السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3544. -- باب: الرخصة في الإقامة بدار الشرك لمن لا يخاف الفتنة
-- باب: اس شخص کے لیے دارالشرک میں قیام کی اجازت کے بیان میں جسے اپنے دین کے حوالے سے فتنے کا کوئی خوف نہ ہو۔
حدیث نمبر: 17771
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ كَاسِبٍ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قِيلَ لِصَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ وَهُوَ بِأَعْلَى مَكَّةَ: إِنَّهُ لَا دِينَ لِمَنْ لَمْ يُهَاجِرْ، فَقَالَ: لَا أَصِلُ إِلَى بَيْتِي حَتَّى أَقْدُمَ الْمَدِينَةَ. فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ، فَنَزَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا جَاءَ بِكَ يَا أَبَا وَهْبٍ؟". قَالَ: قِيلَ إِنَّهُ لَا دِينَ لِمَنْ لَمْ يُهَاجِرْ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعْ أَبَا وَهْبٍ إِلَى أَبَاطِحِ مَكَّةَ فَقَرُّوا عَلَى مِلَّتِكُمْ، فَقَدِ انْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِنِ اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا اور وہ مکہ کے بالائی حصہ میں تھے کہ جس نے ہجرت نہ کی اس کا کوئی دین نہیں، تو انہوں نے کہا کہ جب تک میں مدینہ میں نہیں جاتا اس سے پہلے میں گھر میں داخل نہیں ہوں گا۔ کہتے ہیں کہ وہ مدینہ میں آئے اور سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے ہاں اترے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو وہب! تجھے کیا چیز لے آئی؟“ تو انہوں نے کہا کہ میں نے یہ سنا ہے کہ جس نے ہجرت نہیں کی اس کا کوئی دین نہیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو وہب! بطحاء مکہ کی طرف لوٹ جاؤ اور اپنے گھروں میں سکون کرو کیونکہ ہجرت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے لیکن جہاد اور نیت باقی ہے اور جب تم کو (جہاد وغیرہ) کے لیے بلایا جائے تو پھر دیر نہ کرنا۔“ (قصہ کے علاوہ) [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17771]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17772
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ يَحْيَى الْآدَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٢٩⦘ مَاهَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ النُّعْمَانَ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ رَجُلٍ، سَمِعَ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ: لَيْسَ لَنَا أُجُورٌ بِمَكَّةَ. قَالَ:" لَيَأْتِيَنَّكُمْ أُجُورُكُمْ وَلَوْ كُنْتُمْ فِي جُحْرِ ثَعْلَبٍ".
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے لیے مکہ میں رہتے ہوئے کوئی اجر نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں تمہارا ضرور اجر ملے گا اگرچہ تم لومڑی کے بل میں بھی ہوئے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17772]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17773
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا فُدَيْكُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ فُدَيْكٍ، قَالَ: جَاءَ فُدَيْكٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ مَنْ لَمْ يُهَاجِرْ هَلَكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا فُدَيْكُ أَقِمِ الصَّلَاةَ، وَآتِ الزَّكَاةَ، وَاهْجُرِ السُّوءَ، وَاسْكُنْ مِنْ أَرْضِ قَوْمِكَ حَيْثُ شِئْتَ". قَالَ: وَأَظُنُّ أَنَّهُ قَالَ:" تَكُنْ مُهَاجِرًا"..
سیدنا فدیک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ جس نے ہجرت نہ کی وہ ہلاک ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فدیک! نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو اور برائی کو چھوڑ دو، پھر تمہارا جہاں دل چاہے تو اپنی قوم کی زمین میں رہو۔“ راوی کہتے ہیں کہ میرا یہ خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم یہ کام کرنے والے بن جاؤ گے تو تم مہاجر ہو جاؤ گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17773]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17774
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ فُدَيْكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، لَيْسَ فِي حَدِيثِ الزُّبَيْدِيِّ:" تَكُنْ مُهَاجِرًا".
یہ حدیث بھی پہلی حدیث کی طرح ہے، لیکن زبیدی کی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ ”تم مہاجر بن جاؤ گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17774]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17775
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُمَيْرٍ، ثنا الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْبَدْوِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، قَامَ عَلَيْنَا أُنَاسٌ مِنْ قَرَابَاتِنَا، فَزَعَمُوا أَنَّهُ لَا يَنْفَعُ عَمَلٌ دُونَ الْهِجْرَةِ وَالْجِهَادِ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَأَحْسِنُوا عِبَادَةَ اللهِ وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دیہات میں سے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے پاس ہمارے کچھ قریبی لوگ آئے اور انہوں نے آکر یہ دعویٰ کیا ہے کہ ہجرت اور جہاد کے بغیر کوئی عمل فائدہ مند نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاں کہیں بھی رہو، تم اللہ کی عبادت اچھے طریقے سے کرو اور اس پر جنت کی بشارت بھی حاصل کرلو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17775]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17776
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا رَوْحٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّهُ جَاءَ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، وَكَانَتْ مُجَاوِرَةً، قَالَ: فَقَالَ عُبَيْدٌ: أَيْ هَنْتَاهُ أَسْأَلُكِ عَنِ الْهِجْرَةِ، قَالَتْ: لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، إِنَّمَا كَانَتِ الْهِجْرَةُ قَبْلَ الْفَتْحِ حَيْثُ يُهَاجِرُ الرَّجُلُ بِدِينِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَّا حِينَ كَانَ الْفَتْحُ حَيْثُ شَاءَ الرَّجُلُ عَبَدَ اللهَ لَا يُمْنَعُ.
عطاء کہتے ہیں کہ میں عبید بن عمیر کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور وہ اعتکاف بیٹھی تھیں یا «مُجَاوَرَةِ» کا دوسرا ترجمہ ہے کہ وہ ان کے پڑوس میں رہتی تھیں، تو ان سے عبید نے کہا: اے «هَنْتَاهُ» ! (یعنی اے خاتون!) میں آپ سے ہجرت کے متعلق سوال کرتا ہوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں“، ہجرت تو فتح مکہ سے پہلے تھی جب آدمی اپنے دین کی خاطر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کرتا تھا، تو جب فتح ہو گئی ہے تو اب آدمی جہاں چاہے اللہ کی عبادت کر سکتا ہے، اسے عبادت سے منع نہیں کیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17776]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17777
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: زُرْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ فَسَأَلْتُهَا عَنِ الْهِجْرَةِ، قَالَتْ: لَا هِجْرَةَ الْيَوْمَ إِنَّمَا كَانَتِ الْهِجْرَةُ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ، وَكَانَ الْمُؤْمِنُونَ يَفِرُّونَ بِدِينِهِمْ ⦗٣٠⦘ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَنْ يُفْتَنُوا فَقَدْ أَفْشَى اللهُ الْإِسْلَامَ، فَحَيْثُ مَا شَاءَ رَجُلٌ عَبَدَ رَبَّهُ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ وَابْنِ جُرَيْجٍ. وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَعْنَى هَذَا، وَكُلُّ ذَلِكَ يَرْجِعُ إِلَى انْقِطَاعِ الْهِجْرَةِ وُجُوبًا عَنْ أَهْلِ مَكَّةَ وَغَيْرِهَا مِنَ الْبِلَادِ بَعْدَ مَا صَارَتْ دَارَ أَمْنٍ وَإِسْلَامٍ، فَأَمَّا دَارُ حَرْبٍ أَسْلَمَ فِيهَا مَنْ يَخَافُ الْفِتْنَةَ عَلَى دِينِهِ وَلَهُ مَا يُبَلِّغُهُ إِلَى دَارِ الْإِسْلَامِ فَعَلَيْهِ أَنْ يُهَاجِرَ.
سیدنا عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عبید بن عمیر کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کی تو انہوں نے ان سے ہجرت کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: آج کوئی ہجرت نہیں، ہجرت تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف کی جاتی تھی۔ جب مؤمنین کو ان کے دین کے حوالے سے فتنے میں ڈالا جاتا تھا تو وہ اپنے دین کو بچانے کے لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تھے۔ اب تو اللہ تعالیٰ نے اسلام کو اتنا پھیلا دیا ہے کہ آدمی جہاں چاہے اپنے رب کی عبادت کر سکتا ہے۔ اب تو ”جہاد اور نیت باقی ہے“۔
یہ تمام احادیث اہل مکہ سے ہجرت کے انقطاع کے وجوب کی طرف لوٹتی ہیں یا ان کے علاوہ ایسے شہر کی طرف لوٹتی ہیں جو دار الاسلام یا دار الامن بن گئے ہیں اور اگر کوئی آدمی دار الحرب میں ہے اور اس کو وہاں پر اسلام پر چلنا مشکل ہے تو اس کے لیے ہجرت باقی ہے کہ وہ وہاں سے ہجرت کر کے دار الاسلام میں آجائے اور اپنے دین کو بچا لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17777]
یہ تمام احادیث اہل مکہ سے ہجرت کے انقطاع کے وجوب کی طرف لوٹتی ہیں یا ان کے علاوہ ایسے شہر کی طرف لوٹتی ہیں جو دار الاسلام یا دار الامن بن گئے ہیں اور اگر کوئی آدمی دار الحرب میں ہے اور اس کو وہاں پر اسلام پر چلنا مشکل ہے تو اس کے لیے ہجرت باقی ہے کہ وہ وہاں سے ہجرت کر کے دار الاسلام میں آجائے اور اپنے دین کو بچا لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17777]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٣٠٩٠»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17778
وَفِي مِثْلِ ذَلِكَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أنبأ عِيسَى، عَنْ حَرِيزٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ حَتَّى تَنْقَطِعَ التَّوْبَةُ، وَلَا تَنْقَطِعُ التَّوْبَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا".
ابو ہند سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جب تک توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوگا اس وقت تک ہجرت کا دروازہ بھی بند نہیں ہوگا اور توبہ کا دروازہ اس وقت بند ہوگا جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17778]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17779
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ قَاضِي دِمَشْقَ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّعْدِيِّ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ حَسَلٍ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا نَزَلُوا قَالُوا: احْفَظْ لَنَا رِكَابَنَا حَتَّى نَقْضِيَ حَاجَتَنَا ثُمَّ تَدْخُلَ. وَكَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ فَقَضَى لَهُمْ حَاجَتَهُمْ، ثُمَّ قَالُوا لَهُ: ادْخُلْ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" حَاجَتُكَ؟". قَالَ: حَاجَتِي أَنْ تُخْبِرَنِي أَنْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ؟ قَالَ:" حَاجَتُكَ مِنْ خَيْرِ حَوَائِجِهِمْ، لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ مَا قُوتِلَ الْعَدُوُّ".
سیدنا عبداللہ بن سعدی رضی اللہ عنہ (جو مالک بن حسل قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں) فرماتے ہیں کہ میں اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ جب وہ اپنی سواریوں سے اترے تو انہوں نے کہا کہ آپ سواریوں کی حفاظت کریں۔ جب ہم اپنی حاجت پوری کریں گے تو تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے جانا اور اپنی ضرورت پوری کر لینا، اور میں سب سے چھوٹا تھا۔ جب وہ اپنی حاجت پوری کر کے آ گئے تو انہوں نے مجھے کہا کہ اب تم چلے جاؤ۔ کہتے ہیں کہ جب میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری کیا حاجت ہے؟“ میں نے کہا: میری حاجت اور سوال یہ ہے کہ آپ مجھے ہجرت کے متعلق بتائیے، کیا ہجرت منقطع ہو گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری حاجت ان کی حاجتوں میں سب سے بہتر ہے، جب تک دشمن سے قتال کیا جائے گا ہجرت منقطع نہیں ہوگی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17779]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره