🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3612. -- باب: أمان المرأة
-- باب: عورت کی طرف سے امان دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18173
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِيُّ، أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، ثنا أَبُو سُلَيْمَانَ دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ بِخَسْرُوجَرْدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ أَبِي النَّضْرِ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَقُولُ: ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ عَلَيْهَا السَّلَامُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ، قَالَتْ: فَسَلَّمْتُ، فَقَالَ:" مَنْ هَذِهِ؟". فَقُلْتُ: أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ:" مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ". فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، زَعَمَ ابْنُ أُمِّي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلًا أَجَرْتُهُ فُلَانَ بْنَ هُبَيْرَةَ. قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ". قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ: وَذَلِكَ ضُحًى." لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَفِي حَدِيثِ الْقَعْنَبِيِّ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقُلْتُ، وَالْبَاقِي سَوَاءٌ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، جب میں وہاں پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل فرما رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ایک کپڑے کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پردہ کیا ہوا تھا، میں نے سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کون ہے؟“ میں نے جواب دیا: میں ام ہانی بنت ابی طالب ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام ہانی کے لیے خوش آمدید!“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر ایک کپڑے میں لپٹ کر آٹھ رکعت نفل ادا کیے، پھر میری جانب متوجہ ہوئے، میں نے عرض کیا کہ میرا بھائی علی رضی اللہ عنہ کہتا ہے کہ وہ ایک شخص فلاں بن ہبیرہ کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جسے میں نے پناہ دی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام ہانی! جس شخص کو تو نے پناہ دی ہے، اسے ہم بھی پناہ دیتے ہیں۔“ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہ چاشت کا وقت تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18173]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18174
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أَجَرْتُ حَمْوَيْنِ لِي مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَدَخَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَتَفَلَّتَ عَلَيْهِمَا لِيَقْتُلَهُمَا، وَقَالَ: لِمَ تُجِيرِي الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَتْ: وَاللهِ لَا تَقْتُلُهُمَا حَتَّى تَبْدَأَ بِي قَبْلَهُمَا. فَخَرَجَتْ، وَقَالَتْ: أَغْلِقُوا دُونَهُ الْبَابَ، وَذَهَبَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَتْهُ، فَقَالَ:" مَا كَانَ ذَلِكَ لَهُ، وَقَدْ أَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ وَأَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ".
ابو مرہ، عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے غلام فرماتے ہیں کہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے اپنے دو مشرک دیوروں کو پناہ دی تو علی رضی اللہ عنہ نے دونوں کے قتل کا ارادہ کیا اور کہا: تو نے مشرکین کو کیوں پناہ دی ہے۔ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے کہا: ان کے قتل سے پہلے مجھے قتل کرو۔ پھر وہ باہر نکلیں اور کہا: اس (علی رضی اللہ عنہ) کے آگے دروازہ بند کر دو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام ہانی! اسے اس کا حق نہیں تھا۔ جس کو تو نے امن دیا ہم بھی امن دیتے ہیں، جس کو تو نے پناہ دی ہم بھی پناہ دیتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18174]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18175
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ، وَأَبُو صَادِقٍ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ ⦗١٦٢⦘ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ حَدَّثَتْهُ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: زَعَمَ ابْنُ أُمِّي عَلِيٌّ أَنَّهُ قَاتِلٌ مَنْ أَجَرْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میرے بھائی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ارادہ ہے کہ جس کو میں نے پناہ دی ہے اس کو قتل کر دے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو تو نے پناہ دی ہے ہم نے بھی پناہ دے دی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18175]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18176
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" إِنْ كَانَتِ الْمَرْأَةُ لَتَأْخُذُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَيُجَوِّزُونَ ذَلِكَ لَهَا".
اسود سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ اگر عورت مسلمانوں کے خلاف پناہ دے دے تو وہ اس کے پناہ دینے کو جائز خیال کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18176]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18177
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ الْغِفَارِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ إِلَيْهَا زَوْجُهَا أَبُو الْعَاصِ بْنُ الرَّبِيعِ أَنْ خُذِي لِي أَمَانًا مِنْ أَبِيكِ، فَخَرَجَتْ فَأَطْلَعَتْ رَأْسَهَا مِنْ بَابِ حُجْرَتِهَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَقَالَتْ: أَيُّهَا النَّاسُ، أَنَا زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنِّي قَدْ أَجَرْتُ أَبَا الْعَاصِ. فَلَمَّا فَرَغَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ قَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي لَمْ أَعْلَمْ بِهَذَا حَتَّى سَمِعْتُمُوهُ، أَلَا وَإِنَّهُ يُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَدْنَاهُمْ".
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے خاوند ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پناہ لینے کے لیے بھیجا۔ وہ چلی تو ان کا سر حجرہ سے باہر نظر آ رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھا رہے تھے۔ وہ فرمانے لگیں: میں زینب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ہوں، میں نے ابو العاص کو پناہ دی ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”میں بھی اس کے بارے میں جانتا نہ تھا جو تم نے سنا، خبردار! مسلمانوں کا ادنیٰ آدمی بھی پناہ دے سکتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18177]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بدون القصة»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18178
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، قَالَ: لَمَّا دَخَلَ أَبُو الْعَاصِ بْنُ الرَّبِيعِ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَجَارَ بِهَا، خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصُّبْحِ، فَلَمَّا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ صَرَخَتْ زَيْنَبُ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي قَدْ أَجَرْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ. فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ، قَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، هَلْ سَمِعْتُمْ مَا سَمِعْتُ؟". قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ:" أَمَا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا عَلِمْتُ بِشَيْءٍ مِمَّا كَانَ حَتَّى سَمِعْتُ مِنْهُ مَا سَمِعْتُمْ، إِنَّهُ يُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَدْنَاهُمْ". ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى زَيْنَبَ، فَقَالَ:" أَيْ بُنَيَّةُ أَكْرِمِي مَثْوَاهُ، وَلَا يَقْرَبَنَّكِ فَإِنَّكِ لَا تَحِلِّينَ لَهُ وَلَا يَحِلُّ لَكِ"." هَكَذَا أُخْبِرْنَا فِي كِتَابِ الْمَغَازِي مُنْقَطِعًا، وَحُدِّثْنَا بِهِ فِي كِتَابِ الْمُسْتَدْرَكِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: صَرَخَتْ زَيْنَبُ فَذَكَرَهُ.
یزید بن رومان بیان کرتے ہیں کہ جب ابو العاص بن ربیع سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور ان سے پناہ کا مطالبہ کیا تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے لیے چلے گئے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی تکبیر کہی تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے بلند آواز سے کہا: ”اے لوگو! میں نے ابو العاص بن ربیع کو پناہ دے دی ہے۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے سلام پھیرا تو فرمایا: ”اے لوگو! کیا تم نے سنا جو میں نے سنا؟“ لوگوں نے کہا: ”ہاں!“ پھر فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، میں اس بارے میں کچھ نہ جانتا تھا یہاں تک کہ میں نے ان سے سنا جو تم نے بھی سنا ہے“ اور فرمایا: ”مسلمانوں کا ادنیٰ شخص بھی پناہ دے سکتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: ”اے بیٹی! اچھا ٹھکانا دو، لیکن وہ آپ کے قریب نہ آئے، کیونکہ تو اس کے لیے اور وہ تیرے لیے حلال نہیں ہے۔“
کتاب المغازی میں یہ روایت ہمیں اسی طرح منقطع سند کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔
(ب) عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے بلند آواز سے کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18178]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18179
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ الْبَهِيِّ، عَنْ زَيْنَبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ إِنْ قَرُبَ فَابْنُ عَمٍّ، وَإِنْ بَعُدَ فَأَبُو وَلَدٍ، وَإِنِّي قَدْ أَجَرْتُهُ. فَأَجَازَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ⦗١٦٣⦘ وَقِيلَ عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ زَيْنَبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُرْسَلٌ.
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ابو العاص بن ربیع قریبی رشتہ دار چچا کا بیٹا ہے، اگر دور کی رشتہ داری ہو تو بچوں کا باپ ہے، میں نے اس کو پناہ دے دی ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کو پناہ دے دی۔
(ب) عبداللہ (البہی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا۔
یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18179]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں