🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3556. -- باب: ما جاء في تجهيز الغازي وأجر الجاعل
-- باب: غازی کو سامانِ جنگ مہیا کرنے اور اجرت مقرر کرنے والے کے اجر و ثواب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17841
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا الْحُسَيْنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللهِ فَقَدْ غَزَا، وَمَنْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ فَقَدْ غَزَا". لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ، وَحَدِيثُ رَوْحٍ مِثْلُهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ عَنْ عَنْ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنِ الرَّبِيعِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، عَنْ حُسَيْنٍ.
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے غازی کو تیار کیا، اس نے جہاد کیا اور جس نے اس کے اہل خانہ کی بہتر کفالت کی، اس نے بھی جہاد کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17841]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17842
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي أُرِيدُ الْجِهَادَ وَلَيْسَ مَعِي مَا أَتَجَهَّزُ بِهِ. فَقَالَ:" إِنَّ فُلَانًا قَدْ تَجَهَّزَ ثُمَّ مَرِضَ فَاذْهَبْ إِلَيْهِ، فَقُلْ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ، وَيَأْمُرُكَ أَنْ تُعْطِيَنِي مَا أَتَجَهَّزُ بِهِ". فَأَتَاهُ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: انْظُرِي أَنْ تُعْطِيَهُ مَا جَهَّزْتِنِي بِهِ وَلَا تَحْبِسِي مِنْهُ شَيْئًا فَيُبَارِكَ اللهُ لَكِ فِيهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ عَفَّانَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنو اسلم سے ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: میں جہاد پر جانے کا ارادہ رکھتا ہوں مگر میرے پاس زادِ راہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فلاں آدمی نے جہاد کی تیاری کی، پھر وہ بیمار ہو گیا، تو اس کے پاس جا اور اس کو کہہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تجھے سلام کہتے ہیں اور تجھے حکم دیتے ہیں کہ زادِ راہ مجھے دے دے جس سے میں جہاد کی تیاری کر سکوں۔“ وہ آدمی اس کے پاس گیا اور اس کو (یہ پیغام) کہا، تو اس نے اپنی بیوی سے کہا: جو کچھ میرے لیے تیار کیا تھا وہ اسے دے دو اور کوئی چیز روک کر نہ رکھنا، اللہ تجھے برکت دے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17842]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17843
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ⦗٤٩⦘ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ أُبْدِعَ بِي فَاحْمِلْنِي. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" لَيْسَ عِنْدِي". فَقَالَ رَجُلٌ: أَلَا أَدُلُّكَ يَا رَسُولَ اللهِ عَلَى مَنْ يَحْمِلُهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ أَجْرٌ مِثْلُ فَاعِلِهِ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةُ: أُبْدِعَ بِي: يَقُولُ: قُطِعَ بِي. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ.
(الف) سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آ کر کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں تھک گیا ہوں، مجھے سواری دیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس نہیں ہے۔“ ایک آدمی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں ایسا آدمی بتاؤں جو اس کو سواری دے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلائی کی طرف رہنمائی کرنے والا اور اس پر عمل کرنے والا اجر میں برابر ہیں۔“
(ب) ایک اور روایت میں ابو معاویہ کہتے ہیں: ”میں تھک گیا ہوں“ کی بجائے ”میرا راستہ روک دیا گیا“ (کہا)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17843]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17844
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، فَذَكَرَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ:" مَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكَ، وَلَكِنِ ائْتِ فُلَانًا". فَأَتَاهُ فَحَمَلَهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ:" مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ".
اعمش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس کچھ نہیں جو میں تم کو سواروں کے لیے دوں، ہاں تم فلاں آدمی کے پاس جاؤ۔“ وہ گیا، اس آدمی نے اس کو سواری دے دی۔ یہ آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلائی کی طرف راہنمائی کرنے والا اور اس پر عمل کرنے والا اجر میں برابر ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17844]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17845
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالَا: ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ الْكِنْدِيِّ التُّجِيبِيِّ، عَنِ ابْنِ شُفَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لِلْغَازِي أَجْرُهُ، وَلِلْجَاعِلِ أَجْرُهُ وَأَجْرُ الْغَازِي". وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" قَفْلَةٌ كَغَزْوَةٍ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غازی کے لیے اس کا اجر ہے اور (غازی کو) خرچ دے کر بھیجنے والے کے لیے اس کا اپنا اجر بھی ہے اور غازی کا اجر بھی۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جہاد سے) واپس لوٹنا بھی جہاد کی طرح ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17845]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17846
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ أَبُو النَّضْرِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو زُرْعَةَ يَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: نَادَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَخَرَجْتُ إِلَى أَهْلِي وَأَقْبَلْتُ، وَقَدْ خَرَجَ أَوَّلُ صَحَابَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَفِقْتُ فِي الْمَدِينَةِ أُنَادِي، أَلَا مَنْ يَحْمِلُ رَجُلًا لَهُ سَهْمُهُ؟ فَنَادَى شَيْخٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ:" لَنَا سَهْمُهُ عَلَى أَنْ نَحْمِلَهُ عُقْبَتَهُ وَطَعَامُهُ مَعَنَا". قُلْتُ: نَعَمْ، فَسِرْ عَلَى بَرَكَةِ اللهِ، فَخَرَجْتُ مَعَ خَيْرِ صَاحِبٍ حَتَّى أَفَاءَ اللهُ عَلَيْنَا، فَأَصَابَنِي قَلَائِصُ فَسُقْتُهُنَّ حَتَّى أَتَيْتُهُ، فَخَرَجَ، فَقَعَدَ عَلَى حَقِيبَةٍ مِنْ حَقَائِبِ إِبِلِهِ، ثُمَّ قَالَ:" سُقْهُنَّ مُدْبِرَاتٍ"، ثُمَّ قَالَ:" سُقْهُنَّ مُقْبِلَاتٍ"، فَقَالَ:" مَا أَرَى قَلَائِصَكَ إِلَّا كِرَامًا". قَالَ: إِنَّمَا هِيَ غَنِيمَتُكَ الَّتِي شَرَطْتُ. قَالَ:" خُذْ قَلَائِصَكَ ابْنَ أَخِي، فَغَيْرَ سَهْمِكَ أَرَدْنَا". ⦗٥٠⦘ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: فَغَيْرَ سَهْمِكَ أَرَدْنَا يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ أَرَادَ أَنَّا لَمْ نَقْصِدْ بِمَا فَعَلْنَا الْإِجَارَةَ، وَإِنَّمَا قَصَدْنَا الِاشْتِرَاكَ فِي الْأَجْرِ وَالثَّوَابِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے لیے منادی فرمائی۔ میں اپنے گھر گیا، جب واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی ساتھی جا چکے تھے۔ میں نے مدینہ کا چکر لگایا اور اعلان کیا کہ جو شخص ایک آدمی کو سواری دے، اس کا حصہ سواری دینے والے کا ہو گا۔ انصار کے ایک معزز آدمی نے کہا کہ اس کا حصہ ہمارا ہو گا، اس کے بدلے میں ہم اس کو سواری دیں گے اور اس کا کھانا ہمارے ساتھ ہو گا۔ میں نے اسے قبول کر لیا، اس نے کہا: چلو اللہ کی برکت کے ساتھ۔ میں اپنے بہترین ساتھی کے ساتھ نکلا، ہمیں لڑائی کے بغیر ہی مال ملا اور مجھے کچھ اونٹنیاں ملیں۔ میں ان کو ہانکتا ہوا اس کے پاس آیا، وہ نکلا اور اونٹ کے کجاوے پر بیٹھ گیا۔ پھر اس نے کہا: ان کو پیچھے کی طرف ہانکو، پھر کہا: ان کو آگے کی طرف ہانکو۔ اور کہا کہ آپ کی اونٹنیاں بہترین ہیں، تو میں نے کہا: یہ وہ نفع ہے جس کی میں نے آپ کے ساتھ شرط لگائی تھی، یہ غنیمت آپ ہی کی ہے۔ تو اس نے کہا: اے میرے بھتیجے! اپنی اونٹنیاں لے جاؤ، ہم نے اس کے علاوہ حصہ کا ارادہ کیا تھا۔ شیخ رحمہ اللہ کہتے ہیں «فَغَيْرَ سَهْمِكَ أَرَدْنَا» کا مطلب ہے کہ ہم اجرت میں حصہ نہیں چاہتے تھے بلکہ ہمارا مقصد تو اجر و ثواب میں شریک ہونا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17846]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں