السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3832. -- باب: الرجل يشتري أضحية وهي تامة ثم عرض لها نقص وبلغت المنسك
-- باب: اس شخص کا بیان جو قربانی کا مکمل (بے عیب) جانور خریدے، پھر اس میں کوئی عیب پیدا ہو جائے اور وہ قربان گاہ تک پہنچ جائے۔
حدیث نمبر: 19194
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا بَأْسَ بِالْأُضْحِيَّةِ الْمَقْطُوعَةِ الذَّنَبِ". وَهَذَا مُخْتَصَرٌ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ، فَقَدْ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَاةٍ قَطَعَ الذِّئْبُ ذَنَبَهَا يُضَحِّي بِهَا؟ قَالَ:" ضَحِّ بِهَا".
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دم کٹے جانور کی قربانی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔“
(ب) سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی بکری کے بارے میں پوچھا جس کی دم کو بھیڑیے نے کاٹ دیا تھا کہ کیا اس کی قربانی کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قربانی کر دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19194]
(ب) سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی بکری کے بارے میں پوچھا جس کی دم کو بھیڑیے نے کاٹ دیا تھا کہ کیا اس کی قربانی کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قربانی کر دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19194]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19194 in Urdu