السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3915. -- باب: استعمال أواني المشركين، والأكل من طعامهم
-- باب: مشرکین کے برتن استعمال کرنے اور ان کا کھانا کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 19712
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: ثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا بِأَرْضِ قَوْمٍ أَهْلِ كِتَابٍ نَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ، وَأَرْضِ صَيْدٍ، أَصِيدُ بِقَوْسِي، وَأَصِيدُ ⦗١٨⦘ بِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ، وَبِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ، أَخْبِرْنِي، مَا الَّذِي يَحِلُّ لَنَا مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ:" أَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكُمْ بِأَرْضِ قَوْمٍ أَهْلِ كِتَابٍ تَأْكُلُونَ فِي آنِيَتِهِمْ، فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ، فَلَا تَأْكُلُوا فِيهَا، وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا، فَاغْسِلُوهَا، ثُمَّ كُلُوا، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكَ بِأَرْضِ صَيْدٍ، فَمَا أَصَبْتَ بِقَوْسِكَ، فَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ، ثُمَّ كُلْ، وَمَا اصْطَدْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ، فَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ، ثُمَّ كُلْ، وَمَا اصْطَدْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ، فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَنَّادِ بْنِ السَّرِيِّ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ.
سیدنا ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ میں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب کی زمین میں رہتے ہیں اور ہم ان کے برتنوں میں کھاتے ہیں اور شکار والی زمین پر اپنی قوسوں سے شکار کرتے ہیں اور اپنے سدھائے ہوئے کتے اور غیر سدھائے ہوئے کتے سے شکار کرتا ہوں۔ آپ بتائیں ہمارے لیے کیا حلال ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آپ نے تذکرہ کیا اہل کتاب کی زمین کا اور ان کے برتنوں میں کھانے کا، اگر کوئی دوسرے برتن مل جائیں تو پھر (ان میں) نہ کھاؤ۔ اگر نہ ملیں تو پھر خوب اچھی طرح ان کے برتن صاف کرو اور کھا لو، اور جو آپ نے شکار کی زمین کا ذکر کیا تو جو شکار اپنے تیر سے کیا ہوا پاؤ تو «بِسْمِ اللهِ» ”اللہ کا نام“ لے کر کھا لو، اور جو سدھائے ہوئے کتے سے شکار کریں، «بِسْمِ اللهِ» ”اللہ کا نام“ لے کر کھا لیں (یعنی بسم اللہ پڑھ کر) اور اگر آپ غیر سدھائے ہوئے کتے سے شکار کریں اور شکار کو خود ذبح کر لیں تو پھر کھا لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19712]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19713
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ وَلَقَبُهُ دُحَيْمٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَيْ رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَرْمِي بِقَوْسِي، فَمِنْهُ مَا أُدْرِكُ ذَكَاتَهُ، وَمِنْهُ مَا لَا أُدْرِكُ، فَمَاذَا يَحِلُّ لِي، وَمَا يَحْرُمُ عَلَيَّ؟ إِنَّا فِي أَرْضِ أَهْلِ الْكِتَابِ، وَهُمْ يَأْكُلُونَ فِي آنِيَتِهِمُ الْخِنْزِيرَ، وَيَشْرَبُونَ فِيهَا الْخَمْرَ، فَنَأْكُلُ فِيهَا وَنَشْرَبُ؟ قَالَ:" كُلْ مَا رَدَّ عَلَيْكَ قَوْسُكَ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ، فَكُلْ، وَإِنْ وَجَدْتَ عَنْ آنِيَةِ أَهْلِ الْكِتَابِ غِنًى، فَلَا تَأْكُلْ، وَإِنْ لَمْ تَجِدْ عَنْهَا غِنًى، فَارْحَضُوهَا بِالْمَاءِ رَحْضًا شَدِيدًا، ثُمَّ كُلُوا فِيهَا". وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ بِالْغَسْلِ، إِنَّمَا وَقَعَ عِنْدَ الْعِلْمِ بِنَجَاسَتِهَا وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں شکار پر تیر پھینکتا ہوں تو بعض شکار پکڑ کر ذبح کر لیتا ہوں اور بعض نہیں ملتے۔
میرے لیے حلال کیا ہے اور حرام کیا؟ ہم اہل کتاب کی زمین میں رہتے ہیں، وہ اپنے برتنوں میں خنزیر کا گوشت کھاتے اور شراب پیتے ہیں۔ کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا پی لیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تیرا تیر تجھے واپس کر دے اور تو نے (اس پر) اللہ کا نام لیا ہو تو اس کو کھا لو۔ اگر آپ کو اہل کتاب کے برتنوں کی ضرورت نہ ہو تو پھر نہ کھاؤ۔ اگر ضرورت پڑ ہی جائے تو پانی سے خوب اچھی طرح صاف کر لو، بعد میں ان میں کھا لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19713]
میرے لیے حلال کیا ہے اور حرام کیا؟ ہم اہل کتاب کی زمین میں رہتے ہیں، وہ اپنے برتنوں میں خنزیر کا گوشت کھاتے اور شراب پیتے ہیں۔ کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا پی لیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تیرا تیر تجھے واپس کر دے اور تو نے (اس پر) اللہ کا نام لیا ہو تو اس کو کھا لو۔ اگر آپ کو اہل کتاب کے برتنوں کی ضرورت نہ ہو تو پھر نہ کھاؤ۔ اگر ضرورت پڑ ہی جائے تو پانی سے خوب اچھی طرح صاف کر لو، بعد میں ان میں کھا لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19713]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19714
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، وَإِسْمَاعِيلُ، عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنُصِيبُ مِنْ آنِيَةِ الْمُشْرِكِينَ وَأَسْقِيَتِهِمْ، فَنَسْتَمْتِعُ بِهَا، وَلَا نَعِيبُ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ کیا کرتے تھے، مشرکین کے برتن اور مشکیزے ہمیں ملتے تو ہم ان سے فائدہ اٹھاتے تھے اور ان کی وجہ سے ہم پر عیب نہ لگایا جاتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19714]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 19715
وَحَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ بُرْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" كُنَّا نَغْزُو فَنَأْكُلُ فِي أَوْعِيَةِ الْمُشْرِكِينَ، وَنَشْرَبُ فِي أَسْقِيَتِهِمْ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم غزوہ کرتے تو ہم مشرکین کے برتنوں میں کھاتے اور ان کے مشکیزوں سے پیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19715]
تخریج الحدیث: «حسن۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 19716
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ،" أَنَّ امْرَأَةً يَهُودِيَّةً أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ، فَأَكَلَ مِنْهَا، فَجِيءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: أَرَدْتُ لِأَقْتُلَكَ، قَالَ:" مَا كَانَ اللهُ لِيُسَلِّطَكِ عَلَى ذَلِكَ، أَوْ قَالَ:" عَلَيَّ"، قَالَ: فَقَالُوا: أَلَا نَقْتُلُهَا، قَالَ:" لَا"، قَالَ: فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُهَا فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ حَبِيبٍ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنِ الْحَجَبِيِّ عَنْ خَالِدٍ، وَرَوَيْنَا فِيهِ حَدِيثَ جَابِرٍ وَغَيْرِهِ فِي كِتَابِ الْجِرَاحِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر آلود بھنی ہوئی بکری پیش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کھا لیا، اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سوال کیا تو وہ کہنے لگی: میں نے آپ کے قتل کا ارادہ کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تجھے میرے اوپر مسلط نہیں کرے گا، (یعنی تو مجھے ہلاک نہیں کر سکتی)“ تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے سوال کیا کہ کیا ہم اس کو قتل نہ کر دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ راوی فرماتے ہیں کہ میں اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کوّے یعنی حلق میں ہمیشہ محسوس کرتا رہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19716]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19717
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَحْيَى الْأَشْقَرُ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْمَرْوَرُّوذِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَنْبَسَةُ، ثنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ عُرْوَةُ: كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ:" يَا عَائِشَةُ، إِنِّي أَجِدُ أَلَمَ الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ، فَهَذَا أَوَانُ انْقِطَاعِ أَبْهَرِي مِنْ ذَلِكَ السُّمِّ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، فَقَالَ: وَقَالَ يُونُسُ.
حضرت عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیماری میں فرماتے تھے جس کی وجہ سے فوت ہوئے: ”اے عائشہ! جو کھانا میں نے خیبر میں کھایا تھا، آج بھی میں اس کی تکلیف محسوس کرتا ہوں۔ اس وقت اس زہر کی وجہ سے میری شاہ رگ کٹ رہی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19717]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح