🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3660. -- باب: الأسير يؤخذ عليه أن يبعث إليهم بفداء ويعود في إسارهم
-- باب: قیدی سے اس شرط پر عہد لینے کا بیان کہ وہ انہیں فدیہ بھیجے گا اور دوبارہ ان کی قید میں لوٹ آئے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q18427
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: رُوِيَ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ: يَعُودُ فِي إِسَارِهِمْ إِنْ لَمْ يُعْطِهِمُ الْمَالَ. قَالَ: وَمَنْ ذَهَبَ مَذْهَبَ الْأَوْزَاعِيِّ وَمَنْ قَالَ بِقَوْلِهِ فَإِنَّمَا يَحْتَجُّ فِيمَا أَرَاهُ بِمَا رُوِيَ عَنْ بَعْضِهِمْ أَنَّهُ رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَالَحَ أَهْلَ الْحُدَيْبِيَةِ أَنْ يَرُدَّ مَنْ جَاءَهُ مِنْهُمْ بَعْدَ الصُّلْحِ مُسْلِمًا، فَجَاءَهُ أَبُو جَنْدَلٍ فَرَدَّهُ إِلَى أَبِيهِ، وَأَبُو بَصِيرٍ فَرَدَّهُ فَقَتَلَ أَبُو بَصِيرٍ الْمَرْدُودَ مَعَهُ، ثُمَّ جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: قَدْ وَفَّيْتُ لَهُمْ وَنَجَّانِي اللهُ مِنْهُمْ، فَلَمْ يَرُدَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَتَرَكَهُ، فَكَانَ بِطَرِيقِ الشَّامِ يَقْطَعُ عَلَى كُلِّ مَالٍ لِقُرَيْشٍ حَتَّى سَأَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَضُمَّهُ إِلَيْهِ لِمَا نَالَهُمْ مِنْ أَذَاهُ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَهَذَا حَدِيثٌ قَدْ رَوَاهُ بَعْضُ أَهْلِ الْمَغَازِي كَمَا وَصَفْتُ، وَلَا يَحْضُرُنِي ذِكْرُ إِسْنَادِهِ..
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”امام اوزاعی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ: ’اگر وہ انہیں مال نہ دے تو ان کی قید میں واپس لوٹ جائے۔‘“
انہوں نے (مزید) فرمایا: ”اور جو شخص امام اوزاعی رحمہ اللہ کا مذہب اختیار کرے اور جو ان کے قول کا قائل ہو، تو میرے خیال میں وہ صرف اس روایت سے استدلال کرتا ہے جو ان میں سے بعض سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل حدیبیہ سے اس بات پر صلح کی تھی کہ صلح کے بعد ان میں سے جو شخص مسلمان ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے گا آپ اسے واپس لوٹا دیں گے، چنانچہ سیدنا ابو جندل رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے والد کی طرف لوٹا دیا، اور سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (بھی) لوٹا دیا، پھر ابو بصیر نے اس شخص کو قتل کر دیا جس کے ساتھ انہیں واپس بھیجا گیا تھا، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: ’میں نے ان کے ساتھ (عہد) پورا کر دیا اور اللہ نے مجھے ان سے نجات دے دی۔‘ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں واپس نہیں لوٹایا اور نہ اس پر ان کی سرزنش کی، بلکہ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا، چنانچہ وہ شام کے راستے پر (رہ کر) قریش کے ہر مال (تجارتی قافلے) پر حملہ کرتے رہے، یہاں تک کہ قریش نے ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے پاس بلا لیں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور یہ حدیث بعض اہل مغازی (سیرت نگاروں) نے اسی طرح روایت کی ہے جیسے میں نے بیان کی ہے، اور اس کی سند کا ذکر اس وقت مجھے یاد نہیں۔“... [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: Q18427]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18427
قَالَ الشَّيْخُ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، فَذَكَرَ حَدِيثَ صُلْحِ الْحُدَيْبِيَةِ، وَذَكَرَ فِيهِ قِصَّةَ أَبِي جَنْدَلٍ وَأَبِي بَصِيرٍ بِنَحْوٍ مِنْ هَذَا وَأَتَمَّ مِنْهُ ⦗٢٤٤⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَإِنَّمَا رَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا جَنْدَلٍ إِلَيْهِمْ؛ لَأَنَّهُ كَانَ لَا يَخَافُ عَلَيْهِ فِي الرَّدِّ لِمَكَانِ أَبِيهِ، وَكَذَلِكَ أَشَارَ عَلَى أَبِي بَصِيرٍ بِالرُّجُوعِ إِلَيْهِمْ فِي الِابْتِدَاءِ لِذَلِكَ وَاللهُ أَعْلَمُ وَسَيَرِدُ كَلَامُ الشَّافِعِيِّ إِنْ شَاءَ اللهُ عَلَيْهِ فِي كِتَابِ الْجِزْيَةِ.
مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم رضی اللہ عنہما نے صلحِ حدیبیہ کی حدیث ذکر کی، اس میں ابو جندل رضی اللہ عنہ اور ابو بصیر رضی اللہ عنہ کا واقعہ ذکر کیا اور وہ اس سے زیادہ مکمل بھی ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جندل رضی اللہ عنہ کو صرف اس لیے واپس فرمایا کہ ان کے والد کے مقام کی وجہ سے واپس کرنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بارے میں کوئی خطرہ نہ تھا، اور اسی وجہ سے ابتدا میں ابو بصیر رضی اللہ عنہ کو بھی واپس جانے کا مشورہ دیا تھا، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18427]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٢٨٣٤٢»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18428
وَفِي مِثْلِ هَذَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو صَادِقٍ الْعَطَّارُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا رَافِعٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ أَقْبَلَ بِكِتَابٍ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَلَمَّا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُلْقِيَ فِي قَلْبِي الْإِسْلَامُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي وَاللهِ لَا أَرْجِعُ إِلَيْهِ أَبَدًا. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَا أَخِيسُ بِالْعَهْدِ، وَلَا أَحْبِسُ الْبُرُدَ وَلَكِنِ ارْجِعْ فَإِنْ كَانَ فِي قَلْبِكَ الَّذِي فِي قَلْبِكَ الْآنَ فَارْجِعْ". قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَيْهِمْ ثُمَّ أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمْتُ قَالَ بُكَيْرٌ: وَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَبَا رَافِعٍ كَانَ قِبْطِيًّا.
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قریش کا خط نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ راوی کہتے ہیں: جب میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام پختہ ہو گیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں واپس نہ جاؤں گا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إِنِّي لَا أَخِيسُ بِالْعَهْدِ، وَلَا أَحْبِسُ الْبُرُدَ» ”میں عہد کو نہیں توڑتا اور نہ ہی قاصد کو روکتا ہوں۔ جاؤ! اگر آپ کے دل میں یہی بات ہے تو واپس پلٹ آنا۔“ کہتے ہیں: میں واپس چلا گیا اور واپس آ کر مسلمان ہو گیا اور سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ قبطی آدمی تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18428]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18429
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ، ثنا أَبُو الطُّفَيْلِ، ثنا حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: مَا مَنَعَنِي أَنْ أَشْهَدَ بَدْرًا إِلَّا أَنِّي خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِي حُسَيْلٍ. قَالَ: فَأَخَذَنَا كُفَّارُ قُرَيْشٍ فَقَالُوا: إِنَّكُمْ تُرِيدُونَ مُحَمَّدًا، فَقُلْنَا: مَا نُرِيدُهُ مَا نُرِيدُ إِلَّا الْمَدِينَةَ فَأَخَذُوا عَلَيْنَا عَهْدَ اللهِ وَمِيثَاقَهُ لَنَنْصَرِفَنَّ إِلَى الْمَدِينَةِ وَلَا نُقَاتِلُ مَعَهُ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْنَاهُ الْخَبَرَ فَقَالَ:" انْصَرِفَا، نَفِي لَهُمْ بِعَهْدِهِمْ، وَنَسْتَعِينُ بِاللهِ عَلَيْهِمْ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَذَا لِأَنَّهُ لَمْ يُؤَدِّ انْصِرَافُهُمَا إِلَى تَرْكِ فَرْضٍ إِذْ لَمْ يَكُنْ خُرُوجُهُمَا وَاجِبًا عَلَيْهِمَا، وَلَا إِلَى ارْتِكَابِ مَحْظُورٍ، وَالْعَوْدُ إِلَيْهِمْ وَالْإِقَامَةُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ مِمَّا لَا يَجُوزُ إِذَا كَانَ يَخَافُ الْفِتْنَةَ عَلَى نَفْسِهِ فِي الْعَوْدِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں بدر میں حاضر نہ ہوا، اس وجہ سے کہ میں اور میرے والد حسیل نکلے تو کفار قریش نے ہمیں پکڑ لیا، انہوں نے کہا: تم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا ارادہ رکھتے ہو؟ ہم نے نفی میں جواب دیا کہ ہم مدینہ جانا چاہتے ہیں تو انہوں نے ہم سے اللہ کا عہد و پیمان لیا کہ ہم مدینہ جائیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر لڑائی نہ کریں گے، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آ کر بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مدینہ جاؤ ہم وعدہ کی پاسداری کریں گے اور ان کے خلاف اللہ سے مدد طلب کریں گے“
شیخ فرماتے ہیں: یہ اس لیے ہے کہ ان دونوں کے واپس جانے سے کسی فرض کا ترک لازم نہیں آیا، کیونکہ ان پر نکلنا واجب نہ تھا، اور نہ ہی کسی حرام کا ارتکاب لازم آیا، جبکہ کفار کی طرف لوٹنا اور ان کے درمیان رہنا جائز نہیں جب لوٹنے میں اپنے بارے میں فتنے کا ڈر ہو، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18429]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٧٨٧»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں