🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3584. -- باب: بيع الطعام في دار الحرب
-- باب: دار الحرب میں کھانا فروخت کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18000
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي أُسَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الدُّرَيْكِ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ مُحَيْرِيزٍ عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ وَالْعَلَفِ بِأَرْضِ الرُّومِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" إِنَّ رِجَالًا يُرِيدُونَ أَنْ يُزِيلُونِي عَنْ دِينِي وَاللهِ لَا يَكُونُ ذَلِكَ حَتَّى أَلْقَى مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ، مَنْ بَاعَ طَعَامًا أَوْ عَلَفًا بِأَرْضِ الرُّومِ مِمَّا أَصَابَ مِنْهَا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ فَفِيهِ خُمُسُ اللهِ، وَفَيْءُ الْمُسْلِمِينَ".
خالد بن دریک رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ابن محیریز رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا روم کے علاقہ میں طعام اور جانوروں کے چارہ وغیرہ فروخت ہو سکتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ کچھ لوگ مجھے میرے دین سے پھسلانا چاہتے ہیں، یہ نہیں ہوگا حتیٰ کہ مجھے موت آ جائے اور میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں سے ملوں، جو کوئی روم کے علاقہ میں وہاں سے حاصل شدہ طعام یا چارہ سونے یا چاندی کے عوض فروخت کرے گا، اس میں اللہ کا خمس بھی ہے اور مسلمانوں کا مالِ فیئ بھی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18000]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18001
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ دُرَيْكٍ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" إِنَّ نَاسًا يُرِيدُونَ أَنْ يَسْتَزِلُّونِي عَنْ دِينِي وَإِنِّي وَاللهِ لَأَرْجُو أَنْ لَا أَزَالَ عَلَيْهِ حَتَّى أَمُوتَ، مَا كَانَ مِنْ شَيْءٍ بِيعَ بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ فَفِيهِ خُمُسُ اللهِ وَسِهَامُ الْمُسْلِمِينَ".
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کچھ لوگ مجھے میرے دین سے پھیرنا چاہتے ہیں اور اللہ کی قسم! میں مرنے تک اسی پر رہنے کی امید کرتا ہوں۔ کوئی بھی چیز جس کو سونے یا چاندی کے بدلے میں فروخت کیا جائے اس میں اللہ کا خمس اور مسلمانوں کا حصہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18001]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18002
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُقْبِلِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ هَانِئِ بْنِ كُلْثُومٍ، أَنَّ صَاحِبَ جَيْشِ الشَّامِ حِينَ فُتِحَتِ الشَّامُ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّا فَتَحْنَا أَرْضًا كَثِيرَةَ الطَّعَامِ وَالْعَلَفِ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَقَدَّمَ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ إِلَّا بِأَمْرِكَ فَاكْتُبْ إِلِيَّ بِأَمْرِكَ فِي ذَلِكَ. فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" أَنْ دَعِ النَّاسَ يَأْكُلُونَ وَيَعْلِفُونَ، فَمَنْ بَاعَ شَيْئًا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ فَفِيهِ خُمُسُ اللهِ وَسِهَامُ الْمُسْلِمِينَ".
ہانی بن کلثوم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شام کو فتح کرنے کے بعد لشکر کے امیر نے عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا: ہم نے طعام کی کثرت اور مویشیوں کے چارے کی کثرت والے علاقے کو فتح کیا ہے۔ میں آپ کے حکم کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتا، لہٰذا آپ ہمارے لیے احکامات لکھ دیں، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لکھا: لوگوں کو کھانے سے اور چارہ حاصل کرنے سے نہ روکو اور جو چیز سونے چاندی کے عوض فروخت کی جائے اس میں خمس بھی ہوگا مسلمانوں کا حصہ بھی ہوگا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18002]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں