلَّا أَنَا، فَقَالَ: رُوَيْدًا يَا أَهْلَ يَثْرِبَ، إِنَّا لَمْ نَضْرِبْ إِلَيْهِ أَكْبَادَ الْمَطِيِّ إِلَّا وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللهِ، وَأَنَّ إِخْرَاجَهُ الْيَوْمَ مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ كَافَّةً، وَقَتْلُ خِيَارِكُمْ، وَأَنْ تَعَضَّكُمُ السُّيُوفُ، وَأَمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَصْبِرُونَ عَلَى عَضِّ السُّيُوفِ وَقَتْلِ خِيَارِكُمْ وَمُفَارَقَةِ الْعَرَبِ كَافَّةً، فَخُذُوهُ وَأَجْرُكُمْ عَلَى اللهِ، وَأَمَّا أَنْتُمْ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ خِيفَةً فَذَرُوهُ فَهُوَ أَعْذَرُ لَكُمْ عِنْدَ اللهِ، فَقَالُوا: أَخِّرْ عَنَّا يَدَكَ يَا أَسْعَدُ بْنَ زُرَارَةَ، فَوَاللهِ لَا نَذَرُ هَذِهِ الْبَيْعَةَ وَلَا نَسْتَقِيلُهَا، فَقُمْنَا إِلَيْهِ رَجُلًا رَجُلًا يَأْخُذُ عَلَيْنَا شَرْطَهُ وَيُعْطِينَا عَلَى ذَلِكَ الْجَنَّةَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں دس سال ٹھہرے اور موسمِ حج میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم حاجیوں کے پیچھے ان کے گھروں میں جاتے جو مجنہ اور عکاظ میں تھے اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں بھی ان کے گھروں میں جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”جو مجھے ٹھکانا دے گا اور میری مدد کرے گا حتیٰ کہ میں اللہ کے پیغامات کی تبلیغ کروں اور ان کو لوگوں تک پہنچا دوں تو اس کے لیے جنت ہے“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹھکانا دینے اور مدد کرنے کے لیے کوئی بھی تیار نہ ہوا حتیٰ کہ مضر اور یمن سے کوئی آدمی آتا تو اس کی قوم اور اس کے عزیز و اقارب کے لوگ اسے کہتے کہ قریش کے ایک جوان سے بچنا اور اس سے ملاقات نہ کرنا۔ وہ لوگوں کے گھروں میں جا کر ان کو اللہ کے دین کی دعوت دیتا ہے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف انگلیوں سے اشارے کرتے ہیں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں مدینہ میں منتخب فرمایا اور ہم میں سے کوئی آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا اور وہ آپ پر ایمان لے آتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے قرآن کی تعلیم دیتے۔ پھر وہ آدمی اپنے گھر لوٹتا تو اس کے اسلام کی وجہ سے اس کے اہل و عیال بھی اسلام قبول کر لیتے حتیٰ کہ یثرب (مدینہ) میں کوئی ایسا گھر نہیں تھا جس میں مسلمانوں کی جماعت نہ ہو اور یہ لوگ اسلام کی تبلیغ کرتے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے ہمیں چنا اور ہم ستر آدمیوں نے اکٹھے ہو کر مشاورت کی اور کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کب تک مکہ کے پہاڑوں میں دھکیلا جائے گا اور کب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوف کی زندگی ان پہاڑوں میں گزاریں گے؟ اس کے بعد ہم نے وہاں سے کوچ کیا اور موسمِ حج میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبِ عقبہ میں ہمارے ساتھ ملاقات کا وعدہ کیا حتیٰ کہ ہم اس میں ایک ایک اور دو دو ہو کر داخل ہوئے حتیٰ کہ ہم سب اکٹھے ہو گئے اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ کی کس بات پر بیعت کریں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میری بیعت اطاعت و فرماں برداری پر کرو، خوشی میں بھی اور ناخوشی میں بھی، اور خوش حالی اور تنگ دستی میں خرچ کرنے پر، اور نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے پر، اور اللہ کے دین کی دعوت دینے یا عمل کرنے پر کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرنے پر، اور اس بات پر کہ اگر میں تمہارے پاس یثرب آؤں تو تم نے میری مدد کرنی ہے اور تم نے مجھے بھی اس چیز سے بچانا ہے جس چیز سے تم اپنے آپ کو، اپنی بیویوں کو اور اپنی اولادوں کو بچاتے ہو، تو ایسی صورت میں تمہارے لیے جنت ہے۔“
ہم نے کہا کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کرتے ہیں اور ہم بیعت کے لیے اٹھے تو سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے، جو ان ستر آدمیوں میں سب سے کم عمر تھے سوائے میرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولے: اہل یثرب! ذرا ٹھہر جاؤ! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اونٹوں کے کلیجے مار کر (یعنی لمبا چوڑا سفر کر کے) اس یقین کے ساتھ حاضر ہوئے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں؛ آج آپ کو یہاں سے لے جانے کا معنی ہے سارے عرب سے دشمنی، تمہارے چیدہ سرداروں کا قتل اور تلواروں کی مار۔ لہٰذا اگر یہ سب کچھ برداشت کر سکتے ہو تب تو انھیں لے چلو اور تمہارا اجر اللہ پر ہے اور اگر تمہیں اپنی جان عزیز ہے تو انھیں ابھی سے چھوڑ دو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ قابل قبول عذر ہو گا۔ تو لوگوں نے بیک آواز کہا: اے اسعد بن زرارہ! اپنا ہاتھ ہٹاؤ! اللہ کی قسم! ہم اس بیعت کو نہ چھوڑ سکتے ہیں اور نہ توڑ سکتے ہیں۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک ایک کر کے اٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت لی اور اس کے عوض ہمیں جنت کی بشارت دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17735]
تخریج الحدیث: «حسن۔ حديث حاكم»

الحكم على الحديث: حسن

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17735 in Urdu