السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3594. -- باب: المنع من إحراق المشركين بالنار بعد الإسار
-- باب: مشرکین کو قید کرنے کے بعد آگ میں جلانے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 18062
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبِسْطَامِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ، وَأَيُّوبَ، وَعَمَّارًا الدُّهْنِيَّ اجْتَمَعُوا، فَتَذَاكَرُوا الَّذِينَ حَرَقَهُمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَحَدَّثَ أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ بَلَغَهُ، قَالَ: لَوْ كُنْتُ أَنَا مَا حَرَقْتُهُمْ؛ لِقَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللهِ"، وَلَقَتَلْتُهُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ". فَقَالَ عَمَّارٌ: لَمْ يَحْرِقْهُمْ، وَلَكِنْ حَفَرَ لَهُمْ حَفَائِرَ وَخَرَقَ بَعْضَهَا إِلَى بَعْضٍ، ثُمَّ دَخَّنَ عَلَيْهِمْ حَتَّى مَاتُوا. فَقَالَ عَمْرٌو: قَالَ الشَّاعِرُ:.
سفیان کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار، ایوب اور عمار دہنی کو دیکھا، وہ سب اکٹھے تھے، انہوں نے ان لوگوں کے بارے میں مذاکرہ کیا جن کو علی رضی اللہ عنہ نے جلا دیا تھا۔
(ب) عکرمہ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں: اگر میں ہوتا تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کی وجہ سے نہ جلاتا کہ ”تم اللہ کے عذاب کے ساتھ عذاب نہ دو“ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی وجہ سے قتل کر دیتا کہ ”جو مرتد ہو جائے (اپنا دین بدل لے) اسے قتل کر دو۔“ عمار کہتے ہیں: ان کو جلایا نہیں گیا تھا بلکہ ان کے لیے گڑھے کھودے گئے جن کے اندر سوراخ کر دیے گئے تھے، پھر ان پر دھواں چھوڑ دیا گیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ عمرو نے کہا کہ شاعر نے کہا ہے: تو مجھے جیسے چاہے موت کے آگے ڈال دے، جب کہ تو نے مجھے دو گڑھوں میں نہ ڈالا ہو جب انہوں نے لکڑیوں اور آگ کو اکٹھا کر دیا ہو، تو پھر موت فوراً آتی ہے، دیر نہیں کرتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18062]
(ب) عکرمہ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں: اگر میں ہوتا تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کی وجہ سے نہ جلاتا کہ ”تم اللہ کے عذاب کے ساتھ عذاب نہ دو“ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی وجہ سے قتل کر دیتا کہ ”جو مرتد ہو جائے (اپنا دین بدل لے) اسے قتل کر دو۔“ عمار کہتے ہیں: ان کو جلایا نہیں گیا تھا بلکہ ان کے لیے گڑھے کھودے گئے جن کے اندر سوراخ کر دیے گئے تھے، پھر ان پر دھواں چھوڑ دیا گیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ عمرو نے کہا کہ شاعر نے کہا ہے: تو مجھے جیسے چاہے موت کے آگے ڈال دے، جب کہ تو نے مجھے دو گڑھوں میں نہ ڈالا ہو جب انہوں نے لکڑیوں اور آگ کو اکٹھا کر دیا ہو، تو پھر موت فوراً آتی ہے، دیر نہیں کرتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18062]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18063
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِيَادِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ النَّصِيبِيُّ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ، ح وَأنبأ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْثٍ، وَقَالَ:" إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا وَفُلَانًا، لِرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ، فَاحْرِقُوهُمَا بِالنَّارِ". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَرَدْنَا الْخُرُوجَ:" إِنِّي كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ أَنْ تَحْرِقُوا فُلَانًا وَفُلَانًا بِالنَّارِ، وَإِنَّ النَّارَ لَا يُعَذِّبُ بِهَا إِلَّا اللهُ، فَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمَا فَاقْتُلُوهُمَا"." لَفْظُهُمَا سَوَاءٌ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کسی لشکر میں بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم دو فلاں قریشیوں کو پاؤ تو آگ سے جلا دینا۔“ پھر جب جانے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں فلاں فلاں کو آگ سے جلانے کا حکم دیا تھا لیکن آگ کا عذاب صرف اللہ رب العزت ہی دے سکتے ہیں، اگر تم انہیں پالو تو قتل کر دینا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18063]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٣٠١٦»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18064
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، أنبأ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّ زِيَادَ بْنَ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا الزِّنَادِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ حَنْظَلَةَ بْنَ عَلِيٍّ أَخْبَرَهُ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا فَقَالَ:" إِنْ أَصَبْتَ فُلَانًا أَوْ فُلَانًا فَأَحْرِقُوهُ بِالنَّارِ". فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ، فَقَالَ:" إِنَّهُ لَا يُعَذِّبُ بِالنَّارِ إِلَّا رَبُّهَا". وَرَوَاهُ مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ.
سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بھیجا کہ ”اگر فلاں فلاں کو پاؤ تو آگ سے جلا دینا۔“ جب وہ جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: ”آگ کا عذاب آگ کا رب ہی دے سکتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18064]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18065
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّرَهُ عَلَى سَرِيَّةٍ، قَالَ: فَخَرَجْتُ فِيهَا، وَقَالَ:" إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا فَأَحْرِقُوهُ بِالنَّارِ". فَوَلَّيْتُ فَنَادَانِي فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا فَاقْتُلُوهُ وَلَا تَحْرِقُوهُ؛ فَإِنَّهُ لَا يُعَذِّبُ بِالنَّارِ إِلَّا رَبُّ النَّارِ"." وَأَمَّا حَدِيثُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حَيْثُ أَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْرِقَ عَلَى أُبْنَى، وَمَا رُوِيَ فِي نَصْبِ الْمَنْجَنِيقِ عَلَى الطَّائِفِ فَغَيْرُ مُخَالِفٍ لِمَا قُلْنَا، إِنَّمَا هُوَ فِي قِتَالِ الْمُشْرِكِينَ مَا كَانُوا مُمْتَنِعِينَ، وَمَا رُوِيَ مِنَ النَّهْيِ فِي الْمُشْرِكِينَ إِذَا كَانُوا مَأْسُورِينَ، وَشَبَّهَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ بِرَمْيِ الصَّيْدِ مَا دَامَ عَلَى الِامْتِنَاعِ، ثُمَّ النَّهْيِ عَنْ رَمْيِ الدَّجَاجَةِ الَّتِي لَيْسَتْ بِمُمْتَنِعَةٍ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ".
محمد بن حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک لشکر کا امیر بنایا۔ وہ کہتے ہیں: میں اس لشکر میں گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم فلاں کو پا لو تو آگ سے جلا دینا۔“ میں جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی۔ میں آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم فلاں کو پا لو تو قتل کر دینا، جلانا نہیں؛ کیونکہ آگ کا عذاب اس کا رب ہی دے سکتا ہے۔“
(ب) اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی حدیث جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اُبنیٰ (نامی بستی) کو جلانے کا حکم دیا اور طائف پر منجنیق نصب کرنے کی جو روایت ہے، وہ ہمارے قول کے مخالف نہیں ہے۔ وہ صرف مشرکین سے قتال کے بارے میں ہے، جب تک وہ (مقابلہ کرتے ہوئے) قابو سے باہر ہوں اور (آگ سے عذاب دینے کی) ممانعت مشرکین کے بارے میں اس وقت ہے جب وہ قیدی ہوں۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے اسے شکار کو تیر مارنے سے تشبیہ دی ہے جب تک وہ قابو سے باہر ہو، پھر اس مرغی کو تیر مارنے کی ممانعت ہے جو قابو سے باہر نہ ہو (یعنی بندھی ہوئی ہو)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18065]
(ب) اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی حدیث جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اُبنیٰ (نامی بستی) کو جلانے کا حکم دیا اور طائف پر منجنیق نصب کرنے کی جو روایت ہے، وہ ہمارے قول کے مخالف نہیں ہے۔ وہ صرف مشرکین سے قتال کے بارے میں ہے، جب تک وہ (مقابلہ کرتے ہوئے) قابو سے باہر ہوں اور (آگ سے عذاب دینے کی) ممانعت مشرکین کے بارے میں اس وقت ہے جب وہ قیدی ہوں۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے اسے شکار کو تیر مارنے سے تشبیہ دی ہے جب تک وہ قابو سے باہر ہو، پھر اس مرغی کو تیر مارنے کی ممانعت ہے جو قابو سے باہر نہ ہو (یعنی بندھی ہوئی ہو)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18065]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح