السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3684. -- باب: في فضل الجهاد في سبيل الله
-- باب: اللہ کی راہ میں جہاد کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 18493
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَا أَبَا سَعِيدٍ مَنْ رَضِيَ بِاللهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ". قَالَ: فَعَجِبَ لَهَا أَبُو سَعِيدٍ ⦗٢٦٧⦘ فَقَالَ: أَعِدْهَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللهِ. فَفَعَلَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَأُخْرَى يُرْفَعُ بِهَا الْعَبْدُ مِائَةَ دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ، مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ". قَالَ: وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ، الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ، الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو سعید! جو اللہ کے رب، اسلام کے دین اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے نبی ہونے پر راضی ہوا، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔“ راوی کہتے ہیں کہ ابو سعید رضی اللہ عنہ نے تعجب کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! دوبارہ بیان فرمائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی ارشاد فرمایا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور ایک اور چیز ہے جس کے ذریعے بندے کے جنت میں سو درجے بلند کر دیے جاتے ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیانی مسافت زمین و آسمان کے برابر ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں جہاد کرنا، اللہ کے راستے میں جہاد کرنا، اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18493]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٨٨٤»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18494
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا فُلَيْحٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَوِ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَرَسُولِهِ، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ، وَآتَى الزَّكَاةَ، وَصَامَ رَمَضَانَ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُدْخِلَهُ - يَعْنِي الْجَنَّةَ - هَاجَرَ فِي سَبِيلِ اللهِ، أَوْ مَاتَ فِي أَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ فِيهَا". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ أَفَلَا تُنْبِئُ النَّاسَ بِذَلِكَ؟. قَالَ:" إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ، مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، أَعَدَّهَا اللهُ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِهِ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ، فَإِنَّهُ وَسَطُ الْجَنَّةِ وَأَعْلَى الْجَنَّةِ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ، وَفَوْقَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى"..
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور رسول پر ایمان رکھے، نماز ادا کرے، زکوۃ دے، رمضان کے روزے رکھے تو اللہ پر حق ہے کہ اس کو جنت میں داخل کردے۔ اس نے اللہ کے راستہ میں ہجرت کی یا اپنی جائے پیدائش پر ہی فوت ہوگیا۔“ انھوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ لوگوں کو اس کی خبر نہ دے دیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں سو درجے ہیں اور ہر درجہ کے درمیان زمین و آسمان کی مسافت کے برابر فاصلہ ہے۔ یہ اللہ نے مجاہدین کے لیے تیار کیے ہیں۔ جب بھی تم اللہ سے مانگو تو جنت الفردوس طلب کیا کرو۔ یہ جنت کا درمیانی اور سب سے اعلیٰ حصہ ہے۔ اس سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں اور اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18494]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18495
قَالَ: وَثَنَا أَبُو الْأَزْهَرِ ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: فَحَدَّثَنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ فُلَيْحٌ الثَّانِيَةَ، فَذَكَرَهُ عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِنَحْوِهِ وَلَمْ يَشُكَّ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ صَالِحٍ عَنْ فُلَيْحٍ، وَلَمْ يَشُكَّ.
یونس بن محمد کہتے ہیں کہ فلیح نے یہ حدیث ہمیں دوسری مرتبہ بیان کی تو اسے ہلال بن علی سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح ذکر کیا اور (راوی کے بارے میں) شک نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18495]
حدیث نمبر: 18496
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ أَبُو سَهْلُ بْنُ زِيَادٍ الْطَّحَّانُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ أِيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مُؤْمِنٌ مُجَاهِدٌ فِي سَبِيلِ اللهِ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ". فَقَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَتَّقِي اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ. وَأَخْرَجَاهُ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون لوگ افضل ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ مومن جو اللہ کے راستے میں اپنی جان و مال سے جہاد کرتا ہے۔“ پوچھا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ مومن جو کسی گھاٹی میں اللہ رب العزت سے ڈرتا ہے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18496]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18497
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْعَطَّارُ الْحِيرِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بَعْجَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" مِنْ خَيْرِ ⦗٢٦٨⦘ مَعَاشِ النَّاسِ رَجُلٌ مُمْسِكٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ يَطِيرُ عَلَى مَتْنِهِ، كُلَّمَا سَمِعَ هَيْعَةً أَوْ فَزْعَةً طَارَ عَلَيْهِ يَبْتَغِي الْقَتْلَ وَالْمَوْتَ مَظَانَّهُ، أَوْ رَجُلٌ فِي غَنِيمَةٍ فِي رَأْسِ شَعَفَةٍ مِنْ هَذِهِ الشَّعَفِ أَوْ بَطْنِ وَادٍ مِنْ هَذِهِ الْأَوْدِيَةِ يُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَعْبُدُ رَبَّهُ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْيَقِينُ، لَيْسَ مِنَ النَّاسِ إِلَّا فِي خَيْرٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ عَنْ قُتَيْبَةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ وَيَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ كِلَيْهِمَا عَنْ أَبِي حَازِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَقَالَ: عَنْ بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَدْرٍ، وَقَالَ: فِي شُعْبَةٍ مِنْ هَذِهِ الشِّعَابِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں سے اس شخص کی زندگی نہایت بہتر ہے، جس نے اللہ کے راستے میں اپنی سواری کی لگام کو تھاما۔ جب وہ کسی طرف سے خطرے یا فریاد رسی کی اطلاع پاتا ہے تو برق رفتاری سے اس کی طرف جاتا ہے۔ وہ موت کے مواقع تلاش کرتا ہے یا وہ شخص جو چند بکریوں کے ساتھ اپنی پہاڑی پر مقیم ہے یا کسی وادی میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہے۔ وہ مرتے دم تک نماز اور زکاۃ ادا کرتا ہے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں لگا رہتا ہے۔ ایسا شخص لوگوں سے خیر و بھلائی میں ہے۔“ (ب) بعجہ بن عبداللہ بن بدر فرماتے ہیں: پہاڑیوں میں سے کسی پہاڑی پر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18497]
حدیث نمبر: 18498
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَهُوَ أَبُو مُسْلِمٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ وَعَبْدُ الدِّرْهَمِ وَعَبْدُ الْخَمِيصَةِ، إِنْ أُعْطِيَ رَضِيَ، وَإِنْ مُنِعَ سَخِطَ، تَعِسَ وَانْتَكَسَ، وَإِذَا شِيكَ فَلَا انْتَقَشَ، طُوبَى لِعَبْدٍ آخِذٍ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ، أَشْعَثَ رَأْسُهُ، مُغَبَّرَّةٍ قَدَمَاهُ، إِنْ كَانَ فِي السَّاقَةِ كَانَ فِي السَّاقَةِ، وَإِنْ كَانَ فِي الْحِرَاسَةِ كَانَ فِي الْحِرَاسَةِ، إِنِ اسْتَأْذَنَ لَمْ يُؤَذَنْ لَهُ، وَإِنْ شَفَعَ لَمْ يُشَفَّعْ، طُوبَى لَهُ ثُمَّ طُوبَى لَهُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَرْزُوقٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”درہم و دینار اور چادر کا بندہ ہلاک ہوگیا۔ اگر اسے دیا جائے تو راضی رہتا ہے، اگر نہ ملے تو ناراض ہوجاتا ہے۔ ایسا شخص بدنصیب اور ذلیل ہو، اسے کانٹا چبھ جائے تو نکالا نہ جائے؛ اور اس آدمی کے لیے خوشخبری ہے جس نے اللہ کی راہ میں گھوڑے کی لگام تھام رکھی ہے۔ اس کا سر پراگندہ اور پاؤں خاک آلود ہیں۔ اگر اسے لشکر کے پچھلے حصے میں متعین کیا جائے تو وہاں ڈیوٹی دیتا ہے۔ اگر اسے حفاظتی دستے میں کھڑا کیا جائے تو کھڑا ہوجاتا ہے۔ اگر اجازت چاہے تو اجازت نہیں دی جاتی اور کسی کی سفارش کرے تو سفارش نہیں مانی جاتی، اس کو خوشخبری ہو، خوشخبری ہو!“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18498]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٤٦٣٥۔ ٢٨٨٧»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18499
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: لَوْ أَرْسَلْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا يَسْأَلُهُ عَنْ أَحَبِّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللهِ. قَالَ: فَلَمْ يَذْهَبْ إِلَيْهِ أَحَدٌ مِنَّا وَهِبْنَا أَنْ نَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُولَئِكَ النَّفْرَ رَجُلًا رَجُلًا حَتَّى جَمَعَهُمْ، وَنَزَلَتْ فِيهِمْ هَذِهِ السُّورَةُ: سَبَّحَ لِلَّهِ قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ: فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّهَا، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: قَرَأَهَا عَلَيْنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ كُلَّهَا، قَالَ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ: وَقَرَأَهَا عَلَيْنَا أَبُو سَلَمَةَ كُلَّهَا. ⦗٢٦٩⦘ قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: وَقَرَأَهَا عَلَيْنَا يَحْيَى كُلَّهَا، قَالَ الْعَبَّاسُ: قَالَ أَبِي: وَقَرَأَهَا عَلَيْنَا الْأَوْزَاعِيُّ كُلَّهَا.
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کہنے لگے: کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجو کہ وہ پوچھے کہ اللہ کو کون سے اعمال پسندیدہ ہیں؟ راوی کہتے ہیں: کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ گیا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنا مؤخر کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گروہ کے ایک ایک فرد کو بلایا حتی کہ وہ سب جمع ہو گئے تو ان کے بارے میں یہ سورت نازل ہوئی: ﴿سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ [سورة الصف: 1]
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکمل سورت ہمارے سامنے پڑھی۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے ہمارے سامنے مکمل سورت پڑھی۔ یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابوسلمہ رحمہ اللہ نے وہ سورت پوری ہمارے سامنے پڑھی اور اوزاعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یحییٰ رحمہ اللہ نے وہ سورت مکمل پڑھی۔ عباس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے کہا کہ اوزاعی رحمہ اللہ نے بھی مکمل سورت تلاوت کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18499]
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکمل سورت ہمارے سامنے پڑھی۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے ہمارے سامنے مکمل سورت پڑھی۔ یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابوسلمہ رحمہ اللہ نے وہ سورت پوری ہمارے سامنے پڑھی اور اوزاعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یحییٰ رحمہ اللہ نے وہ سورت مکمل پڑھی۔ عباس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے کہا کہ اوزاعی رحمہ اللہ نے بھی مکمل سورت تلاوت کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18499]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18500
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّاغَانِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، قَالَ: اجْتَمَعْنَا فَتَذَاكَرْنَا فَقُلْنَا: أَيُّكُمْ يَأْتِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَسْأَلُهُ: أِيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللهِ؟ قَالَ: ثُمَّ تَفَرَّقْنَا وَهِبْنَا أَنْ يَأْتِيَهُ مِنَّا أَحَدٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعَنَا فَجَعَلَ يُومِئُ بَعْضُنَا إِلَى بَعْضٍ، فَقَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} إِلَى آخِرِ السُّورَةِ. قَالَ يَحْيَى: فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا أَبُو سَلَمَةَ مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا، قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا يَحْيَى مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: وَقَرَأَهَا عَلَيْنَا الْأَوْزَاعِيُّ مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا، قَالَ مُعَاوِيَةُ: وَقَرَأَهَا أَبُو إِسْحَاقَ عَلَيْنَا مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصَّغَانِيُّ: وَقَرَأَهَا عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا، قَالَ أَبُو الْعَبَّاسِ: لَمْ يَقْرَأْ عَلَيْنَا الصَّغَانِيُّ السُّورَةَ بِتَمَامِهَا، وَقَرَأَ أَبُو الْعَبَّاسِ مِنْ أَوَّلِهَا شَيْئًا، وَقَرَأَ الْقَاضِي مِنْ أَوَّلِهَا شَيْئًا، وَقَرَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ عَلَيْنَا السُّورَةَ مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا، وَقَرَأَهَا الشَّيْخُ مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا.
ابو سلمہ بن عبد الرحمن رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم جمع ہو کر آپس میں بات چیت کر رہے تھے کہ ”کون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے گا کہ اللہ کو کون سے اعمال زیادہ پسندیدہ ہیں؟“ پھر ہم منتشر ہو گئے، اور ہم اس سے ہیبت زدہ رہے کہ ہم میں سے کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلوا کر سب کو جمع فرمایا۔ ہم ایک دوسرے کی جانب اشارہ کر رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ آیت تلاوت کر کے سنائی: ﴿سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ [سورة الصف: 1] ”آسمانوں میں اور زمین میں موجود تمام اشیاء اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہیں، وہ غالب حکمت والا ہے۔“ یحییٰ کہتے ہیں کہ ابو سلمہ نے ابتدا سے لے کر آخر تک تلاوت کی اور ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے شروع سے آخر تک پڑھی اور اوزاعی کہتے ہیں کہ یحییٰ نے ابتدا سے انتہا تک تلاوت کی اور ابو اسحاق کہتے ہیں کہ اوزاعی نے ابتدا سے اخیر تک تلاوت کی اور معاویہ کہتے ہیں کہ ابو اسحاق نے شروع سے آخر تک پڑھی۔ ابوبکر صغانی کہتے ہیں کہ معاویہ نے ہمارے سامنے مکمل سورہ تلاوت کی۔ ابو العباس کہتے ہیں کہ صغانی نے مکمل سورہ تلاوت نہ کی۔ ابو العباس اور قاضی نے ابتدائی حصہ تلاوت کیا اور ابو عبداللہ حافظ نے مکمل سورہ تلاوت کی اور شیخ نے بھی مکمل سورہ پڑھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18500]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18501
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، قَالَ: كَانَ الْحَدِيثُ يَبْلُغُنِي عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَكُنْتُ أَشْتَهِي لِقَاءَهُ فَلَقِيتُهُ فَقُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّهُ كَانَ يَبْلُغُنِي عَنْكَ الْحَدِيثُ فَكُنْتُ أَشْتَهِي لِقَاءَكَ، فَقَالَ: لِلَّهِ أَبُوكَ فَقَدْ لَقِيتَ فَهَاتِ. فَقُلْتُ: حَدِيثٌ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَكُمْ أَنَّ اللهَ تَعَالَى يُحِبُّ ثَلَاثَةً وَيُبْغِضُ ثَلَاثَةً، قَالَ: مَا إِخَالُنِي أَنْ أَكْذِبَ عَلَى خَلِيلِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قُلْتُ: فَمَنِ ⦗٢٧٠⦘ الثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُحِبُّ اللهُ؟ قَالَ: رَجُلٌ لَقِيَ الْعَدُوَّ فَقَاتَلَ وَإِنَّكُمْ لَتَجِدُونَ ذَلِكَ فِي الْكِتَابِ عِنْدَكُمْ: {إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا} [الصف: ٤] . قُلْتُ: وَمَنْ؟ قَالَ: رَجُلٌ لَهُ جَارُ سُوءٍ فَهُوَ يُؤْذِيهِ فَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُ فَيَكْفِيهِ اللهُ إِيَّاهُ بِحَيَاةٍ أَوْ مَوْتٍ. قَالَ: وَمَنْ؟ قَالَ: رَجُلٌ كَانَ مَعَ قَوْمٍ فِي سَفَرٍ فَنَزَلُوا فَعَرَّسُوا وَقَدْ شَقَّ عَلَيْهِمُ الْكَرَى وَالنُّعَاسُ، وَوَضَعُوا رُءُوسَهُمْ فَنَامُوا وَقَامَ فَتَوَضَّأَ فَصَلَّى رَهْبَةً لِلَّهِ وَرَغْبَةً إِلَيْهِ. قُلْتُ: فَمَنِ الثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُبْغِضُ؟ قَالَ: الْبَخِيلُ الْمَنَّانُ، وَالْمُخْتَالُ الْفَخُورُ، وَإِنَّكُمْ لَتَجِدُونَ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللهِ: {إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ} [لقمان: ١٨] . قَالَ: فَمَنِ الثَّالِثُ؟ قَالَ: التَّاجِرُ الْحَلَّافُ، أَوِ الْبَائِعُ الْحَلَّافُ.
مطرف بن عبداللہ بن شخیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث مجھے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے ملی اور میں ان سے ملاقات کا شوق رکھتا تھا۔ جب میری ملاقات ہوئی تو میں نے کہا: اے ابوذر رضی اللہ عنہ! آپ سے یہ حدیث ملی تھی اور ملاقات کا شوق بھی تھا، تو انہوں نے کہا: تیرے باپ کا بھلا ہو۔ اب ملے ہو تو بتاؤ۔ میں نے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تین چیزوں کو پسند فرماتا ہے اور تین سے بغض رکھتا ہے۔“ کہتے ہیں (ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا): میرا خیال نہیں کہ میں اپنے دوست پر جھوٹ بولوں۔ میں نے کہا: وہ کون سی تین اشیاء ہیں جن کو اللہ پسند فرماتا ہے؟ فرمایا: ”پہلا کسی شخص کا دشمن سے قتال کرنا جیسے اللہ کی کتاب میں موجود ہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ﴾ [سورة الصف: 4] کہ اللہ ان لوگوں سے محبت رکھتا ہے جو اس کے راستہ میں صف باندھ کر جہاد کرتے ہیں۔“
میں نے پوچھا: دوسرا کون شخص ہے؟ فرمایا: ”وہ شخص جس کا برا ہمسایہ اسے تکلیف دیتا ہے اور وہ اس کی تکالیف پر صبر کرتا ہے، یہاں تک کہ اللہ (اس کی) زندگی یا موت کے ذریعے اسے اس سے کافی ہو جاتا ہے۔“ تیسرا بندہ کون ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”وہ شخص جو لوگوں کے ساتھ سفر میں شامل ہوتا ہے، لوگ پڑاؤ کرتے وقت سو جاتے ہیں لیکن یہ اللہ کے ڈر اور رغبت سے وضو کر کے نماز کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے۔“ وہ تین آدمی کون سے ہیں جن سے اللہ بغض رکھتا ہے؟ فرمایا: ”پہلا بخیل احسان جتانے والا، دوسرا فخر کرنے والا متکبر،“ اور یہ بھی اللہ کی کتاب میں موجود ہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ﴾ [سورة لقمان: 18] کہ اللہ متکبر فخر کرنے والے سے محبت نہیں کرتا۔ اس نے کہا: تیسرا شخص کون ہے؟ فرمایا: ”قسمیں اٹھانے والا تاجر یا قسمیں اٹھا کر سامان فروخت کرنے والا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18501]
میں نے پوچھا: دوسرا کون شخص ہے؟ فرمایا: ”وہ شخص جس کا برا ہمسایہ اسے تکلیف دیتا ہے اور وہ اس کی تکالیف پر صبر کرتا ہے، یہاں تک کہ اللہ (اس کی) زندگی یا موت کے ذریعے اسے اس سے کافی ہو جاتا ہے۔“ تیسرا بندہ کون ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”وہ شخص جو لوگوں کے ساتھ سفر میں شامل ہوتا ہے، لوگ پڑاؤ کرتے وقت سو جاتے ہیں لیکن یہ اللہ کے ڈر اور رغبت سے وضو کر کے نماز کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے۔“ وہ تین آدمی کون سے ہیں جن سے اللہ بغض رکھتا ہے؟ فرمایا: ”پہلا بخیل احسان جتانے والا، دوسرا فخر کرنے والا متکبر،“ اور یہ بھی اللہ کی کتاب میں موجود ہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ﴾ [سورة لقمان: 18] کہ اللہ متکبر فخر کرنے والے سے محبت نہیں کرتا۔ اس نے کہا: تیسرا شخص کون ہے؟ فرمایا: ”قسمیں اٹھانے والا تاجر یا قسمیں اٹھا کر سامان فروخت کرنے والا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18501]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الطيالسي ٤٦٨»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18502
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَقَامَ بِتَبُوكَ خَطَبَ النَّاسَ وَهُوَ مُضِيفٌ ظَهْرَهُ إِلَى نَخْلَةٍ فَقَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ وَشَرِّ النَّاسِ؟ إِنَّ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ رَجُلًا عَمِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ، أَوْ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرِهِ، أَوْ عَلَى قَدَمِهِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمَوْتُ، وَإِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ رَجُلًا فَاجِرًا يَقْرَأُ كِتَابَ اللهِ فَلَا يَرْعَوِي إِلَى شَيْءٍ مِنْهُ".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک میں لوگوں کو کھجور کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا: ”میں تمہیں بہترین اور بدترین لوگ نہ بتاؤں؟ بہتر انسان وہ ہے جو گھوڑے یا اونٹ یا پیادہ موت تک اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے اور بدترین شخص فاجر جری ہے جو کتاب اللہ کی تلاوت کرتا ہے لیکن کوئی چیز اس سے حاصل نہیں کرتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18502]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف