🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3921. -- باب: ما جاء في المسابقة بالعدو
-- باب: دوڑ کا مقابلہ کروانے کے متعلق کیا مروی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19757
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ الْيَمَامِيُّ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَأَرْدَفَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَاءَهُ عَلَى الْعَضْبَاءِ، فَأَقْبَلْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسُوقُ، وَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لَا يُسْبَقُ شَدًّا، فَجَعَلَ يَقُولُ: أَلَا مِنْ مُسَابِقٍ إِلَى الْمَدِينَةِ، هَلْ مِنْ مُسَابِقٍ؟ فَجَعَلَ يَقُولُ ذَلِكَ مِرَارًا، فَلَمَّا سَمِعْتُ كَلَامَهُ، قُلْتُ لَهُ:" أَمَا تُكْرِمُ كَرِيمًا، وَلَا تَهَابُ شَرِيفًا؟"، قَالَ: لَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، بِأَبِي أَنْتَ، وَأُمِّي، ائْذَنْ لِي، فَلْأُسَابِقِ الرَّجُلَ، قَالَ:" إِنْ شِئْتَ"، قَالَ: فَطَفَرْتُ، ثُمَّ عَدَوْتُ شَرَفًا، أَوْ شَرَفَيْنِ، ثُمَّ إِنِّي تَرَفَّعْتُ حِينَ لَحِقْتُهُ فَأَصْطَكُّهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، فَقُلْتُ: سُبِقْتَ وَاللهِ، قَالَ: إِنْ أَظُنُّ، قَالَ: فَسَبَقْتُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ⦗٣١⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
ایاس بن سلمہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں نکلے، انہوں نے حدیث کو ذکر کیا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی عضباء کے پیچھے بٹھا لیا، میں مدینہ کی طرف آرہا تھا اور ہم چل رہے تھے، انصار کا ایک آدمی جو بہت تیز دوڑتا تھا وہ کہہ رہا تھا: کوئی مدینہ تک دوڑ میں مقابلہ کرے گا؟ ہے کوئی مقابلہ کرنے والا؟ بار بار یہ کہہ رہا تھا، جب میں نے اس کی بات سنی تو کہا: کیا تو معزز کی عزت نہیں کرتا اور تو شریف سے نہیں ڈرتا؟ اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ، کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ فدا ہوں، اگر آپ اجازت دیں تو میں اس آدمی سے دوڑ میں مقابلہ کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو چاہے تو کرلو۔“ کہتے ہیں: میں کودا، پھر میں ایک یا دو گھاٹیوں تک دوڑا پھر میں نے پیچھے سے مل کر اپنی برتری ظاہر کی اور اس کے کندھوں کے درمیان ہاتھ مارا، میں نے کہا: اللہ کی قسم! تم ہار گئے، اس نے کہا: میرا بھی یہی گمان ہے۔ کہتے ہیں: پھر میں مدینہ تک اس سے آگے نکل گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّبْقِ وَالرَّمْيِ/حدیث: 19757]
تخریج الحدیث: «متفق عليه»

الحكم على الحديث: متفق عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19758
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَهِيَ جَارِيَةٌ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ:" تَقَدَّمُوا" فَتَقَدَّمُوا، ثُمَّ قَالَ:" تَعَالِ أُسَابِقْكِ"، فَسَابَقْتُهُ، فَسَبَقْتُهُ عَلَى رِجْلِيَّ"، فَلَمَّا كَانَ بَعْدُ، خَرَجْتُ أَيْضًا مَعَهُ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ:" تَقَدَّمُوا"، ثُمَّ قَالَ:" تَعَالِ أُسَابِقْكِ"، وَنَسِيتُ الَّذِي كَانَ، وَقَدْ حَمَلْتُ اللَّحْمَ"، فَقُلْتُ: وَكَيْفَ أُسَابِقُكَ يَا رَسُولَ اللهِ، وَأَنَا عَلَى هَذِهِ الْحَالِ؟ فَقَالَ:" لَتَفْعَلِنَّ" فَسَابَقْتُهُ، فَسَبَقَنِي"، فَقَالَ:" هَذِهِ بِتِلْكَ السَّبْقَةِ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھیں اور چھوٹی عمر تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”آگے چلو، آگے چلو۔“ پھر فرمایا: ”آؤ دوڑ میں مقابلہ کریں“ تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوڑ میں سبقت لے گئی، یعنی جیت گئی۔ اس کے بعد پھر ایک مرتبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”آگے چلو۔“ پھر فرمایا: ”آؤ میں تیرے ساتھ دوڑ لگانا چاہتا ہوں۔“ لیکن میں پہلی والی دوڑ بھول چکی تھی اور میرا جسم بھاری ہو چکا تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس حالت میں دوڑ میں مقابلہ بازی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ضرور ایسا کرو گی۔“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوڑ میں مقابلہ بازی کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیت گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس دوڑ کے مقابلے میں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّبْقِ وَالرَّمْيِ/حدیث: 19758]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19759
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ الْأَنْطَاكِيُّ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَنَّهَا قَالَتْ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَسَابَقْتُهُ، فَسَبَقْتُهُ عَلَى رِجْلِيَّ، فَلَمَّا حَمَلْتُ اللَّحْمَ، سَابَقْتُهُ فَسَبَقَنِي، فَقَالَ:" هَذِهِ بِتِلْكَ السَّبْقَةِ". وَرَوَاهُ أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَرَوَاهُ جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
ابوسلمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھیں اور دوڑ میں مقابلہ کیا اور میں جیت گئی۔ جب میرا جسم بھاری ہو گیا، پھر دوڑ میں مقابلہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیت گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ پہلی دوڑ کے عوض میں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّبْقِ وَالرَّمْيِ/حدیث: 19759]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں