السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3810. -- باب: وقت الأضحية
-- باب: قربانی کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 19118
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا صَفْوَانُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ الرَّجِيُّ، قَالَ: خَرَجَ عَبْدُ اللهِ بْنُ بُسْرٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّاسِ فِي يَوْمِ عِيدِ فِطْرٍ أَوْ أَضْحًى فَأَنْكَرَ إِبْطَاءَ الْإِمَامِ وَقَالَ: إِنَّا كُنَّا فَرَغْنَا سَاعَتَنَا هَذِهِ وَذَلِكَ حِينَ التَّسْبِيحِ. وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْدُو إِلَى الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ فَيَتَتَامُّ طُلُوعُهَا فَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي صَلَاةَ الْعِيدِ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ، فَمَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلَ وَأَطْعَمَ أَهْلَهُ وَجِيرَانَهُ كَمَا رُوِّينَا فِي حَدِيثِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ كَانَ ذَبْحُهُ وَاقِعًا قَبْلَ أَنْ يَحِلَّ وَقْتُهُ وَذَلِكَ لَا يَجُوزُ، فَذَلِكَ أُمِرَ بِالْإِعَادَةِ، فَمَنْ ضَحَّى بِالْوَقْتِ الَّذِي يَحِلُّ ⦗٤٦٦⦘ فِيهِ الصَّلَاةُ وَيَمْضِي مِقْدَارُ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخُطْبَتِهِ أَجْزَأَتْ أُضْحِيَّتُهُ إِنْ شَاءَ اللهُ.
یزید بن خمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ عید الفطر یا عید الاضحیٰ کے دن لوگوں کے ساتھ نکلے تو امام کے دیر سے آنے کو ناپسند کیا اور کہنے لگے: اس وقت تک تو ہم فارغ ہو چکے ہوتے تھے۔
(ب) حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحیٰ اور عید الفطر کی جانب مکمل سورج طلوع ہو جانے کے بعد نکل آتے اور عید کی نمازِ اول وقت میں پڑھا دیتے۔ جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے پہلے کھا لیا اور اپنے گھر والوں اور ہمسایوں کو کھلایا، جیسا کہ حضرت ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کی حدیث میں واضح ہے، یہ جائز نہ تھا، اس لیے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دوبارہ قربانی کرنے کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19118]
(ب) حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحیٰ اور عید الفطر کی جانب مکمل سورج طلوع ہو جانے کے بعد نکل آتے اور عید کی نمازِ اول وقت میں پڑھا دیتے۔ جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے پہلے کھا لیا اور اپنے گھر والوں اور ہمسایوں کو کھلایا، جیسا کہ حضرت ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کی حدیث میں واضح ہے، یہ جائز نہ تھا، اس لیے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دوبارہ قربانی کرنے کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19118]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19118 in Urdu