السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3959. -- باب: ما يجزئ من الكسوة في الكفارة وهو كل ما وقع عليه اسم كسوة، من عمامة، أو سراويل، أو إزار، أو مقنعة، وغير ذلك
-- باب: کفارے میں کپڑا پہنانے کے حوالے سے کیا چیز کفایت کرتی ہے، اور یہ ہر وہ چیز ہے جس پر کپڑے کا اطلاق ہوتا ہو، خواہ وہ پگڑی ہو، شلوار ہو، تہہ بند ہو، اوڑھنی ہو، یا ان کے علاوہ کچھ اور ہو۔
حدیث نمبر: 19982
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، أنبأ خُصَيْفٌ، عَنْ عَطَاءٍ وَمُجَاهِدٍ وَعِكْرِمَةَ قَالُوا:" لِكُلِّ مِسْكِينٍ ثَوْبٌ: قَمِيصٌ، أَوْ إِزَارٌ أَوْ رِدَاءٌ، فَقُلْتُ لِخُصَيفٍ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ مُوسِرًا؟ قَالَ: أِيَّ ذَا فَعَلَ فَحَسَنٌ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَذِهِ الْخِصَالَ، فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ" وَذَكَرَ أَنَّهَا فِي قِرَاءَةِ أُبَيٍّ:" مُتَتَابِعَةٍ" وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ قَالَ فِي كَفَّارَةِ الْيَمِينِ:" مُدٌّ مُدٌّ وَالْكُسْوَةُ: ثَوْبٌ ثَوْبٌ".
عطاء، مجاہد اور عکرمہ رحمہم اللہ نے فرمایا: ہر مسکین کے لیے ایک قمیص یا تہبند یا چادر ہونی چاہیے۔ میں نے خصیف رحمہ اللہ سے کہا: اگر وہ خوشحال ہو تو پھر؟ فرمایا: جو بھی کرلے گا اس نے اچھا کیا۔ اگر کچھ بھی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھ لے۔ ابی رضی اللہ عنہ کی قراءت ہے کہ وہ مسلسل روزے رکھے۔ ابن جریج رحمہ اللہ کی روایت جو عطاء رحمہ اللہ سے ہے کہ یہ کفارۂ قسم میں ہے؛ ایک ایک مد اور ایک ایک کپڑا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19982]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19982 in Urdu