🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3544. -- باب: الرخصة في الإقامة بدار الشرك لمن لا يخاف الفتنة
-- باب: اس شخص کے لیے دارالشرک میں قیام کی اجازت کے بیان میں جسے اپنے دین کے حوالے سے فتنے کا کوئی خوف نہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q17762
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لِأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِقَوْمٍ بِمَكَّةَ أَنْ يُقِيمُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ مِنْهُمُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَغَيْرُهُ إِذْ لَمْ يَخَافُوا الْفِتْنَةَ..
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں کچھ لوگوں کو ان کے اسلام لانے کے بعد وہیں مقیم رہنے کی اجازت دی تھی، جن میں سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ وغیرہ شامل تھے، کیونکہ انہیں (اپنے دین کے بارے میں) فتنے کا اندیشہ نہیں تھا۔“... [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: Q17762]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17762
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عِلَاقَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ:" كَانَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدْ أَسْلَمَ وَأَقَامَ عَلَى سِقَايَتِهِ وَلَمْ يُهَاجِرْ".
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا، آپ مکہ میں حاجیوں کو پانی پلانے والے عہدہ پر کام کرتے رہے اور ہجرت نہ کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17762]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17763
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ:" ثُمَّ إِنَّ أَبَا الْعَاصِ ⦗٢٦⦘ رَجَعَ إِلَى مَكَّةَ بَعْدَمَا أَسْلَمَ وَلَمْ يَشْهَدْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشْهَدًا، ثُمَّ قَدِمَ الْمَدِينَةَ بَعْدَ ذَلِكَ فَتُوُفِّيَ فِي ذِي الْحِجَّةِ مِنْ سَنَةِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَوْصَى إِلَى الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وكَانَ يَأْمُرُ جُيُوشَهُ أَنْ يَقُولُوا لِمَنْ أَسْلَمَ: إِنْ هَاجَرْتُمْ فَلَكُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ، وَإِنْ أَقَمْتُمْ فَأَنْتُمْ كَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ وَلَيْسَ يُخَيِّرُهُمْ إِلَّا فِيمَا يَحِلُّ لَهُمْ.
محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو العاص رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے کے بعد پھر مکہ میں لوٹ آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوے میں شرکت نہ کی۔ اس کے بعد پھر مدینہ میں آئے اور ذی الحجہ سن 12ھ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں وفات پائی اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو وصیت کی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ اپنے لشکروں کو حکم دیتے تھے کہ وہ اسلام قبول کرنے والوں سے کہیں کہ ”اگر تم نے ہجرت کی تو تم کو بھی وہی ملے گا جو مہاجرین کو ملتا ہے اور اگر تم نے ہجرت نہ کی تو تم دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہو گے۔“ اور وہ ان کو اختیار صرف اسی چیز میں دیتے تھے جو ان کے لیے جائز ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17763]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17764
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا عَلَى سَرِيَّةٍ أَوْ جَيْشٍ أَوْصَاهُ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ بِتَقْوَى اللهِ وَبِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا، وَقَالَ:" إِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَادْعُهُمْ إِلَى إِحْدَى ثَلَاثِ خِصَالٍ أَوْ خِلَالٍ فَأَيَّتُهُنَّ أَجَابُوكَ إِلَيْهَا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ، ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَإِنْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ، وَاعْلَمُوا أَنَّهُمْ إِنْ فَعَلُوا ذَلِكَ أَنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ، وَأَنَّ عَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ، فَإِنْ أَبَوْا وَاخْتَارُوا دَارَهُمْ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ مِثْلَ أَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللهِ الَّذِي كَانَ يَجْرِي عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، وَلَا يَكُونُ لَهُمْ فِي الْفَيْءِ وَالْغَنِيمَةِ نَصِيبٌ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ".. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ وَكِيعٍ، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ وَرَدَتْ أَخْبَارٌ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَعْنَى.
سیدنا سلیمان بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو لشکر پر امیر مقرر کر کے بھیجتے تو اسے خاص طور پر تقویٰ اختیار کرنے کا اور اپنے ساتھ والے مسلمانوں سے بھلائی کرنے کا حکم دیتے اور اسے یہ بھی حکم دیتے: ”جب تیری ملاقات اپنے مشرک دشمنوں سے ہو تو پہلے ان کو تین چیزوں کی دعوت دینا۔ اگر وہ تین میں سے کسی ایک کو بھی قبول کر لیں تو تم ان کی اس بات کو مان لینا اور ان سے قتال نہ کرنا۔ سب سے پہلے ان کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دینا۔ اگر وہ قبول کر لیں تو تم بھی ان سے ان کے اسلام کو قبول کرنا اور ان سے قتال نہ کرنا۔ پھر ان کو اس جگہ کو بدلنے کا حکم دینا اور ان کو دار الاسلام کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دینا اور ساتھ یہ بھی بتا دینا کہ اگر وہ یہ کام کرتے ہیں تو ان کے حقوق و فرائض ویسے ہی ہوں گے جیسے باقی مہاجرین کے ہیں، اور اگر وہ ہجرت سے انکار کریں اور اپنے وطن اور شہر کو پسند کریں تو ان سے کہنا کہ اس صورت میں تمہارے حقوق و فرائض دیہات کے مسلمان جیسے ہوں گے اور ان کا مالِ فئے اور مالِ غنیمت میں کوئی حصہ نہ ہو گا سوائے اس صورت کے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17764]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17765
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ السُّوسِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبَيْرُوتِيُّ، أنبأ أَبِي، أَخْبَرَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، ثنا الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَ:" إِنَّ الْهِجْرَةَ شَأْنُهَا شَدِيدٌ، فَهَلْ لَكَ إِبِلٌ؟". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" فَهَلْ تَمْنَحُ مِنْهَا؟". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" فَهَلْ تَحْلُبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا؟". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ فَإِنَّ اللهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی آیا، اس نے ہجرت کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہجرت کا معاملہ بڑا مشکل ہے، کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: جی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے کسی اونٹ کو عاریتاً دیتے ہو؟“ اس نے کہا: ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس کے ورود کے دن اس کا دودھ دوہتے ہو اور تقسیم کرتے ہو؟“ اس نے کہا: جی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر سمندروں کے پار سے بھی (یعنی جہاں کہیں رہو) اچھے اعمال کرتے رہو، اللہ تعالیٰ تیرے اعمال میں کچھ بھی کمی نہیں کرے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17765]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17766
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ أَبُو الْحُسَيْنِ، ثنا فُلَيْحٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَامَ رَمَضَانَ كَانَ عَلَى اللهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، هَاجَرَ فِي سَبِيلِ اللهِ أَوْ حُبِسَ فِي أَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ فِيهَا". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ أَفَلَا تُنْبِئُ النَّاسَ بِذَلِكَ؟ قَالَ:" إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِهِ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّهُ أَوْسَطُ الْجَنَّةِ وَأَعْلَى الْجَنَّةِ وَفَوْقَهُ عَرْشُ اللهِ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ صَالِحٍ، عَنْ وَلَدِهِ فُلَيْحٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا، نماز قائم کی اور رمضان کے روزے رکھے تو اللہ اسے ضرور جنت میں داخل کرے گا، چاہے وہ ہجرت کرے یا اپنی ہی پیدائش والی جگہ پر بیٹھا رہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم اس چیز کی لوگوں کو خبر نہ دے دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان مجاہدین کے لیے تیار کیے ہیں جو اس کے راستے میں جہاد کرتے ہیں اور ہر دو درجوں کا درمیانی فاصلہ اتنا ہے جتنا آسمان اور زمین کا ہے اور جب تم اللہ سے سوال کرو تو جنتِ فردوس کا سوال کرو کیونکہ یہ درمیانی اور سب سے اعلیٰ جنت ہے اور اس کے اوپر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے اور اسی سے ہی جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17766]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17767
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا جَرِيرٌ، ح وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَاءُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، بِهَا أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَكَّةَ:" لَا هِجْرَةَ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ وَعُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى. وَقَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا هِجْرَةَ" يَعْنِي وَاللهُ أَعْلَمَ: لَا هِجْرَةَ وُجُوبًا عَلَى مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ بَعْدَ فَتْحِهَا، فَإِنَّهَا قَدْ صَارَتْ دَارَ إِسْلَامٍ وَأَمْنٍ، فَلَا يَخَافُ أَحَدٌ فِيهَا أَنْ يُفْتَنَ عَنْ دِينِهِ، وَكَذَلِكَ غَيْرُ مَكَّةَ إِذَا صَارَ فِي مَعْنَاهَا بَعْدَ الْفَتْحِ فِي الْأَمْنِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فتح مکہ کے دن (آج کے بعد) کوئی ہجرت نہیں، لیکن جہاد اور نیت باقی ہے اور جب تمہیں (جہاد) کی طرف بلایا جائے تو پھر تم نکلو۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان «لَا هِجْرَةَ» ”کوئی ہجرت نہیں“ کا مطلب یہ ہے (اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے) کہ اہل مکہ میں سے جس نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا ہے اس پر کوئی ہجرت واجب نہیں کیونکہ یہ دارُ الاسلام اور دارُ الامن بن گیا ہے اور کسی کو اس کے دین کے متعلق اس شہر میں فتنے کا ڈر نہیں اور اسی طرح مکہ کے علاوہ دوسری جگہیں جب کہ وہ فتح ہونے کے بعد امن و امان کا گہوارہ بن جائیں (وہاں سے بھی ہجرت کرنا واجب نہیں)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17767]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17768
وَفِي مِثْلِ ذَلِكَ وَرَدَ مَا أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا سُوَيْدٌ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْجَارُودِيُّ، أنبأ بِشْرُ بْنُ آدَمَ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَاصِمٍ،، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُجَاشِعُ بْنُ مَسْعُودٍ السُّلَمِيُّ، قَالَ: جِئْتُ بِأَخِي أَبِي مَعْبَدٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْفَتْحِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ بَايِعْهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، قَالَ:" قَدْ مَضَتِ الْهِجْرَةُ لِأَهْلِهَا". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَعَلَى أِيِّ شَيْءٍ تُبَايِعُهُ؟ قَالَ:" عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ"، فَبَايَعَهُ. قَالَ أَبُو عُثْمَانَ: فَلَقِيتُ أَبَا مَعْبَدٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِ مُجَاشِعٍ، فَقَالَ: صَدَقَ. ⦗٢٨⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ سَعِيدٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ.
سیدنا مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے بھائی سیدنا ابو معبد رضی اللہ عنہ کو فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا اور میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ان سے ہجرت پر بیعت لیں“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہجرت جنہوں نے کرنی تھی انہوں نے کر لی اور (اب ہجرت نہیں)“ تو میں نے کہا: ”یا رسول اللہ! تو پھر آپ ان سے کس چیز پر بیعت لیں گے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام، جہاد اور خیر پر“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بیعت لی۔ ابو عثمان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میری ملاقات سیدنا ابو معبد رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے ان کو سیدنا مجاشع رضی اللہ عنہ کے قول کی خبر دی تو انہوں نے کہا کہ مجاشع نے سچ کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17768]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17769
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُنْيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: جِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَانِيَ يَوْمِ الْفَتْحِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ بَايِعْ أَبِي عَلَى الْهِجْرَةِ، قَالَ:" بَلْ أُبَايِعُهُ عَلَى الْجِهَادِ، وَقَدِ انْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ يَوْمَ الْفَتْحِ". كَذَا وَجَدْتُهُ، وَإِنَّمَا هُوَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
سیدنا یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں فتح مکہ کے دوسرے دن اپنے والد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! میرے والد سے ہجرت پر بیعت لیجیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ میں ان سے جہاد پر بیعت لیتا ہوں کیونکہ ہجرت فتح مکہ کے دن سے منقطع ہوگئی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17769]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17770
أَخْبَرَنَاه أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عَقِيلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ يَعْلَى، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ يَعْلَى قَالَ: كَلَّمْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي أُمَيَّةُ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، بَايِعْ أَبِي عَلَى الْهِجْرَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلْ أُبَايِعُهُ عَلَى الْجِهَادِ؛ فَقَدِ انْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ". وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَيَّةَ: ابْنُ أَخِي يَعْلَى.
سیدنا یعلیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے امیہ کے بارے میں بات کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے باپ سے ہجرت پر بیعت لیجیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہجرت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے، لیکن میں ان سے جہاد پر بیعت لیتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17770]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں