السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3926. -- باب: ما جاء في الرهان على الخيل وما يجوز منه وما لا يجوز
-- باب: گھوڑوں پر شرط لگانے اور اس میں سے کیا جائز ہے اور کیا ناجائز، اس کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19777
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ شَاذَانُ، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ الرُّكَيْنِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ: فَرَسٌ لِلرَّحْمَنِ، وَفَرَسٌ لِلشَّيْطَانِ، وَفَرَسٌ لِلْإِنْسَانِ، فَأَمَّا فَرَسُ الرَّحْمَنِ، فَالَّذِي يَرْتَبِطُ فِي سَبِيلِ اللهِ، رَوَثُهُ وَبَوْلُهُ ⦗٣٧⦘ فِي مِيزَانِهِ، وَأَمَّا فَرَسُ الشَّيْطَانِ فَالَّذِي يُرَاهِنُ عَلَيْهِ، وَأَمَّا فَرَسُ الْإِنْسَانِ، فَالَّذِي يَرْتَبِطُهَا يَلْتَمِسُ بَطْنَهَا مَخَافَةَ الْفَقْرِ". وَهَذَا إِنْ ثَبَتَ، فَإِنَّمَا أَرَادَ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ، أَنْ يُخْرِجَا سَبَقَيْنِ مِنْ عِنْدِهِمَا، وَلَمْ يُدْخِلَا بَيْنَهُمَا مُحَلِّلًا، فَيَكُونُ قِمَارًا، فَلَا يَجُوزُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھوڑے تین قسم کے ہیں: ”ایک رحمن کے لیے، ایک شیطان کے لیے اور ایک انسان کے لیے۔ وہ گھوڑا جو رحمن کے لیے ہے جسے انسان اللہ کے راستے میں باندھتا ہے، اس کا پیشاب اور لید میزان میں رکھا جائے گا۔ وہ گھوڑا جو شیطان کا ہے جس پر شرط لگائی جائے۔ انسان کا گھوڑا وہ ہے جس کے ذریعے وہ فقیری کے ڈر سے اپنی روزی تلاش کرتا ہے۔“ اگر یہ ثابت ہو تو اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس کی مراد یہ ہے کہ اگر دو شرط لگاتے ہیں اور تیسرے کو درمیان میں شامل نہیں کرتے تو تب جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19777]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19777 in Urdu