السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3604. -- باب: قطع الشجر وحرق المنازل
-- باب: درخت کاٹنے اور مکانات جلانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18120
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَأَنَا أَسْمَعُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو بَصْرِيٌّ وَكَانَ حَافِظًا، ثنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاصَرَ أَهْلَ الطَّائِفِ، وَنَصَبَ عَلَيْهِمُ الْمَنْجَنِيقَ سَبْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا" قَالَ أَبُو قِلَابَةَ:" وَكَانَ يُنْكَرُ عَلَيْهِ هَذَا الْحَدِيثُ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" فَكَأَنَّهُ كَانَ يُنْكَرُ عَلَيْهِ وَصْلُ إِسْنَادِهِ، وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ إِنَّمَا أَنْكَرَ رَمْيَهُمْ يَوْمَئِذٍ بِالْمَجَانِيقِ" فَقَدْ رَوَى أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى هُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَاصَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا. قُلْتُ: فَبَلَغَكَ أَنَّهُ رَمَاهُمْ بِالْمَجَانِيقِ؟ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ، وَقَالَ: مَا يُعْرَفُ هَذَا. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" كَذَا قَالَ يَحْيَى إِنَّهُ لَمْ يَبْلُغْهُ، وَزَعَمَ غَيْرُهُ أَنَّهُ بَلَغَهُ. رَوَى أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصَبَ الْمَجَانِيقَ عَلَى أَهْلِ الطَّائِفِ. وَقَدْ ذَكَرَهُ الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ..
ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سترہ دن طائف والوں کا محاصرہ فرمایا اور ان کے لیے منجنیق نصب فرمائی۔ ابو قلابہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان پر اس حدیث کا انکار کیا گیا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: حدیث کی سند کے متصل ہونے کا انکار اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس دن منجنیق سے پتھر پھینکنے کا انکار کیا گیا ہو۔ ابن ابی کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک ان کا محاصرہ فرمایا۔ میں نے کہا: کیا آپ کو یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر منجنیق کے ذریعہ پتھر برسائے؟ انہوں نے اس کا انکار کیا اور فرمایا: ”یہ معروف نہیں۔“
مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل طائف پر منجنیق کو نصب فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18120]
شیخ فرماتے ہیں: حدیث کی سند کے متصل ہونے کا انکار اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس دن منجنیق سے پتھر پھینکنے کا انکار کیا گیا ہو۔ ابن ابی کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک ان کا محاصرہ فرمایا۔ میں نے کہا: کیا آپ کو یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر منجنیق کے ذریعہ پتھر برسائے؟ انہوں نے اس کا انکار کیا اور فرمایا: ”یہ معروف نہیں۔“
مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل طائف پر منجنیق کو نصب فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18120]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18121
أَخْبَرَنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، فَذَكَرَهُمَا، وَقَدْ ذَكَرَهُ الْوَاقِدِيُّ عَنْ شُيُوخِهِ، كَمَا ذَكَرَهُ مَكْحُولٌ، وَزَعَمَ أَنَّ الَّذِي أَشَارَ بِهِ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ.
یہ دونوں حدیثیں امام ابو داود رحمہ اللہ نے ذکر کی ہیں۔ واقدی نے بھی اپنے شیوخ سے اسی طرح ذکر کیا ہے جیسے مکحول رحمہ اللہ نے ذکر کیا، اور ان کا کہنا ہے کہ اس کا مشورہ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے دیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18121]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18122
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، فِي فَتْحِ قَيْسَارِيَةَ، قَالَ: فَكَانُوا يَرْمُونَهَا فِي كُلِّ يَوْمٍ بِسِتِّينَ مَنْجَنِيقًا وَذَلِكَ فِي زَمَنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ فَتَحَ اللهُ عَلَى يَدَيْ مُعَاوِيَةَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو".
حارث بن یزید اور یزید بن ابی حبیب قیساریہ کی فتح کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ ہر روز ساٹھ منجنیقوں سے اس پر پتھر برساتے تھے۔ یہ عمر رضی اللہ عنہ کے دور کی بات تھی۔ یہاں تک کہ امیر معاویہ اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے ہاتھ فتح ہوئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18122]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18123
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا أَبُو رَبِيعَةَ الْعَامِرِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ ⦗١٤٥⦘ هَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُغَوِّرَ مَاءَ آبَارِ بَدْرٍ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يُوسُفُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ هَارُونَ. وَيُوسُفُ، وَأَبُو رَبِيعَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ ضَعِيفَانِ. وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ:" اسْتَشَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ، فَقَالَ الْحُبَابُ بْنُ الْمُنْذِرِ: نَرَى أَنْ تُغَوَّرَ الْمِيَاهُ كُلُّهَا غَيْرَ مَاءٍ وَاحِدٍ، فَنَلْقَى الْقَوْمَ عَلَيْهِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں بدر کے کنوؤں کا پانی بند کر دوں (یعنی انہیں پاٹ دوں)۔
(ب) یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن مشورہ لیا تو حباب بن منذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہمارے خیال میں آپ تمام پانی بند کر دیں، سوائے ایک پانی کے اس پر ہم قوم سے ملاقات کریں گے۔
ابو ربیعہ محمد بن عوف اور یوسف بن خالد (جنہوں نے بھی اسے ہارون سے روایت کیا ہے) دونوں ضعیف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18123]
(ب) یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن مشورہ لیا تو حباب بن منذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہمارے خیال میں آپ تمام پانی بند کر دیں، سوائے ایک پانی کے اس پر ہم قوم سے ملاقات کریں گے۔
ابو ربیعہ محمد بن عوف اور یوسف بن خالد (جنہوں نے بھی اسے ہارون سے روایت کیا ہے) دونوں ضعیف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18123]
تخریج الحدیث: «موضوع»
الحكم على الحديث: موضوع
حدیث نمبر: 18124
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، قَالَ:" كَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْمُرُ أُمَرَاءَهُ حِينَ كَانَ يَبْعَثُهُمْ فِي الرِّدَّةِ:" إِذَا غَشِيتُمْ دَارًا" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَى أَنْ قَالَ:" فَشُنُّوهَا غَارَةً فَاقْتُلُوا، وَأَحْرِقُوا، وَانْهَكُوا فِي الْقَتْلِ وَالْجِرَاحِ، لَا يُرَى بِكُمْ وَهَنٌ لِمَوْتِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
طلحہ بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جب ارتداد کے خلاف لشکر روانہ فرماتے تو امراء کو حکم دیتے کہ جب تم کسی علاقہ پر حملہ کرو تو ہر طرف سے حملہ کرو، قتل کرو، جلاؤ اور قتل و زخمی کرنے میں مبالغہ کرو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کی وجہ سے تمہارے اندر کمزوری ظاہر نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18124]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف