السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3875. -- باب: ما جاء في أكل لحوم الحمر الأهلية
-- باب: پالتو گدھوں کا گوشت کھانے کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19470
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو طَلْحَةَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ، ثنا بُنْدَارٌ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: وَكَانَ بَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ أَنَّهُ اشْتَكَى فَنُعِتَ لَهُ أَنْ يَسْتَنْقِعَ فِي أَلْبَانِ الْأُتُنِ وَمَرَقِهَا، فَكَرِهَ ذَلِكَ.
مجزاہ بن زاہر رحمہ اللہ اپنے والد (زاہر رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے درخت کے نیچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی کہ وہ بیمار ہوئے تو انہیں بتایا گیا کہ گدھی کے دودھ اور شوربے کو استعمال کیا جائے تو انہوں نے اس کو ناپسند کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19470]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19471
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عُبَيْدٍ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ مَعْقِلٍ، عَنْ غَالِبِ بْنِ أَبْجَرَ، قَالَ: أَصَابَتْنَا سَنَةٌ فَلَمْ يَكُنْ فِي مَالِي شَيْءٌ أُطْعِمُ أَهْلِي إِلَّا شَيْءٌ مِنْ حُمُرٍ، وَقَدْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ لُحُومَ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَصَابَتْنَا سَنَةٌ وَلَمْ يَكُنْ فِي مَالِي مَا أُطْعِمُ أَهْلِي إِلَّا سِمَانَ حُمُرٍ، وَإِنَّكَ حَرَّمْتَ لُحُومَ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، فَقَالَ: أَطْعِمْ أَهْلَكَ مِنْ سَمِينِ حُمُرِكَ فَإِنَّمَا حَرَّمْتُهَا مِنْ أَجْلِ جَوَّالِي الْقَرْيَةِ". فَهَذَا حَدِيثٌ مُخْتَلَفٌ فِي إِسْنَادِهِ، رَوَاهُ شُعْبَةُ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْهُ عَنْ عُبَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ نَاسٍ مِنْ مُزَيْنَةَ أَنَّ أَبْجَرَ أَوِ ابْنَ أَبْجَرَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى عَنْهُ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرٍ، وَرُوِيَ عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عُبَيْدٍ، عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ رَجُلَيْنِ مِنْ مُزَيْنَةَ أَحَدُهُمَا عَنِ الْآخَرِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ وَغَالِبِ بْنِ أَبْجَرَ، قَالَ مِسْعَرٌ: وَأَرَى غَالِبَ بْنَ أَبْجَرَ الَّذِي سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَرُوِيَ عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ غَالِبِ بْنِ أَبْجَرَ، وَمِثْلُ هَذَا لَا يُعَارَضُ بِهِ الْأَحَادِيثُ الصَّحِيحَةُ الَّتِي قَدْ مَضَتْ مُصَرِّحَةً بِتَحْرِيمِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
غالب بن ابجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں قحط سالی آگئی تو میرے پاس گھر والوں کو کھلانے کے لیے صرف گدھا موجود تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع کر دیا تھا۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آ کر کہا: قحط سالی کے دور میں گھر والوں کو کھلانے کے لیے صرف گدھا موجود ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو گدھے کا گوشت کھانے سے منع کر دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھر والوں کو گدھے کا گوشت کھلاؤ، میں نے تو صرف بستی میں (گندگی کھاتے) گھومنے والے گدھوں کی وجہ سے انہیں حرام کیا تھا۔“
اس حدیث کی سند میں اختلاف ہے، اور اس جیسی روایت کو ان صحیح احادیث کے مقابلے میں پیش نہیں کیا جا سکتا جو پہلے گزر چکی ہیں اور جن میں گھریلو گدھوں کے گوشت کی حرمت کی صراحت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19471]
اس حدیث کی سند میں اختلاف ہے، اور اس جیسی روایت کو ان صحیح احادیث کے مقابلے میں پیش نہیں کیا جا سکتا جو پہلے گزر چکی ہیں اور جن میں گھریلو گدھوں کے گوشت کی حرمت کی صراحت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19471]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف