🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3832. -- باب: الرجل يشتري أضحية وهي تامة ثم عرض لها نقص وبلغت المنسك
-- باب: اس شخص کا بیان جو قربانی کا مکمل (بے عیب) جانور خریدے، پھر اس میں کوئی عیب پیدا ہو جائے اور وہ قربان گاہ تک پہنچ جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19192
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ حَذْفٍ الْعَبْسِيِّ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالرَّحْبَةِ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ هَمْدَانَ يَسُوقُ بَقَرَةً مَعَهَا وَلَدُهَا، فَقَالَ: إِنِّي اشْتَرَيْتُهَا أُضَحِّي بِهَا وَإِنَّهَا وَلَدَتْ. قَالَ: فَلَا تَشْرَبْ مِنْ لَبَنِهَا إِلَّا فَضْلًا عَنْ وَلَدِهَا، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ فَانْحَرْهَا هِيَ وَوَلَدَهَا عَنْ سَبْعَةٍ.
مغیرہ بن حذف عبسی فرماتے ہیں: ہم رحبہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، ہمدان کا ایک شخص آیا، وہ ایک گائے اور اس کے بچے کو ہانک رہا تھا، پھر کہنے لگا: میں نے اسے قربانی کے لیے خریدا تھا پھر اس نے بچہ جن دیا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اس کا دودھ صرف اتنا ہی پی سکتے ہو جو بچے سے زائد رہ جائے، جب قربانی کا دن آئے گا تو اسے اور اس کے بچے کو سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کر دینا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19192]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19193
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جَابِرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ قَرَظَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: اشْتَرَيْتُ شَاةً لِأُضَحِّيَ بِهَا فَخَرَجْتُ، فَأَخَذَ الذِّئْبُ أَلْيَتَهَا، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" ضَحِّ بِهَا". وَفِي رِوَايَةِ سُفْيَانَ: اشْتَرَيْنَا كَبْشًا لِنُضَحِّيَ بِهِ فَقَطَعَ الذِّئْبُ أَلْيَتَهُ أَوْ مِنْ أَلْيَتِهِ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنِي أَنْ أُضَحِّيَ بِهِ. وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ وَشَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ، إِلَّا أَنَّ جَابِرًا غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے قربانی کے لیے ایک بکری خریدی اور نکلا تو ایک بھیڑیے نے اس کی چکی (دم والا حصہ) پکڑ لی۔ میں نے اس کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قربانی کر دو۔“
(ب) سفیان کی روایت میں ہے کہ ہم نے قربانی کے لیے ایک مینڈھا خریدا تو بھیڑیے نے اس کی چکی یا چکی کا کچھ حصہ کاٹ ڈالا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی قربانی کرنے کا حکم دیا۔
البتہ جابر (جعفی) قابلِ حجت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19193]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19194
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا بَأْسَ بِالْأُضْحِيَّةِ الْمَقْطُوعَةِ الذَّنَبِ". وَهَذَا مُخْتَصَرٌ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ، فَقَدْ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَاةٍ قَطَعَ الذِّئْبُ ذَنَبَهَا يُضَحِّي بِهَا؟ قَالَ:" ضَحِّ بِهَا".
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دم کٹے جانور کی قربانی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔“
(ب) سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی بکری کے بارے میں پوچھا جس کی دم کو بھیڑیے نے کاٹ دیا تھا کہ کیا اس کی قربانی کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قربانی کر دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19194]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں