السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3903. -- باب: ما جاء فيمن مر بحائط إنسان أو ماشيته
-- باب: اس شخص کے متعلق کیا مروی ہے جو کسی کے باغ یا اس کے مویشیوں کے پاس سے گزرے۔
حدیث نمبر: 19658
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ سَلِيطِ بْنِ عَبْدِ اللهِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ ذُهَيْلِ بْنِ عَوْفِ بْنِ شَمَّاخٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا إِبِلٌ مُصَرَّرَةٌ بِعِضَاهِ الشَّجَرِ فَانْطَلَقَ نَاسٌ لِيَحْتَلِبُوا، فَدَعَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَاسًا عَمَدُوا إِلَى مَزَاوِدِكُمْ فِيهَا أَزْوِدَتُكُمْ فَأَخَذُوا مَا فِيهَا لَكَانُوا غَدَرُوكُمْ؟" قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ:" هَذِهِ لِأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، إِنَّ مَا فِي ضُرُوعِهَا مِثْلُ مَا فِي أَزْوِدَتِكُمْ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ فَمَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنْ مَالِ أَخِيهِ؟ قَالَ:" أَنْ يَأْكُلَ وَلَا يَحْمِلَ، وَيَشْرَبَ وَلَا يَحْمِلَ". هَذَا إِسْنَادٌ مَجْهُولٌ لَا تَقُومُ بِمِثْلِهِ الْحُجَّةُ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الْحَجَّاجِ مَا دَلَّ أَنَّهُ فِي الْمُضْطَرِّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ کچھ اونٹ کانٹے دار درختوں کے پاس تھے جن کے تھن باندھے ہوئے تھے۔ لوگ ان کا دودھ دوہنے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا لیا اور فرمایا: ”اگر لوگ تمہارے مشکیزے میں موجود چیز کا قصد کریں اور تمہاری کھانے کی اشیاء لے جائیں تو انہوں نے تمہارے ساتھ غدر کیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ہاں! فرمایا: ”یہ بھی مسلمان گھروں کی مانند ہیں جو ان کے تھنوں میں موجود ہے۔ وہ تمہارے مشکیزوں میں موجود اشیاء کی مانند ہے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اپنے بھائی کے مال سے حلال چیز کے متعلق پوچھا تو فرمایا: ”کھائے پیے لیکن ساتھ نہ لے کر جائے۔“
یہ سند مجہول ہے، اس جیسی سند سے دلیل قائم نہیں ہوتی، اور حجاج بن ارطاۃ قابلِ حجت نہیں ہیں۔ حجاج سے ایک دوسری سند سے بھی روایت کی گئی ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ مجبور (مضطر) شخص کے بارے میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19658]
یہ سند مجہول ہے، اس جیسی سند سے دلیل قائم نہیں ہوتی، اور حجاج بن ارطاۃ قابلِ حجت نہیں ہیں۔ حجاج سے ایک دوسری سند سے بھی روایت کی گئی ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ مجبور (مضطر) شخص کے بارے میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19658]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19659
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنِ الْحَجَّاجِ، ⦗٦٠٦⦘ عَنْ سَلِيطِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ ذُهَيْلِ بْنِ عَوْفِ بْنِ شَمَّاخٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ رَأَيْنَا إِبِلًا مَصْرُورَةً بِعِضَاهِ الشَّجَرِ. قَالَ: وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَقُلْنَا: أَفَرَأَيْتَ إِنِ احْتَجْنَا إِلَى الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ؟ فَقَالَ:" كُلْ وَلَا تَحْمِلْ، وَاشْرَبْ وَلَا تَحْمِلْ". وَرَوَاهُ شَرِيكٌ الْقَاضِي عَنِ الْحَجَّاجِ، فَخَالَفَ فِي إِسْنَادِهِ مَنْ مَضَى.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ہوتے ہوئے) کچھ اونٹ کانٹے دار درختوں کے پاس دیکھے جن کے تھن باندھے ہوئے تھے، ہم نے عرض کیا: جب ہم کھانے پینے کی ضرورت محسوس کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھاؤ، پیو لیکن ساتھ اٹھا کر نہ لے جاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19659]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19660
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحَجْرِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ سَلِيطٍ التَّمِيمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنْ مَالِ أَخِيهِ، قَالَ:" يَأْكُلُ حَتَّى يَشْبَعَ إِذَا كَانَ جَائِعًا، وَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ انسان کے لیے اپنے بھائی کے مال سے کیا حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بھوکا ہو یا پیاسا ہو پیٹ بھر کر کھا پی لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19660]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف