🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3637. -- باب: المرأة تسبى مع زوجها
-- باب: اس عورت کا بیان جو اپنے شوہر کے ساتھ قید کی جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q18297
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: سَبَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيَ أَوْطَاسٍ، وَسَبْيَ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، وَأَسَرَ مِنْ رِجَالِ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ وَقَسَمَ السَّبْيَ، فَأَمَرَ أَنْ لَا تُوطَأَ حَامِلٌ حَتَّى تَضَعَ، وَلَا حَائِلٌ حَتَّى تَحِيضَ، وَلَمْ يَسْأَلْ عَنْ ذَاتِ زَوْجٍ وَلَا غَيْرِهَا، وَلَا هَلْ سُبِيَ زَوْجٌ مَعَ امْرَأَتِهِ وَلَا غَيْرُهُ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوطاس کے قیدیوں اور بنو المصطلق کے قیدیوں کو گرفتار کیا، اور ان دونوں قبیلوں کے مردوں کو بھی قیدی بنایا، اور قیدیوں کو تقسیم فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ کسی حاملہ (لونڈی) سے وضع حمل تک اور غیر حاملہ سے ایک حیض آنے تک ہمبستری نہ کی جائے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں پوچھا کہ کون شوہر والی ہے اور کون نہیں، اور نہ یہ پوچھا کہ کیا کسی کا شوہر بھی اس کی بیوی کے ساتھ قید ہوا ہے یا نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: Q18297]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18297
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، أنبأ شَرِيكٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ وَالْمُجَالِدِ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَصَبْنَا سَبَايَا يَوْمَ ⦗٢٠٩⦘ أَوْطَاسٍ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُوطَأُ حَامِلٌ حَتَّى تَضَعَ حَمْلَهَا وَلَا غَيْرُ حَامِلٍ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً".
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اوطاس کے دن ہمیں لونڈیاں ملیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حاملہ کے ساتھ وضع حمل سے پہلے ہمبستری نہ کی جائے اور غیر حاملہ سے ایک حیض آنے تک۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18297]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18298
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ مَوْلَى تُجِيبَ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ أَبِي رُوَيْفِعٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْمَغْرِبَ، فَافْتَتَحَ قَرْيَةً فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ: إِنِّي لَا أَقُولُ فِيكُمْ إِلَّا مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِينَا يَوْمَ خَيْبَرَ قَامَ فِينَا عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْقِيَ مَاءَهُ زَرْعَ غَيْرِهِ" يَعْنِي إِتْيَانَ الْحَبَالَى مِنَ الْفَيْءِ،" وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يُصِيبَ امْرَأَةً مِنَ السَّبْيِ ثَيِّبًا حَتَّى يَسْتَبْرِئَهَا، وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَبِيعَ مَغْنَمًا حَتَّى يُقْسَمَ، وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَرْكَبَ دَابَّةً مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَعْجَفَهَا رَدَّهَا فِيهِ، وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَلْبَسَ ثَوْبًا مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَخْلَقَهُ رَدَّهُ". كَذَا قَالَ يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَإِنَّمَا هُوَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، كَذَلِكَ رَوَاهُ غَيْرُهُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ غَيْرُ ابْنِ إِسْحَاقَ، وَقَالَ غَيْرُهُ: رُوَيْفِعُ بْنُ ثَابِتٍ وَهُوَ الصَّحِيحُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَدَلَّ ذَلِكَ عَلَى أَنَّ السِّبَاءَ نَفْسَهُ انْقِطَاعُ الْعِصْمَةِ بَيْنَ الزَّوْجَيْنِ، وَذَلِكَ أَنَّهُ لَا يَأْمُرُ بِوَطْءِ ذَاتِ زَوْجٍ بَعْدَ حَيْضَةٍ إِلَّا وَذَلِكَ قَطَعَ الْعِصْمَةَ، وَقَدْ ذَكَرَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّ قَوْلَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: ٢٤] ذَوَاتُ الْأَزْوَاجِ اللَّاتِي مَلَكْتُمُوهُنَّ بِالسِّبَاءِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِّينَا فِي كِتَابِ النِّكَاحِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ نَحْوَ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حنش صنعانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے سیدنا رویفع انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر مغرب (کے علاقے) میں غزوہ کیا۔ ایک بستی فتح ہوگئی تو انہوں نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور کہا: میں تم سے صرف وہی بات کہوں گا جو میں نے خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مومن کے لیے جائز نہیں کہ وہ غیر کی کھیتی کو پانی دے، یعنی حاملہ عورت سے وطء نہ کرے اور کسی مومن کے لیے یہ بھی جائز نہیں کہ استبراءِ رحم کے بغیر کسی شوہر دیدہ قیدی عورت سے ہم بستری کرے اور کسی مومن کے لیے جس کا اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان ہے یہ جائز نہیں کہ مالِ غنیمت کو تقسیم ہونے سے پہلے فروخت کرے اور کسی مومن کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے یہ جائز نہیں مالِ فیء کی سواری لے کر دبلی پتلی یعنی کمزور کر کے واپس کرے اور نہ ہی کسی مسلمان کے لیے یہ جائز ہے کہ جس کا اللہ اور آخرت کے دن پر یقین ہے کہ وہ مالِ فیء سے کپڑے حاصل کر کے پہنے اور بوسیدہ کر کے واپس کر دے۔“
یونس بن بکیر نے اسی طرح 'خیبر کا دن' کہا ہے، حالانکہ یہ حنین کا دن تھا، ابن اسحاق سے دوسرے راویوں نے اور ابن اسحاق کے علاوہ دوسروں نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے، اور دوسروں نے 'رویفع بن ثابت' کہا ہے اور یہی صحیح ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قید ہو جانا ہی میاں بیوی کے درمیان نکاح کا رشتہ ختم کر دیتا ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی شوہر والی عورت سے ایک حیض کے بعد ہمبستری کا حکم تبھی دے سکتے ہیں جب یہ رشتہ ختم ہو چکا ہو۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [سورة النساء: 24] سے مراد ”وہ خاوند والی عورتیں ہیں جن کو لونڈی بنا کر تم ان کے مالک بنے ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18298]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18299
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، أَنَّ أَبَا عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً يَوْمَ حُنَيْنٍ فَأَصَابُوا جَيْشًا مِنَ الْعَرَبِ يَوْمَ أَوْطَاسٍ، فَقَاتَلُوهُمْ وَهَزَمُوهُمْ، فَأَصَابُوا نِسَاءً لَهُنَّ أَزْوَاجٌ، وَكَأَنَّ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَأَثَّمُوا مِنْ غَشَيَانِهِنَّ مِنْ أَجْلِ أَزْوَاجِهِنَّ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: ٢٤] فَهُنَّ لَكُمْ حَلَالٌ. ⦗٢١٠⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ..
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن ایک سریہ روانہ فرمایا، جن کی لڑائی اوطاس کے دن عرب کے ایک لشکر سے ہوئی جن کو شکست ہوئی۔ عورتیں قیدی بنیں جن کے خاوند بھی تھے تو صحابہ نے ان کے خاوندوں کی وجہ سے ان سے ہم بستری کرنے کو گناہ خیال کیا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [سورة النساء: 24] کہ یہ تمہارے لیے حلال ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18299]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٤٥٦»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18300
وَأَخْرَجَهُ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ الْقَوَارِيرِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، بِمَعْنَاهُ،" زَادَ فِيهِ: أَيْ فَهُنَّ لَهُمْ حَلَالٌ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا سَعِيدٌ، فَذَكَرَهُ.
سعید بن ابی عروبہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ ان کے لیے حلال ہیں جب عدت ختم ہو جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18300]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں