🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3612. -- باب: أمان المرأة
-- باب: عورت کی طرف سے امان دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18178
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، قَالَ: لَمَّا دَخَلَ أَبُو الْعَاصِ بْنُ الرَّبِيعِ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَجَارَ بِهَا، خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصُّبْحِ، فَلَمَّا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ صَرَخَتْ زَيْنَبُ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي قَدْ أَجَرْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ. فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ، قَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، هَلْ سَمِعْتُمْ مَا سَمِعْتُ؟". قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ:" أَمَا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا عَلِمْتُ بِشَيْءٍ مِمَّا كَانَ حَتَّى سَمِعْتُ مِنْهُ مَا سَمِعْتُمْ، إِنَّهُ يُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَدْنَاهُمْ". ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى زَيْنَبَ، فَقَالَ:" أَيْ بُنَيَّةُ أَكْرِمِي مَثْوَاهُ، وَلَا يَقْرَبَنَّكِ فَإِنَّكِ لَا تَحِلِّينَ لَهُ وَلَا يَحِلُّ لَكِ"." هَكَذَا أُخْبِرْنَا فِي كِتَابِ الْمَغَازِي مُنْقَطِعًا، وَحُدِّثْنَا بِهِ فِي كِتَابِ الْمُسْتَدْرَكِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: صَرَخَتْ زَيْنَبُ فَذَكَرَهُ.
یزید بن رومان بیان کرتے ہیں کہ جب ابو العاص بن ربیع سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور ان سے پناہ کا مطالبہ کیا تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے لیے چلے گئے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی تکبیر کہی تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے بلند آواز سے کہا: ”اے لوگو! میں نے ابو العاص بن ربیع کو پناہ دے دی ہے۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے سلام پھیرا تو فرمایا: ”اے لوگو! کیا تم نے سنا جو میں نے سنا؟“ لوگوں نے کہا: ”ہاں!“ پھر فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، میں اس بارے میں کچھ نہ جانتا تھا یہاں تک کہ میں نے ان سے سنا جو تم نے بھی سنا ہے“ اور فرمایا: ”مسلمانوں کا ادنیٰ شخص بھی پناہ دے سکتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: ”اے بیٹی! اچھا ٹھکانا دو، لیکن وہ آپ کے قریب نہ آئے، کیونکہ تو اس کے لیے اور وہ تیرے لیے حلال نہیں ہے۔“
کتاب المغازی میں یہ روایت ہمیں اسی طرح منقطع سند کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔
(ب) عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے بلند آواز سے کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18178]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18178 in Urdu