السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3660. -- باب: الأسير يؤخذ عليه أن يبعث إليهم بفداء ويعود في إسارهم
-- باب: قیدی سے اس شرط پر عہد لینے کا بیان کہ وہ انہیں فدیہ بھیجے گا اور دوبارہ ان کی قید میں لوٹ آئے گا۔
حدیث نمبر: Q18427
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: رُوِيَ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ: يَعُودُ فِي إِسَارِهِمْ إِنْ لَمْ يُعْطِهِمُ الْمَالَ. قَالَ: وَمَنْ ذَهَبَ مَذْهَبَ الْأَوْزَاعِيِّ وَمَنْ قَالَ بِقَوْلِهِ فَإِنَّمَا يَحْتَجُّ فِيمَا أَرَاهُ بِمَا رُوِيَ عَنْ بَعْضِهِمْ أَنَّهُ رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَالَحَ أَهْلَ الْحُدَيْبِيَةِ أَنْ يَرُدَّ مَنْ جَاءَهُ مِنْهُمْ بَعْدَ الصُّلْحِ مُسْلِمًا، فَجَاءَهُ أَبُو جَنْدَلٍ فَرَدَّهُ إِلَى أَبِيهِ، وَأَبُو بَصِيرٍ فَرَدَّهُ فَقَتَلَ أَبُو بَصِيرٍ الْمَرْدُودَ مَعَهُ، ثُمَّ جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: قَدْ وَفَّيْتُ لَهُمْ وَنَجَّانِي اللهُ مِنْهُمْ، فَلَمْ يَرُدَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَتَرَكَهُ، فَكَانَ بِطَرِيقِ الشَّامِ يَقْطَعُ عَلَى كُلِّ مَالٍ لِقُرَيْشٍ حَتَّى سَأَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَضُمَّهُ إِلَيْهِ لِمَا نَالَهُمْ مِنْ أَذَاهُ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَهَذَا حَدِيثٌ قَدْ رَوَاهُ بَعْضُ أَهْلِ الْمَغَازِي كَمَا وَصَفْتُ، وَلَا يَحْضُرُنِي ذِكْرُ إِسْنَادِهِ..
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”امام اوزاعی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ: ’اگر وہ انہیں مال نہ دے تو ان کی قید میں واپس لوٹ جائے۔‘“
انہوں نے (مزید) فرمایا: ”اور جو شخص امام اوزاعی رحمہ اللہ کا مذہب اختیار کرے اور جو ان کے قول کا قائل ہو، تو میرے خیال میں وہ صرف اس روایت سے استدلال کرتا ہے جو ان میں سے بعض سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل حدیبیہ سے اس بات پر صلح کی تھی کہ صلح کے بعد ان میں سے جو شخص مسلمان ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے گا آپ اسے واپس لوٹا دیں گے، چنانچہ سیدنا ابو جندل رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے والد کی طرف لوٹا دیا، اور سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (بھی) لوٹا دیا، پھر ابو بصیر نے اس شخص کو قتل کر دیا جس کے ساتھ انہیں واپس بھیجا گیا تھا، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: ’میں نے ان کے ساتھ (عہد) پورا کر دیا اور اللہ نے مجھے ان سے نجات دے دی۔‘ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں واپس نہیں لوٹایا اور نہ اس پر ان کی سرزنش کی، بلکہ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا، چنانچہ وہ شام کے راستے پر (رہ کر) قریش کے ہر مال (تجارتی قافلے) پر حملہ کرتے رہے، یہاں تک کہ قریش نے ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے پاس بلا لیں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور یہ حدیث بعض اہل مغازی (سیرت نگاروں) نے اسی طرح روایت کی ہے جیسے میں نے بیان کی ہے، اور اس کی سند کا ذکر اس وقت مجھے یاد نہیں۔“... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: Q18427]
انہوں نے (مزید) فرمایا: ”اور جو شخص امام اوزاعی رحمہ اللہ کا مذہب اختیار کرے اور جو ان کے قول کا قائل ہو، تو میرے خیال میں وہ صرف اس روایت سے استدلال کرتا ہے جو ان میں سے بعض سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل حدیبیہ سے اس بات پر صلح کی تھی کہ صلح کے بعد ان میں سے جو شخص مسلمان ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے گا آپ اسے واپس لوٹا دیں گے، چنانچہ سیدنا ابو جندل رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے والد کی طرف لوٹا دیا، اور سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (بھی) لوٹا دیا، پھر ابو بصیر نے اس شخص کو قتل کر دیا جس کے ساتھ انہیں واپس بھیجا گیا تھا، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: ’میں نے ان کے ساتھ (عہد) پورا کر دیا اور اللہ نے مجھے ان سے نجات دے دی۔‘ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں واپس نہیں لوٹایا اور نہ اس پر ان کی سرزنش کی، بلکہ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا، چنانچہ وہ شام کے راستے پر (رہ کر) قریش کے ہر مال (تجارتی قافلے) پر حملہ کرتے رہے، یہاں تک کہ قریش نے ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے پاس بلا لیں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور یہ حدیث بعض اہل مغازی (سیرت نگاروں) نے اسی طرح روایت کی ہے جیسے میں نے بیان کی ہے، اور اس کی سند کا ذکر اس وقت مجھے یاد نہیں۔“... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: Q18427]
حدیث نمبر: 18427
قَالَ الشَّيْخُ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، فَذَكَرَ حَدِيثَ صُلْحِ الْحُدَيْبِيَةِ، وَذَكَرَ فِيهِ قِصَّةَ أَبِي جَنْدَلٍ وَأَبِي بَصِيرٍ بِنَحْوٍ مِنْ هَذَا وَأَتَمَّ مِنْهُ ⦗٢٤٤⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَإِنَّمَا رَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا جَنْدَلٍ إِلَيْهِمْ؛ لَأَنَّهُ كَانَ لَا يَخَافُ عَلَيْهِ فِي الرَّدِّ لِمَكَانِ أَبِيهِ، وَكَذَلِكَ أَشَارَ عَلَى أَبِي بَصِيرٍ بِالرُّجُوعِ إِلَيْهِمْ فِي الِابْتِدَاءِ لِذَلِكَ وَاللهُ أَعْلَمُ وَسَيَرِدُ كَلَامُ الشَّافِعِيِّ إِنْ شَاءَ اللهُ عَلَيْهِ فِي كِتَابِ الْجِزْيَةِ.
مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم رضی اللہ عنہما نے صلحِ حدیبیہ کی حدیث ذکر کی، اس میں ابو جندل رضی اللہ عنہ اور ابو بصیر رضی اللہ عنہ کا واقعہ ذکر کیا اور وہ اس سے زیادہ مکمل بھی ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جندل رضی اللہ عنہ کو صرف اس لیے واپس فرمایا کہ ان کے والد کے مقام کی وجہ سے واپس کرنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بارے میں کوئی خطرہ نہ تھا، اور اسی وجہ سے ابتدا میں ابو بصیر رضی اللہ عنہ کو بھی واپس جانے کا مشورہ دیا تھا، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18427]
شیخ فرماتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جندل رضی اللہ عنہ کو صرف اس لیے واپس فرمایا کہ ان کے والد کے مقام کی وجہ سے واپس کرنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بارے میں کوئی خطرہ نہ تھا، اور اسی وجہ سے ابتدا میں ابو بصیر رضی اللہ عنہ کو بھی واپس جانے کا مشورہ دیا تھا، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18427]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٢٨٣٤٢»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18427 in Urdu