السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3963. -- باب: التخيير بين الإطعام والكسوة والعتق، فمن لم يجد فصيام ثلاثة أيام
-- باب: کھانا کھلانے، کپڑا پہنانے اور غلام آزاد کرنے کے درمیان اختیار کا بیان، پس جو ان کی طاقت نہ رکھے وہ تین دن کے روزے رکھے۔
حدیث نمبر: 20006
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي آيَةِ كَفَّارَةِ الْيَمِينِ، قَالَ:" هُوَ بِالْخِيَارِ فِي هَؤُلَاءِ الثَّلَاثِ الْأُوَلِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ" وَفِي رِوَايَةِ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ ⦗١٠٣⦘ قَالَ:" كُلُّ شَيْءٍ فِي الْقُرْآنِ، أَوْ أَوْ فَهُوَ مُخَيَّرٌ، فَإِذَا كَانَ لَمْ يَجِدْ، فَهُوَ الْأَوَّلُ الْأَوَّلُ".
ابن عباس رضی اللہ عنہما کفارہِ قسم کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ پہلی تین چیزوں میں اختیار دیا گیا ہے، اگر وہ نہ پائے تو پھر تین دن کے مسلسل روزے رکھنا ہیں۔
(ب) ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قرآن میں جہاں بھی «أو» «أو» (یا، یا) آیا ہے اس میں اختیار دیا گیا ہے، اور جہاں (یہ ہو کہ) وہ نہ پائے تو پھر ترتیب ہے، پہلے پہلی چیز پھر اس کے بعد والی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 20006]
(ب) ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قرآن میں جہاں بھی «أو» «أو» (یا، یا) آیا ہے اس میں اختیار دیا گیا ہے، اور جہاں (یہ ہو کہ) وہ نہ پائے تو پھر ترتیب ہے، پہلے پہلی چیز پھر اس کے بعد والی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 20006]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20007
أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ إِجَازَةً عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ" كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الثَّلَاثَةِ الْأَيَّامِ فِي كَفَّارَةِ الْيَمِينِ". قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ: وَغَيْرُ هُشَيْمٍ يَقُولُ:" كَانُوا لَا يَرَوْنَ بِذَلِكَ بَأْسًا".
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تین دنوں میں ناغے کے ساتھ روزہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(ب) ابو ولید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہشیم کے علاوہ دوسرے راوی کہتے ہیں: لوگ اس طرح روزہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 20007]
(ب) ابو ولید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہشیم کے علاوہ دوسرے راوی کہتے ہیں: لوگ اس طرح روزہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 20007]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح