🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3959. -- باب: ما يجزئ من الكسوة في الكفارة وهو كل ما وقع عليه اسم كسوة، من عمامة، أو سراويل، أو إزار، أو مقنعة، وغير ذلك
-- باب: کفارے میں کپڑا پہنانے کے حوالے سے کیا چیز کفایت کرتی ہے، اور یہ ہر وہ چیز ہے جس پر کپڑے کا اطلاق ہوتا ہو، خواہ وہ پگڑی ہو، شلوار ہو، تہہ بند ہو، اوڑھنی ہو، یا ان کے علاوہ کچھ اور ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19982
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، أنبأ خُصَيْفٌ، عَنْ عَطَاءٍ وَمُجَاهِدٍ وَعِكْرِمَةَ قَالُوا:" لِكُلِّ مِسْكِينٍ ثَوْبٌ: قَمِيصٌ، أَوْ إِزَارٌ أَوْ رِدَاءٌ، فَقُلْتُ لِخُصَيفٍ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ مُوسِرًا؟ قَالَ: أِيَّ ذَا فَعَلَ فَحَسَنٌ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَذِهِ الْخِصَالَ، فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ" وَذَكَرَ أَنَّهَا فِي قِرَاءَةِ أُبَيٍّ:" مُتَتَابِعَةٍ" وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ قَالَ فِي كَفَّارَةِ الْيَمِينِ:" مُدٌّ مُدٌّ وَالْكُسْوَةُ: ثَوْبٌ ثَوْبٌ".
عطاء، مجاہد اور عکرمہ رحمہم اللہ نے فرمایا: ہر مسکین کے لیے ایک قمیص یا تہبند یا چادر ہونی چاہیے۔ میں نے خصیف رحمہ اللہ سے کہا: اگر وہ خوشحال ہو تو پھر؟ فرمایا: جو بھی کرلے گا اس نے اچھا کیا۔ اگر کچھ بھی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھ لے۔ ابی رضی اللہ عنہ کی قراءت ہے کہ وہ مسلسل روزے رکھے۔ ابن جریج رحمہ اللہ کی روایت جو عطاء رحمہ اللہ سے ہے کہ یہ کفارۂ قسم میں ہے؛ ایک ایک مد اور ایک ایک کپڑا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 19982]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19983
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحَنْظَلِيُّ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَجُلًا، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَأَلَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَجُلٍ حَلَفَ أَنَّهُ لَا يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ قَوْمِهِ، فَقَالَ عِمْرَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ" فَقُلْتُ: يَا أَبَا نُجَيْدٍ، إِنَّ صَاحِبَنَا لَيْسَ بِالْمُوسِرِ، فَبِمَ يُكَفِّرُ؟" قَالَ:" لَوْ أَنَّ قَوْمًا قَامُوا إِلَى أَمِيرٍ مِنَ الْأُمَرَاءِ، وَكَسَا كُلَّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ قَلَنْسُوَةً، لَقَالَ النَّاسُ: قَدْ كَسَاهُمْ". وَيُذْكَرُ عَنْ سَلْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" نِعْمَ الثَّوْبُ التُّبَّانُ".
ابن زبیر حنظلی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کسی شخص نے محلے کی مسجد میں نماز نہ پڑھنے کی قسم کھائی تھی۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”اللہ کی نافرمانی میں نذر نہیں، اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔“ میں نے کہا: اے ابو نجید! ہمارا ساتھی خوشحال نہیں ہے، پھر وہ کس چیز سے کفارہ ادا کرے؟ فرمایا: ”اگر کچھ لوگ امراء میں سے کسی امیر کے پاس جائیں اور وہ ان میں سے ہر انسان کو ٹوپی پہنا دے تو لوگ کہیں گے: اس نے انہیں لباس پہنا دیا۔“ اور سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا گیا کہ بہترین کپڑے لنگوٹ یا جانگیہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 19983]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں