السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3915. -- باب: استعمال أواني المشركين، والأكل من طعامهم
-- باب: مشرکین کے برتن استعمال کرنے اور ان کا کھانا کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 19713
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ وَلَقَبُهُ دُحَيْمٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَيْ رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَرْمِي بِقَوْسِي، فَمِنْهُ مَا أُدْرِكُ ذَكَاتَهُ، وَمِنْهُ مَا لَا أُدْرِكُ، فَمَاذَا يَحِلُّ لِي، وَمَا يَحْرُمُ عَلَيَّ؟ إِنَّا فِي أَرْضِ أَهْلِ الْكِتَابِ، وَهُمْ يَأْكُلُونَ فِي آنِيَتِهِمُ الْخِنْزِيرَ، وَيَشْرَبُونَ فِيهَا الْخَمْرَ، فَنَأْكُلُ فِيهَا وَنَشْرَبُ؟ قَالَ:" كُلْ مَا رَدَّ عَلَيْكَ قَوْسُكَ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ، فَكُلْ، وَإِنْ وَجَدْتَ عَنْ آنِيَةِ أَهْلِ الْكِتَابِ غِنًى، فَلَا تَأْكُلْ، وَإِنْ لَمْ تَجِدْ عَنْهَا غِنًى، فَارْحَضُوهَا بِالْمَاءِ رَحْضًا شَدِيدًا، ثُمَّ كُلُوا فِيهَا". وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ بِالْغَسْلِ، إِنَّمَا وَقَعَ عِنْدَ الْعِلْمِ بِنَجَاسَتِهَا وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں شکار پر تیر پھینکتا ہوں تو بعض شکار پکڑ کر ذبح کر لیتا ہوں اور بعض نہیں ملتے۔
میرے لیے حلال کیا ہے اور حرام کیا؟ ہم اہل کتاب کی زمین میں رہتے ہیں، وہ اپنے برتنوں میں خنزیر کا گوشت کھاتے اور شراب پیتے ہیں۔ کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا پی لیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تیرا تیر تجھے واپس کر دے اور تو نے (اس پر) اللہ کا نام لیا ہو تو اس کو کھا لو۔ اگر آپ کو اہل کتاب کے برتنوں کی ضرورت نہ ہو تو پھر نہ کھاؤ۔ اگر ضرورت پڑ ہی جائے تو پانی سے خوب اچھی طرح صاف کر لو، بعد میں ان میں کھا لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19713]
میرے لیے حلال کیا ہے اور حرام کیا؟ ہم اہل کتاب کی زمین میں رہتے ہیں، وہ اپنے برتنوں میں خنزیر کا گوشت کھاتے اور شراب پیتے ہیں۔ کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا پی لیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تیرا تیر تجھے واپس کر دے اور تو نے (اس پر) اللہ کا نام لیا ہو تو اس کو کھا لو۔ اگر آپ کو اہل کتاب کے برتنوں کی ضرورت نہ ہو تو پھر نہ کھاؤ۔ اگر ضرورت پڑ ہی جائے تو پانی سے خوب اچھی طرح صاف کر لو، بعد میں ان میں کھا لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19713]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19713 in Urdu