🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3810. -- باب: وقت الأضحية
-- باب: قربانی کے وقت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19109
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ عَنْ زُبَيْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ نَحْرٍ فَقَالَ:" إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ عَجَّلَهُ لِأَهْلِهِ لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ". يَعْنِي فَقَامَ خَالِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَا ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أُصَلِّيَ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ، فَقَالَ:" اجْعَلْهَا مَكَانَهَا"، أَوْ قَالَ:" اذْبَحْهَا وَلَنْ تُوفِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ"..
امام شعبی رحمہ اللہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن خطبہ ارشاد فرمایا کہ: ”اس دن میں سب سے پہلا کام نماز پڑھنا اور اس کے بعد جا کر قربانی کرنا ہے۔ جس نے یہ کام کیا اس نے ہمارے طریقے کو پا لیا اور جس نے نماز پڑھنے سے پہلے ہی قربانی کر دی تو یہ اس کے گھر والوں کے لیے گوشت تو ہے لیکن قربانی نہیں۔“ راوی کہتے ہیں: میرے ماموں سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے نماز سے پہلے قربانی کر دی۔ لیکن اب میرے پاس دو دانت والے جانور سے بہتر جذعہ موجود ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو قربانی کر دو، لیکن تمہارے بعد یہ کسی سے کفایت نہ کرے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19109]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19110
وَأَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا شُعْبَةُ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ وَقَالَ: اجْعَلْهَا مَكَانَهَا وَلَنْ تُجْزِيَ أَوْ تُوفِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَحَجَّاجِ بْنِ مِنْهَالٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
شعبہ رحمہ اللہ اپنی سند سے بیان کرتے ہیں کہ ”تو اس کی جگہ پر ذبح کر دے لیکن تیرے بعد کسی سے بھی یہ کفایت نہ کرے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19110]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19111
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أنبأ أَبُو عَوَانَةَ، أنبأ فِرَاسٌ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ:" مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا فَلَا يَذْبَحْ حَتَّى يَنْصَرِفَ". فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَعَلْتُ. فَقَالَ:" هُوَ شَيْءٌ عَجَّلْتَهُ". قَالَ: فَإِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً هِيَ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّتَيْنِ أَذْبَحُهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ وَلَا تُجْزِي عَنْ إِنْسَانٍ بَعْدَكَ". قَالَ عَامِرٌ: فَهِيَ خَيْرُ نَسِيكَتَيْنِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
عامر، حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک دن نماز پڑھائی اور فرمایا: ”جس نے ہماری طرح نماز پڑھی اور ہمارے قبلہ کی طرف متوجہ ہوا وہ نماز سے پہلے قربانی ذبح نہ کرے۔“ ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے جانور ذبح کر دیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے جلدی کی ہے۔“ ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پاس دو دانت والے جانور سے بہتر جذعہ موجود ہے، کیا میں اس کو ذبح کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی کر دو لیکن تمہارے بعد یہ کسی انسان سے کفایت نہ کرے گی۔“ عامر کہتے ہیں: تو یہ دونوں قربانیوں میں سے بہتر قربانی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19111]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19112
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنِ ⦗٤٦٤⦘ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَقَالَ:" مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا وَنَسَكَ مَنْسَكَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ، وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَتِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ". فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ دِينَارٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَاللهِ لَقَدْ نَسَكْتُ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الصَّلَاةِ، وَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ فَتَعَجَّلْتُ وَأَكَلْتُ وَأَطْعَمْتُ أَهْلِي وَجِيرَانِي. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ". قَالَ: فَإِنَّ عِنْدِي عَنَاقًا جَذَعَةً خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ فَهَلْ تُجْزِي عَنِّي؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَلَنْ تُجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ وَهَنَّادٍ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ.
امام شعبی رحمہ اللہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن نماز کے بعد ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہماری طرح نماز ادا کی اور اس کے بعد قربانی ذبح کی، اس نے قربانی کر دی اور جس نے نماز سے پہلے ہی قربانی کی تو یہ گوشت والی بکری ہے۔“ ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے نماز کی جانب آنے سے پہلے ہی قربانی کر دی۔ کیونکہ میں یہ جانتا تھا کہ یہ دن کھانے پینے کا ہے، میں نے جلدی کی تو میں نے خود بھی اپنے گھر والوں اور ہمسایوں کو بھی کھلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ گوشت کی بکری ہے۔“ ابو بردہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میرے پاس بکری کا جذعہ جو گوشت کی دو بکریوں سے بھی زیادہ بہتر ہے، کیا یہ مجھ سے کفایت کر جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری جانب سے کفایت کر جائے گا لیکن تیرے بعد کسی سے کفایت نہ کرے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19112]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19113
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَذْبَحَنَّ أَحَدٌ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ". فَقَامَ إِلَيْهِ خَالِي فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ هَذَا الْيَوْمَ فِيهِ اللَّحْمُ كَثِيرٌ، وَإِنِّي ذَبَحْتُ نَسِيكَتِي لِيَأْكُلَ أَهْلِي وَجِيرَانِي، وَإِنَّ عِنْدِي عَنَاقَ لَبَنٍ خَيْرٌ مِنْ شَاةِ لَحْمٍ، فَأَذْبَحُهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَلَا تُجْزِي جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ، وَهِيَ خَيْرُ نَسِيكَتِكَ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ دَاوُدَ، وَاسْتَشْهَدَ بِهِ الْبُخَارِيُّ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز پڑھنے سے پہلے کوئی قربانی ذبح نہ کرے۔“ میرے ماموں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس دن میں گوشت بہت زیادہ ہوتا ہے، میں نے اپنے گھر والوں اور ہمسایوں کو کھلانے کے لیے پہلے ہی ذبح کر دیا، میرے پاس بکری کا جذعہ جو گوشت والی بکری سے بہتر ہے، کیا میں اس کو ذبح کر دوں؟ فرمایا: ”ذبح کر لو لیکن آپ کے بعد جذعہ کسی سے کفایت نہ کرے گا۔ یہ تیری بہترین قربانی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19113]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19114
وَقَالَ مُطَرِّفٌ: عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ ضَحَّى قَبْلَ الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا ذَبَحَ لِنَفْسِهِ، وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُطَرِّفٍ فَذَكَرَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ مُسَدَّدٍ، عَنْ خَالِدٍ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز سے پہلے قربانی کر لی تو اس نے اپنے لیے ذبح کی ہے اور جس نے نماز کے بعد جانور ذبح کیا تو اس کی قربانی مکمل ہوئی اور اس نے مسلمانوں کے طریقے کو پا لیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19114]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19115
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ يُحَدِّثُ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: ذَبَحَ أَبُو بُرْدَةَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْدِلْهَا". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَيْسَ عِنْدِي إِلَّا جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ. قَالَ: اجْعَلْهَا مَكَانَهَا وَلَنْ تُجْزِيَ أَوْ تُوفِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے نماز سے پہلے قربانی کرلی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی جگہ اور قربانی کر۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس «مُسِنَّة» سے بہتر «جَذَعَة» موجود ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی جگہ ذبح کر دو لیکن آپ کے بعد کسی سے بھی یہ کفایت نہ کرے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19115]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19116
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا تَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدٌ، يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، ثنا حَمَّادٌ، ثنا أَيُّوبُ، وَهِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى ثُمَّ خَطَبَ فَأَمَرَ مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ أَنْ يُعِيدَ ذَبْحًا. قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: إِنَّ جِيرَانِي بِهِمْ فَاقَةٌ، أَوْ قَالَ: خَصَاصَةٌ، فَذَبَحْتُ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَعِنْدِي عَنَاقٌ هِيَ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ. قَالَ: فَرَخَّصَ لَهُ، فَإِنْ كَانَتْ رُخْصَةً لَهُ كَانَ ذَلِكَ، وَإِلَّا فَلَا عِلْمَ لِي، ثُمَّ انْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ يَعْنِي فَذَبَحَهُمَا، وَتَفَرَّقَ النَّاسُ إِلَى غَنِيمَةٍ فَتَجَزَّعُوهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ حَامِدِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، إِلَى قَوْلِهِ: فَرَخَّصَ لَهُ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا اور حکم دیا کہ ”جس نے نماز سے پہلے جانور ذبح کر دیا تو وہ اس کی جگہ دوسرا ذبح کرے“۔ ایک انصاری نے کھڑے ہو کر کہا: میرا ہمسایہ فاقے سے تھا، میں نے نماز سے پہلے ہی ذبح کر دیا۔ لیکن میرے پاس بکری کا بچہ جو مجھے گوشت کی دو بکریوں سے زیادہ اچھا لگتا ہے موجود ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو رخصت دے دی۔ اگر یہ رخصت صرف اسی کے لیے تھی تو ایسا ہی ہے، ورنہ مجھے علم نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں مینڈھے ذبح کیے اور لوگوں نے جا کر اپنی بکریاں ذبح کیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19116]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19117
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، وأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدُبَ بْنَ سُفْيَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: شَهِدْتُ الْأَضْحَى مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ نَاسًا ذَبَحُوا قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ:" مَنْ ذَبَحَ مِنْكُمْ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيُعِدْ ذَبِيحَتَهُ، وَمَنْ لَا فَلْيَذْبَحْ عَلَى اسْمِ اللهِ". لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ الْأَعْرَابِيِّ، وَفِي رِوَايَةِ الصَّفَّارِ: فَعَلِمَ أَنَّ نَاسًا وَقَالَ:" فَلْيُعِدْ أُضْحِيَّتَهُ، وَمَنْ لَا يَكُنْ فَلْيَذْبَحْ عَلَى اسْمِ اللهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنِ أَبِي عُمَرَ عَنْ سُفْيَانَ. فَفِي هَذِهِ الْأَخْبَارِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ.
سیدنا جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں قربانی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا کہ ایک شخص نے کہا: لوگوں نے نماز سے پہلے ہی قربانیاں کردی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز سے پہلے قربانی کردی تو اس کی جگہ دوسری قربانی کرے، اور جس نے ابھی تک قربانی نہیں کی وہ اللہ کا نام لے کر قربانی کرے۔“
(ب) صفار کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کی قربانیوں کے بارے میں علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی جگہ اور قربانیاں کرو اور جس نے ابھی تک قربانی نہیں کی، وہ اللہ کا نام لے کر قربانی کرے۔“ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نماز سے پہلے کی ہوئی قربانی شمار نہ کی جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19117]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19118
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا صَفْوَانُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ الرَّجِيُّ، قَالَ: خَرَجَ عَبْدُ اللهِ بْنُ بُسْرٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّاسِ فِي يَوْمِ عِيدِ فِطْرٍ أَوْ أَضْحًى فَأَنْكَرَ إِبْطَاءَ الْإِمَامِ وَقَالَ: إِنَّا كُنَّا فَرَغْنَا سَاعَتَنَا هَذِهِ وَذَلِكَ حِينَ التَّسْبِيحِ. وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْدُو إِلَى الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ فَيَتَتَامُّ طُلُوعُهَا فَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي صَلَاةَ الْعِيدِ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ، فَمَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلَ وَأَطْعَمَ أَهْلَهُ وَجِيرَانَهُ كَمَا رُوِّينَا فِي حَدِيثِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ كَانَ ذَبْحُهُ وَاقِعًا قَبْلَ أَنْ يَحِلَّ وَقْتُهُ وَذَلِكَ لَا يَجُوزُ، فَذَلِكَ أُمِرَ بِالْإِعَادَةِ، فَمَنْ ضَحَّى بِالْوَقْتِ الَّذِي يَحِلُّ ⦗٤٦٦⦘ فِيهِ الصَّلَاةُ وَيَمْضِي مِقْدَارُ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخُطْبَتِهِ أَجْزَأَتْ أُضْحِيَّتُهُ إِنْ شَاءَ اللهُ.
یزید بن خمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ عید الفطر یا عید الاضحیٰ کے دن لوگوں کے ساتھ نکلے تو امام کے دیر سے آنے کو ناپسند کیا اور کہنے لگے: اس وقت تک تو ہم فارغ ہو چکے ہوتے تھے۔
(ب) حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحیٰ اور عید الفطر کی جانب مکمل سورج طلوع ہو جانے کے بعد نکل آتے اور عید کی نمازِ اول وقت میں پڑھا دیتے۔ جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے پہلے کھا لیا اور اپنے گھر والوں اور ہمسایوں کو کھلایا، جیسا کہ حضرت ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کی حدیث میں واضح ہے، یہ جائز نہ تھا، اس لیے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دوبارہ قربانی کرنے کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19118]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں