🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3926. -- باب: ما جاء في الرهان على الخيل وما يجوز منه وما لا يجوز
-- باب: گھوڑوں پر شرط لگانے اور اس میں سے کیا جائز ہے اور کیا ناجائز، اس کے متعلق کیا مروی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19774
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ، قَالَ:" أَرْسَلَ الْحَكَمُ بْنُ أَيُّوبَ الْخَيْلَ يَوْمًا، قُلْنَا: لَوْ أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، فَأَتَيْنَاهُ فَسَأَلْنَاهُ: أَكُنْتُمْ تُرَاهِنُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" نَعَمْ، لَقَدْ رَاهَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَرَسٍ لَهُ، يُقَالُ لَهَا سُبْحَةُ جَاءَتْ سَابِقَةً، فَهَشَّ لِذَلِكَ، وَأَعْجَبَهُ"، ⦗٣٦⦘ وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَعَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ.
ابولبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حکم بن ایوب رحمہ اللہ نے ایک دن گھوڑا بھیجا۔ ہم نے کہا: اگر ہم سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو ان سے سوال کریں گے۔ ہم نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: کیا آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں گھوڑ دوڑ میں شرط لگاتے تھے؟ فرمایا: ہاں، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گھوڑے پر شرط لگائی جس کو «سُبْحَةَ» کہا جاتا تھا۔ وہ گھوڑا شرط جیت گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وجہ سے خوش بھی ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھا بھی لگا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّبْقِ وَالرَّمْيِ/حدیث: 19774]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19775
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ أَوْ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ وَاصِلٍ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: أَصْبَحْتُ فِي الْحِجْرِ بَعْدَمَا صَلَّيْنَا الْغَدَاةَ، فَلَمَّا أَسْفَرْنَا إِذَا فِينَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَجَعَلَ يَسْتَقْرِئُنَا رَجُلًا رَجُلًا، يَقُولُ: أَيْنَ صَلَّيْتَ يَا فُلَانُ؟ قَالَ: يَقُولُ: هَهُنَا، حَتَّى أَتَى عَلَيَّ، فَقَالَ: أَيْنَ صَلَّيْتَ يَا ابْنَ عُبَيْدٍ، فَقُلْتُ: هَهُنَا، قَالَ: بَخٍ بَخٍ، مَا نَعْلَمُ صَلَاةً أَفْضَلَ عِنْدَ اللهِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ جَمَاعَةً يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَسَأَلُوهُ فَقَالُوا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَكُنْتُمْ تُرَاهِنُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، لَقَدْ رَاهَنَ عَلَى فَرَسٍ لَهُ، يُقَالُ لَهَا سُبْحَةُ، فَجَاءَتْ سَابِقَةً". قَالَ إِسْمَاعِيلُ: كَانَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ: حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ أَوْ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ. قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ مِنْ غَيْرِ شَكٍّ، وَرَوَاهُ أَسَدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا إِنْ صَحَّ، فَإِنَّمَا أَرَادَا إِذَا سَبَقَ أَحَدُ الْفَارِسَيْنِ صَاحِبَهُ، فَيَكُونُ السَّبَقُ مِنْهُ دُونَ صَاحِبِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
موسیٰ بن عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے فجر کی نماز پڑھ کر حجر میں صبح کی، جب خوب روشنی ہوگئی تو دیکھا وہاں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے، وہ ایک ایک آدمی سے پوچھ رہے تھے: تم نے صبح کی نماز کہاں پڑھی؟ وہ سب سے پوچھ رہے تھے، یہاں تک کہ مجھ سے پوچھا: اے ابن عبید! تم نے نماز کہاں پڑھی؟ میں نے کہا: یہاں، وہ خوش ہوئے اور فرمانے لگے کہ ہم نہیں جانتے کہ جمعہ کے دن صبح کی نماز باجماعت ادا کرنے سے زیادہ کوئی فضیلت والی ہو، انہوں نے سوال کیا: اے ابوعبدالرحمن! کیا آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں گھڑ دوڑ کی شرط لگاتے تھے؟ فرمایا: ہاں، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے پر شرط لگائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیت گئے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ اگر صحیح ہو تو اس سے مراد یہ ہے کہ دونوں سواروں میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے مقابلہ کیا اور شرط کا مال صرف اسی کی طرف سے تھا، دوسرے کی طرف سے نہیں۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّبْقِ وَالرَّمْيِ/حدیث: 19775]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19776
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: ثنا غُنْدَرٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عِيَاضًا الْأَشْعَرِيَّ، قَالَ:" قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: مَنْ يُرَاهِنُنِي؟ قَالَ: فَقَالَ شَابٌّ: أَنَا، إِنْ لَمْ تَغْضَبْ، قَالَ: فَسَبَقَهُ، قَالَ:" فَرَأَيْتُ عَقِيصَتَيْ أَبِي عُبَيْدَةَ تَنْقُزَانِ، وَهُوَ خَلْفَهُ عَلَى فَرَسٍ عَرَبِيٍّ".
سیدنا عیاض اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: کون مجھ سے شرط لگائے گا؟ ایک جوان نے کہا: میں، اگر آپ غصہ نہ کریں۔ راوی کہتے ہیں: پھر وہ جوان ان سے آگے نکل گیا۔ میں نے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی دونوں چوٹیوں کو اچھلتے ہوئے دیکھا اور وہ اس کے پیچھے عربی گھوڑے پر سوار تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّبْقِ وَالرَّمْيِ/حدیث: 19776]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19777
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ شَاذَانُ، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ الرُّكَيْنِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ: فَرَسٌ لِلرَّحْمَنِ، وَفَرَسٌ لِلشَّيْطَانِ، وَفَرَسٌ لِلْإِنْسَانِ، فَأَمَّا فَرَسُ الرَّحْمَنِ، فَالَّذِي يَرْتَبِطُ فِي سَبِيلِ اللهِ، رَوَثُهُ وَبَوْلُهُ ⦗٣٧⦘ فِي مِيزَانِهِ، وَأَمَّا فَرَسُ الشَّيْطَانِ فَالَّذِي يُرَاهِنُ عَلَيْهِ، وَأَمَّا فَرَسُ الْإِنْسَانِ، فَالَّذِي يَرْتَبِطُهَا يَلْتَمِسُ بَطْنَهَا مَخَافَةَ الْفَقْرِ". وَهَذَا إِنْ ثَبَتَ، فَإِنَّمَا أَرَادَ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ، أَنْ يُخْرِجَا سَبَقَيْنِ مِنْ عِنْدِهِمَا، وَلَمْ يُدْخِلَا بَيْنَهُمَا مُحَلِّلًا، فَيَكُونُ قِمَارًا، فَلَا يَجُوزُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھوڑے تین قسم کے ہیں: ”ایک رحمن کے لیے، ایک شیطان کے لیے اور ایک انسان کے لیے۔ وہ گھوڑا جو رحمن کے لیے ہے جسے انسان اللہ کے راستے میں باندھتا ہے، اس کا پیشاب اور لید میزان میں رکھا جائے گا۔ وہ گھوڑا جو شیطان کا ہے جس پر شرط لگائی جائے۔ انسان کا گھوڑا وہ ہے جس کے ذریعے وہ فقیری کے ڈر سے اپنی روزی تلاش کرتا ہے۔“ اگر یہ ثابت ہو تو اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس کی مراد یہ ہے کہ اگر دو شرط لگاتے ہیں اور تیسرے کو درمیان میں شامل نہیں کرتے تو تب جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّبْقِ وَالرَّمْيِ/حدیث: 19777]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں