🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3821. -- باب: ما يستحب للمرء من أن يتولى ذبح نسكه أو يشهده
-- باب: آدمی کے لیے اپنی قربانی خود ذبح کرنے یا اس کے پاس حاضر رہنے کے مستحب ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19160
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْعَتَكِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: ضَحَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ وَذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ، وَسَمَّى وَكَبَّرَ وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چتکبرے، سینگوں والے مینڈھے قربان کیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پاؤں ان کے پہلو پر رکھا اور تکبیر پڑھ کر اپنے ہاتھ سے دونوں کو ذبح کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19160]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19161
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ آبَائِهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِفَاطِمَةَ:" يَا فَاطِمَةُ قُومِي فَاشْهَدِي أُضْحِيَّتَكِ، أَمَا إِنَّ لَكِ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ تَقْطُرُ مِنْ دَمِهَا مَغْفِرَةً لِكُلِّ ذَنْبٍ، أَمَا إِنَّهُ يُجَاءُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلُحُومِهَا وَدِمَائِهَا سَبْعِينَ ضِعْفًا حَتَّى تُوضَعَ فِي مِيزَانِكِ". فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَهَذِهِ لِآلِ مُحَمَّدٍ خَاصَّةً فَهُمْ أَهْلٌ لِمَا خُصُّوا بِهِ مِنْ خَيْرٍ، أَوْ لِآلِ مُحَمَّدٍ وَالنَّاسِ عَامَّةً؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلْ هِيَ لِآلِ مُحَمَّدٍ وَالنَّاسِ عَامَّةً". عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ضَعِيفٌ.
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدتنا فاطمہ رضی اللہ عنہا سے یہ بات کہی: ”اپنی قربانی کے پاس کھڑی ہو جاؤ؛ کیونکہ قربانی کے خون کے پہلے قطرے کے ساتھ ہی تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ قیامت کے دن قربانی کا جانور اپنے گوشت اور خون سمیت لایا جائے گا اور اسے ستر گنا بڑھا کر آپ کے نامہ اعمال میں تولا جائے گا۔“ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! کیا یہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص ہے یا عام لوگوں کے لیے بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ یہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام لوگوں کے لیے ہے۔“
عمرو بن خالد ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19161]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19162
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا مَعْقِلُ بْنُ مَالِكٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الثُّمَالِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا فَاطِمَةُ قُومِي فَاشْهَدِي أُضْحِيَّتَكِ فَإِنَّهُ يُغْفَرُ لَكِ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ تَقْطُرُ مِنْ دَمِهَا كُلُّ ذَنْبٍ عَمِلْتِيهِ، وَقُولِي: {إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ} [الأنعام: ١٦٣] . قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا لَكَ وَلِأَهْلِ بَيْتِكَ خَاصَّةً، فَأَهْلُ ذَلِكَ أَنْتُمْ، أَمْ لِلِمُسْلِمِينَ عَامَّةً؟ قَالَ:" بَلْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً". وَرَوَاهُ أَيْضًا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمُلَائِيُّ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِفَاطِمَةَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، ⦗٤٧٧⦘ وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَمَرَ بَنَاتِهِ أَنْ يُضَحِّينَ بِأَيْدِيهِنَّ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فاطمہ! اپنی قربانی کے ذبح ہوتے وقت پاس کھڑی ہونا؛ کیونکہ قربانی کے خون کے پہلے قطرے کے ساتھ ہی تیرے کیے ہوئے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے اور یہ کہہ: ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الأنعام: 162-163] ”بیشک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔““ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! یہ آپ کی جانب سے ہے اور آپ کے گھر والوں کی طرف سے خاص ہے یا عام مسلمانوں کی طرف سے بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ عام مسلمانوں کی جانب سے بھی ہے۔“
(ب) سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو اپنے ہاتھوں سے قربانی ذبح کرنے کا حکم دیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19162]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں