السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3821. -- باب: ما يستحب للمرء من أن يتولى ذبح نسكه أو يشهده
-- باب: آدمی کے لیے اپنی قربانی خود ذبح کرنے یا اس کے پاس حاضر رہنے کے مستحب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 19161
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ آبَائِهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِفَاطِمَةَ:" يَا فَاطِمَةُ قُومِي فَاشْهَدِي أُضْحِيَّتَكِ، أَمَا إِنَّ لَكِ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ تَقْطُرُ مِنْ دَمِهَا مَغْفِرَةً لِكُلِّ ذَنْبٍ، أَمَا إِنَّهُ يُجَاءُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلُحُومِهَا وَدِمَائِهَا سَبْعِينَ ضِعْفًا حَتَّى تُوضَعَ فِي مِيزَانِكِ". فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَهَذِهِ لِآلِ مُحَمَّدٍ خَاصَّةً فَهُمْ أَهْلٌ لِمَا خُصُّوا بِهِ مِنْ خَيْرٍ، أَوْ لِآلِ مُحَمَّدٍ وَالنَّاسِ عَامَّةً؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلْ هِيَ لِآلِ مُحَمَّدٍ وَالنَّاسِ عَامَّةً". عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ضَعِيفٌ.
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدتنا فاطمہ رضی اللہ عنہا سے یہ بات کہی: ”اپنی قربانی کے پاس کھڑی ہو جاؤ؛ کیونکہ قربانی کے خون کے پہلے قطرے کے ساتھ ہی تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ قیامت کے دن قربانی کا جانور اپنے گوشت اور خون سمیت لایا جائے گا اور اسے ستر گنا بڑھا کر آپ کے نامہ اعمال میں تولا جائے گا۔“ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! کیا یہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص ہے یا عام لوگوں کے لیے بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ یہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام لوگوں کے لیے ہے۔“
عمرو بن خالد ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19161]
عمرو بن خالد ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19161]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19161 in Urdu