السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3904. -- باب: ما يحل للمضطر من مال الغير
-- باب: مجبور شخص کے لیے دوسرے کے مال میں سے کیا حلال ہے۔
حدیث نمبر: 19661
أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الزَّكِيُّ أَبُو الْقَاسِمِ مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الْمُنْعِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْفَرَاوِيُّ قَالَ: أَخْبَرنَا أَبُو الْمَعَالِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ الْحَافِظُ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ الْبَيْهقِيُّ، وَأَنْبَأَنَا غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَشْيَاخِنَا عَنْ زَاهِرِ بْنِ طَاهِرٍ الشَّحَّامِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ الْحَافِظُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ رَحِمَهُ اللهُ قَالَ:.
عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ آیا اور مجھے سخت بھوک لگی ہوئی تھی، میں ایک باغ میں داخل ہوا اور پھل دار شاخ کو پکڑ کر اس سے کھالیا اور کچھ اپنے کپڑے میں ڈال لیا، باغ والا آگیا، اس نے مجھے مارا بھی اور مجھ سے توڑا ہوا پھل بھی چھین لیا، راوی فرماتے ہیں کہ پھر ہم دونوں (باغ والا اور عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے واقعے کا تذکرہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ نہیں جانتا تھا تو آپ اس کو سکھا دیتے اور آپ نے اس کو بھوک کی وجہ سے کھلایا بھی نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک وسق جو کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19661]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الطيالسي»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19662
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي خَلَفٍ الصُّوفِيُّ الْإِسْفَرَايِينِيُّ بِهَا، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَزْدَادَ بْنِ مَسْعُودٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ يَحْيَى الرَّازِيُّ، أنبأ مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ الْخُرَاسَانِيُّ، أنبأ الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، أنبأ صَالِحُ بْنُ أَبِي جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كُنْتُ أَرْمِي نَخْلًا لِلْأَنْصَارِ، فَأَخَذُونِي، فَذَهَبُوا بِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّ هَذَا يَرْمِي نَخْلَنَا، فَقَالَ:" يَا رَافِعُ لِمَ تَرْمِي نَخْلَهُمْ؟"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَجُوعُ، قَالَ:" لَا تَرْمِ، وَكُلْ مِمَّا يَقَعُ، أَشْبَعَكَ اللهُ، وَرَوَاكَ"..
رافع بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں انصار کی کھجوروں کو پتھر مار رہا تھا۔ وہ مجھے پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے اور کہنے لگے: یہ ہماری کھجوروں کو پتھر مار رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے رافع! تم ان کی کھجوروں کو پتھر کیوں مار رہے تھے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بھوکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پتھر نہ مارو بلکہ نیچے گرے ہوئے کھا لیا کرو۔ اللہ آپ کو سیر اور سیراب کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19662]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19663
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ ابْنُ أَخِي عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ، ثنا أَبُو تُمَيْلَةَ، ⦗٤⦘ عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي جُبَيْرٍ مَوْلَى الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: شَكَا نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ غُلَامًا مِنْ بَنِي غِفَارٍ يَرْمِي نَخْلَهُمْ؟ قَالَ:" خُذُوهُ، فَأْتُونِي بِهِ"، فَإِذَا هُوَ رَافِعُ بْنُ عَمْرٍو أَخُو الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَهَذَا مُنْقَطِعٌ، وَرُوِيَ ذَلِكَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ.
صالح بن ابوجبیر جو حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں، اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ مدینہ کے لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ بنو غفار کا غلام ان کی کھجوروں کو پتھر مارتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پکڑ کر میرے پاس لے آؤ۔“ تو وہ رافع بن عمرو رضی اللہ عنہ جو حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بھائی تھے۔
یہ روایت منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19663]
یہ روایت منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19663]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ العلل الترمذي ٣٤٠»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19664
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ ابْنُ أَخِي عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَارِيَّ يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، عَنْ عَمِّ أَبِي رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، قَالَ: كُنْتُ وَأَنَا غُلَامٌ أَرْمِي نَخْلًا لِلْأَنْصَارِ، فَقِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ هَهُنَا غُلَامًا يَرْمِي نَخْلَنَا، قَالَ: قَالَ:" خُذُوهُ، فَأْتُونِي بِهِ"، قَالَ:" يَا غُلَامُ لِمَ تَرْمِي نَخْلَهُمْ؟"، قَالَ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ آكُلَ، قَالَ:" لَا تَرْمِ نَخْلَهُمْ، وَكُلْ مِمَّا فِي أُصُولِهَا"، قَالَ: وَمَسَحَ رَأْسَ الْغُلَامِ، وَقَالَ:" اللهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، وَعُثْمَانَ ابْنَيْ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ مُعْتَمِرٍ بِمَعْنَاهُ.
سیدنا رافع بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں بچپن میں انصار کی کھجوروں کو پتھر مارا کرتا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا گیا کہ یہاں ایک لڑکا ہماری کھجوروں کو پتھر مارتا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے پکڑ کر میرے پاس لاؤ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے بچے! تم ان کی کھجوروں کو پتھر کیوں مارتے ہو؟“ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: کھانے کا ارادہ ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پتھر نہ مارو بلکہ نیچے گرے ہوئے پھل کھا لیا کرو۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: «اللَّهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهُ» ”اے اللہ! اس کے پیٹ کو سیر کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19664]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19665
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، قَالَ: أَقْبَلْتُ مَعَ سَادَتِي، نُرِيدُ الْهِجْرَةَ، حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ جَعَلُونِي فِي ظَهْرِهِمْ وَدَخَلُوا الْمَدِينَةَ، فَأَصَابَتْنِي مَجَاعَةٌ شَدِيدَةٌ، قَالَ: فَمَرَّ بِي بَعْضُ مَنْ يَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: إِنَّكَ لَوْ دَخَلْتَ الْمَدِينَةَ، فَأَصَبْتَ مِنْ ثِمَارِ حَوَائِطِهَا، فَدَخَلْتُ حَائِطًا مِنْ حَوَائِطِ الْمَدِينَةِ، فَقَطَعْتُ قِنْوَيْنِ، فَجَاءَ صَاحِبُهُ وَهُمَا مَعِي، فَذَهَبَ بِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَنِي عَنْ أَمْرِي، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ:" أَيُّهُمَا أَفْضَلُ؟" فَأَشَرْتُ إِلَى أَحَدِهِمَا، فَقَالَ:" خُذْهُ"، وَأَمَرَ صَاحِبَ الْحَائِطِ، فَأَخَذَ الْآخَرَ، وَخَلَّى سَبِيلِي. وَهَذِهِ الْأَخْبَارُ - إِنْ ثَبَتَتْ - كَانَتْ دَالَّةً مَعَ غَيْرِهَا عَلَى جَوَازِ الْأَكْلِ مِنْ مَالِ الْغَيْرِ عِنْدَ الضَّرُورَةِ، ثُمَّ وُجُوبِ الْبَدَلِ فَمُسْتَفَادٌ مِنَ الدَّلَائِلِ الَّتِي دَلَّتْ عَلَى تَحْرِيمِ مَالِ الْغَيْرِ بِغَيْرِ طِيبَةِ نَفْسِهِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ. وَقَدِ اسْتَدَلَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا بِمَا ذَكَرْنَا فِي كِتَابِ الطَّهَارَةِ مِنْ حَدِيثِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ حِينَ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي سَفَرٍ هُوَ وَأَصْحَابُهُ، فَأَصَابَهُمْ عَطَشٌ شَدِيدٌ، وَإِنَّهُ بَعَثَ إِلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي كَانَ مَعَهَا بَعِيرٌ عَلَيْهِ مَزَادَتَانِ حَتَّى أَتَى بِهَا، وَأَخَذُوا مِنْ مَائِهَا، وَالْمَزَادَتَانِ كَمَا هُمَا، لَمْ تَزْدَادَا إِلَّا امْتِلَاءً، ثُمَّ أَمَرَ أَصْحَابَهُ، فَجَاءُوا مِنْ زِادِهِمْ حَتَّى مَلَأَ لَهَا ثَوْبَهَا.
سیدنا ابو اللحم رضی اللہ عنہ کے غلام سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے آقاؤں کے ساتھ آیا اور ہم ہجرت کا ارادہ رکھتے تھے۔ جب ہم مدینہ کے قریب ہوئے تو انہوں نے مجھے پیچھے کر دیا اور وہ مدینہ میں داخل ہو گئے اور مجھے سخت بھوک لگ گئی۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے پاس سے مدینہ کے باشندے گزرے تو کہنے لگے: ”اگر آپ مدینہ میں داخل ہوں اور وہاں کے باغوں کے پھل کھا لیں۔“ میں مدینہ کے باغوں میں سے ایک باغ میں داخل ہوا اور دو خوشے توڑ لیے۔ باغ والا آ گیا اور دونوں خوشے میرے پاس ہی تھے۔ وہ پکڑ کر مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے میرے معاملے کے بارے میں پوچھا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ان دو خوشوں میں سے کون سا اچھا ہے؟“ تو میں نے ایک کی طرف اشارہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو لے لو۔“ اور باغ والے سے فرمایا: ”تم دوسرا خوشہ لے لو۔“ اور میرا راستہ چھوڑ دیا۔
نوٹ: یہ احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ ضرورت کے وقت دوسروں کا مال کھایا جا سکتا ہے اور کسی کے مال کا بدل دینا واجب ہے، جب مال والے کی رضا مندی کے بغیر مال لیا جائے۔ جیسے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ تھے، ان کو سخت پیاس لگ گئی تو انہوں نے ایک عورت جس کے پاس دو مشکیزے تھے، اس کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو انہوں نے اس کے مشکیزوں سے پانی لیا، آخر کار اس کے مشکیزے اور کپڑے میں مزید بھی دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19665]
نوٹ: یہ احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ ضرورت کے وقت دوسروں کا مال کھایا جا سکتا ہے اور کسی کے مال کا بدل دینا واجب ہے، جب مال والے کی رضا مندی کے بغیر مال لیا جائے۔ جیسے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ تھے، ان کو سخت پیاس لگ گئی تو انہوں نے ایک عورت جس کے پاس دو مشکیزے تھے، اس کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو انہوں نے اس کے مشکیزوں سے پانی لیا، آخر کار اس کے مشکیزے اور کپڑے میں مزید بھی دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19665]