🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3808. -- باب: ما ورد النهي عن التضحية به
-- باب: جن جانوروں کی قربانی کرنے کی ممانعت وارد ہوئی ہے ان کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19104
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جُرِيِّ بْنِ كُلَيْبٍ، سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُضَحَّى بِعَضْبَاءِ الْأُذُنِ وَالْقَرْنِ. قَالَ قَتَادَةُ: وَسَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنِ الْعَضَبِ، فَقَالَ: النِّصْفُ فَمَا زَادَ.
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ایسا جانور قربانی کرنے سے منع کیا جس کا آدھا کان کاٹ دیا گیا ہو اور نصف سینگ توڑ دیا گیا ہو۔“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے «عَضْب» کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”اس کا معنی نصف یا اس سے زیادہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19104]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19105
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، ثنا يُونُسُ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُجَيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَضْبَاءِ الْأُذُنِ وَالْقَرْنِ. كَذَا فِي هَاتَيْنِ الرِّوَايَتَيْنِ وَالْأُولَى أَمْثَلُهُمَا، وَالْأُخْرَى أَضْعَفُهُمَا، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَوْقُوفًا خِلَافُ ذَلِكَ فِي الْقَرْنِ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ایسا جانور قربانی کرنے سے منع فرمایا جس کا آدھا کان کاٹ دیا گیا ہو اور نصف سینگ توڑ دیا گیا ہو“۔
ان دونوں روایتوں میں اسی طرح ہے، ان میں سے پہلی زیادہ بہتر ہے اور دوسری زیادہ ضعیف ہے، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سینگ کے بارے میں اس کے خلاف موقوف روایت بھی منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19105]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19106
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ شَوْذَبٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ، قَالَ حُجَيَّةُ: كُنَّا عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: الْبَقَرَةُ؟ فَقَالَ: عَنْ سَبْعَةٍ. قَالَ: الْقَرْنُ؟ قَالَ: لَا يَضُرُّكَ. قَالَ: الْعَرَجُ؟ قَالَ: إِذَا بَلَغْتَ الْمَنْسَكَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ.
حجیّہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، ایک شخص نے پوچھا: گائے کتنے آدمیوں کی جانب سے ہوتی ہے؟ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سات کی جانب سے۔ اس شخص نے سینگ کے بارے میں پوچھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کا کوئی حرج نہیں۔ اس شخص نے لنگڑے پن کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: جب قربانی قربان گاہ پہنچ جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ”آنکھ اور کان غور سے دیکھنے“ کا حکم دیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19106]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19107
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ ابْنُ شَوْذَبٍ، ثنا شُعَيْبٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْبَقَرَةِ، فَقَالَ: مِنْ سَبْعَةٍ. قَالَ: مَكْسُورَةُ الْقَرْنِ؟ قَالَ: لَا تَضُرُّكَ. قَالَ: الْعَرْجَاءُ؟ قَالَ: إِذَا بَلَغْتَ الْمَنْسَكَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ. فَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِالْأَوَّلِ إِنْ صَحَّ التَّنْزِيهُ فِي الْقَرْنِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَيْسَ فِي الْقَرْنِ نَقْصٌ، يَعْنِي لَيْسَ فِي نَقْصِهِ أَوْ فَقْدِهِ نَقْصٌ فِي اللَّحْمِ.
حجیہ بن عدی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ سے گائے کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا: ”یہ سات آدمیوں کی جانب سے ہوتی ہے“ اور جب ان سے ٹوٹے ہوئے سینگ والے جانور کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ اس شخص نے لنگڑے پن کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگے: جب قربانی قربان گاہ پہنچ جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ”کان اور آنکھ غور سے دیکھنے“ کا حکم دیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سینگ کا ٹوٹ جانا یا نہ ہونا قربانی کے جانور کو نقصان نہیں دیتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19107]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں