🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3594. -- باب: المنع من إحراق المشركين بالنار بعد الإسار
-- باب: مشرکین کو قید کرنے کے بعد آگ میں جلانے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18065
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّرَهُ عَلَى سَرِيَّةٍ، قَالَ: فَخَرَجْتُ فِيهَا، وَقَالَ:" إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا فَأَحْرِقُوهُ بِالنَّارِ". فَوَلَّيْتُ فَنَادَانِي فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا فَاقْتُلُوهُ وَلَا تَحْرِقُوهُ؛ فَإِنَّهُ لَا يُعَذِّبُ بِالنَّارِ إِلَّا رَبُّ النَّارِ"." وَأَمَّا حَدِيثُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حَيْثُ أَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْرِقَ عَلَى أُبْنَى، وَمَا رُوِيَ فِي نَصْبِ الْمَنْجَنِيقِ عَلَى الطَّائِفِ فَغَيْرُ مُخَالِفٍ لِمَا قُلْنَا، إِنَّمَا هُوَ فِي قِتَالِ الْمُشْرِكِينَ مَا كَانُوا مُمْتَنِعِينَ، وَمَا رُوِيَ مِنَ النَّهْيِ فِي الْمُشْرِكِينَ إِذَا كَانُوا مَأْسُورِينَ، وَشَبَّهَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ بِرَمْيِ الصَّيْدِ مَا دَامَ عَلَى الِامْتِنَاعِ، ثُمَّ النَّهْيِ عَنْ رَمْيِ الدَّجَاجَةِ الَّتِي لَيْسَتْ بِمُمْتَنِعَةٍ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ".
محمد بن حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک لشکر کا امیر بنایا۔ وہ کہتے ہیں: میں اس لشکر میں گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم فلاں کو پا لو تو آگ سے جلا دینا۔“ میں جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی۔ میں آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم فلاں کو پا لو تو قتل کر دینا، جلانا نہیں؛ کیونکہ آگ کا عذاب اس کا رب ہی دے سکتا ہے۔“
(ب) اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی حدیث جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اُبنیٰ (نامی بستی) کو جلانے کا حکم دیا اور طائف پر منجنیق نصب کرنے کی جو روایت ہے، وہ ہمارے قول کے مخالف نہیں ہے۔ وہ صرف مشرکین سے قتال کے بارے میں ہے، جب تک وہ (مقابلہ کرتے ہوئے) قابو سے باہر ہوں اور (آگ سے عذاب دینے کی) ممانعت مشرکین کے بارے میں اس وقت ہے جب وہ قیدی ہوں۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے اسے شکار کو تیر مارنے سے تشبیہ دی ہے جب تک وہ قابو سے باہر ہو، پھر اس مرغی کو تیر مارنے کی ممانعت ہے جو قابو سے باہر نہ ہو (یعنی بندھی ہوئی ہو)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18065]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18065 in Urdu