السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3656. -- باب: الأرض إذا أخذت عنوة فوقفت للمسلمين بطيب أنفس الغانمين لم يجز بيعها إذا أسلم من هي في يده لم يسقط خراجها
-- باب: وہ زمین جو طاقت کے زور پر فتح کی جائے پھر غازیوں کی خوش دلی سے اسے مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا جائے تو اس کی فروخت جائز نہیں، اور اگر وہ شخص جس کے قبضے میں وہ زمین ہے مسلمان ہو جائے تو اس کا خراج ساقط نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 18410
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ هُوَ ابْنُ حَرْبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: اشْتَرَى عُتْبَةُ بْنُ فَرْقَدٍ أَرْضًا مِنْ أَرْضِ الْخَرَاجِ ثُمَّ أَتَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ: مِمَّنِ اشْتَرَيْتَهَا؟ قَالَ: مِنْ أَهْلِهَا. قَالَ: فَهَؤُلَاءِ أَهْلُهَا - لِلْمُسْلِمِينَ - أَبِعْتُمُوهُ شَيْئًا؟ قَالُوا: لَا. قَالَ: اذْهَبْ فَاطْلُبْ مَالَكَ.
بکر بن عامر حضرت عامر رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ نے خراج والی زمین خریدی، پھر آ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا۔ انہوں نے پوچھا: آپ نے کس سے خریدی ہے؟ کہنے لگے: زمین والوں سے۔ فرمایا: یہ (مسلمان) زمین والے ہیں۔ (پھر مسلمانوں سے پوچھا:) کیا تم نے اسے کچھ فروخت کیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ فرمایا: جا کر اپنا مال واپس لے لو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18410]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18411
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا قَيْسٌ، عَنْ أَبِي إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ، قَالَ: اشْتَرَيْتُ عَشَرَةَ أَجْرِبَةٍ مِنْ أَرْضِ السَّوَادِ عَلَى شَاطِئِ الْفُرَاتِ لِقَضْبِ دَوَابَّ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: اشْتَرَيْتَهَا مِنْ أَصْحَابِهَا؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: رُحْ إِلِيَّ. قَالَ: فَرُحْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا هَؤُلَاءِ، أَبِعْتُمُوهُ شَيْئًا؟ قَالُوا: لَا. قَالَ: ابْتَغِ مَالَكَ حَيْثُ وَضَعْتَهُ.
شعبی رحمہ اللہ حضرت عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے سواد کی زمین سے دس ایکڑ زمین فرات کے کنارے خریدی، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے تذکرہ ہوا تو انہوں نے پوچھا: کیا آپ نے ان زمین والوں سے خریدی ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ کہنے لگے: میرے پاس آؤ۔ میں ان کے پاس گیا تو فرمایا: کیا تم نے ان کو کچھ فروخت کیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ فرمایا: اپنا مال لو جس کو دے رکھا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18411]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18412
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَسْلَمَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ نَهَرِ الْمَلِكِ. قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ أَوْ كَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنِ اخْتَارَتْ أَرْضَهَا وَأَدَّتْ مَا عَلَى أَرْضِهَا فَخَلُّوا بَيْنَهَا وَبَيْنَ أَرْضِهَا، وَإِلَّا خَلُّوا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَبَيْنَ أَرَضِيهِمْ.
طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہل نہر سے ایک عورت مسلمان ہو گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خط لکھا: اگر وہ اپنی زمین کو اختیار کرے اور جزیہ ادا کرے تو اس کو زمین دے دو، ورنہ زمین سے فارغ کر دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18412]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 18413
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا حَفْصُ بْنُ ⦗٢٣٩⦘ غِيَاثٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ الْأَسَدِيِّ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِذَا أَسْلَمَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ السَّوَادِ تَرَكَاهُ يَقُومُ بِخَرَاجِهِ فِي أَرْضِهِ.
ابو عون ثقفی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما اہلِ سواد کے افراد کو چھوڑ دیتے، جب وہ اسلام قبول کر لیتے تو فرماتے: وہ اپنی زمین پر ہی رہیں اور خراج ادا کرتے رہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18413]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 18414
قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا شَرِيكٌ، وَقَيْسٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: أَسْلَمَ الرَّقِيلُ فَأَعْطَاهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرْضَهُ بِخَرَاجِهَا وَفَرَضَ لَهُ أَلْفَيْنِ.
حضرت جابر، عامر سے نقل فرماتے ہیں کہ رقیل نے اسلام قبول کر لیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو خراج والی زمین عطا کر دی اور ان کے لیے دو ہزار وظیفہ مقرر کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18414]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18415
قَالَ: وَثَنَا يَحْيَى، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى سَعْدٍ يُقْطِعُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ أَرْضًا فَأَقْطَعَهُ أَرْضًا لِبَنِي الرَّقِيلِ، فَأَتَى ابْنُ الرَّقِيلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَامَ صَالَحْتُمُونَا؟ قَالَ: عَلَى أَنْ تُؤَدُّوا إِلَيْنَا الْجِزْيَةَ وَلَكُمْ أَرْضُكُمْ وَأَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ. قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَقَطَعْتَ أَرْضِي لِسَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ. قَالَ: فَكَتَبَ إِلَى سَعْدٍ رُدَّ عَلَيْهِ أَرْضَهُ، ثُمَّ دَعَاهُ إِلَى الْإِسْلَامِ فَأَسْلَمَ فَفَرَضَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَبْعَمِائَةٍ وَجَعَلَ عَطَاءَهُ فِي خَثْعَمٍ، وَقَالَ: إِنْ أَقَمْتَ فِي أَرْضِكَ أَدَّيْتَ عَنْهَا مَا كُنْتَ تُؤَدِّي. وَهَذَا فِي إِسْنَادِهِ ضِعْفٌ، فَإِنْ ثَبَتَ كَانَ قَوْلُهُ: وَلَكُمْ أَرْضُكُمْ، مَحْمُولًا عَلَى أَنَّهُ أَرَادَ وَلَكُمْ أَرْضُكُمُ الَّتِي كَانَتْ لَكُمْ تَزْرَعُونَهَا وَتُعْطُونَ خَرَاجَهَا، وَذَلِكَ فِيمَا أُخِذَ عَنْوَةً إِلَّا تَرَكَهُ لَمْ يَسْقُطْ عَنْهُ خَرَاجُهَا حِينَ أَسْلَمَ، وَفِي الصُّلْحِ يَسْقُطُ.
بنو زہرہ کے ایک شیخ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کو کچھ زمین عطا کرو تو انہوں نے بنو رقیل کی زمین دے دی۔ ابن رقیل سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آگئے اور عرض کیا: اے امیر المؤمنین! کس بات پر آپ نے ہمارے ساتھ صلح کی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ تم جزیہ ادا کرو، زمین، مال اور اولاد تمہارے پاس ہی رہیں گے۔ اس نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! کیا آپ نے میری زمین سعید بن زید کو دے دی ہے؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ اس کی زمین واپس کر دو۔ پھر اسے اسلام کی دعوت دی تو وہ مسلمان ہو گیا؛ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے سات سو وظیفہ مقرر فرما دیا اور اس کا وظیفہ خثعم قبیلہ میں رکھا اور فرمایا: اگر تم اپنی زمین پر رہے تو اتنا جزیہ ادا کرتے رہنا جتنا دیا کرتے تھے۔
اس روایت کی سند میں کمزوری ہے۔
(ب) اگر یہ ثابت ہو تو یہ قول «وَلَكُمْ أَرْضُكُمْ» ”وہ زمین جس میں تم کھیتی باڑی کرتے ہو اور جزیہ ادا کرتے ہو“ اور یہ زمین زبردستی ان سے لی گئی۔ دیکھیں مسلمان ہونے کے بعد بھی خراج ختم نہ ہوا حالانکہ صلح کی وجہ سے ساقط ہو جاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18415]
اس روایت کی سند میں کمزوری ہے۔
(ب) اگر یہ ثابت ہو تو یہ قول «وَلَكُمْ أَرْضُكُمْ» ”وہ زمین جس میں تم کھیتی باڑی کرتے ہو اور جزیہ ادا کرتے ہو“ اور یہ زمین زبردستی ان سے لی گئی۔ دیکھیں مسلمان ہونے کے بعد بھی خراج ختم نہ ہوا حالانکہ صلح کی وجہ سے ساقط ہو جاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18415]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18416
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيَّ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ فَضَعْ عَنْ أَرْضِي الْخَرَاجَ. فَقَالَ: أَلَا إِنَّ أَرْضَكَ أُخِذَتْ عَنْوَةً. قَالَ: وَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ أَرْضَ كَذَا وَكَذَا يُطِيقُونَ مِنَ الْخَرَاجِ أَكْثَرَ مِمَّا عَلَيْهِمْ. فَقَالَ: لَا سَبِيلَ إِلَيْهِمْ إِنَّمَا صَالَحْنَاهُمْ صُلْحًا.
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں نے اسلام قبول کر لیا ہے، جزیہ ختم کر دو۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، آپ کی زمین بذریعہ لڑائی حاصل کی گئی ہے۔ راوی کہتے ہیں: دوسرا شخص آیا کہ فلاں زمین والے زیادہ خراج دینے کی طاقت رکھتے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے اسی پر ان سے صلح کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18416]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18417
قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، قَالَ: أَسْلَمَ دُهْقَانٌ مِنْ أَهْلِ السَّوَادِ فِي عَهْدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنْ أَقَمْتَ فِي أَرْضِكَ رَفَعْنَا الْجِزْيَةَ عَنْ رَأْسِكَ وَأَخَذْنَا مِنْ أَرْضِكَ، وَإِنْ تَحَوَّلْتَ عَنْهَا فَنَحْنُ أَحَقُّ بِهَا.
زبیر بن عدی فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دور میں اہل سواد کے ایک دہقان (زمیندار) نے اسلام قبول کر لیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اگر تو اپنی زمین پر رہے تو ہم تیرا جزیہ ختم کر دیتے ہیں اور تیری زمین کا جزیہ وصول کریں گے۔ اگر تو اس سے منتقل ہو جائے تو اس زمین کے ہم زیادہ حق دار ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18417]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18418
قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا وَكِيعٌ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، قَالَ: ⦗٢٤٠⦘ أَسْلَمَ دُهْقَانٌ مِنْ أَهْلِ عَيْنِ التَّمْرِ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَمَّا جِزْيَةُ رَأْسِكَ فَنَرْفَعُهَا، وَأَمَّا أَرْضُكَ فَلِلْمُسْلِمِينَ، فَإِنْ شِئْتَ فَرَضْنَا لَكَ وَإِنْ شِئْتَ جَعَلْنَاكَ قَهْرَمَانًا لَنَا، فَمَا أَخْرَجَ اللهُ مِنْهَا مِنْ شَيْءٍ أَتَيْتَنَا بِهِ.
ابو عون فرماتے ہیں کہ اہل عین التمر کا ایک دہقان (زمیندار) مسلمان ہو گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم تیرا جزیہ ختم کر دیتے ہیں، تیری زمین مسلمانوں کے لیے ہو گی۔ اگر آپ چاہو تو آپ کے لیے وظیفہ مقرر کر دیتے ہیں اور اگر آپ چاہو تو ہم آپ کو اپنا قہرمان (منتظم) بنا دیتے ہیں۔ جو اللہ رب العزت اس سے پیدا فرمائے وہ آپ ہمارے پاس لے کر آئیں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18418]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح