السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3972. -- باب: ما يستدل به على أنه يحلل يمينه بأدنى ضرب
-- باب: اس دلیل کا بیان کہ وہ معمولی سی مار کے ذریعے بھی اپنی قسم سے بری ہو جائے گا۔
حدیث نمبر: 20032
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَمُوتُ لِأَحَدٍ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَتَمَسَّهُ النَّارُ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ نَرَى قَوْلَهُ:" تَحِلَّةَ الْقَسَمِ: يَعْنِي قَوْلَ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا} [مريم: ٧١] ، يَقُولُ: فَلَا يَرِدُهَا إِلَّا بِقَدْرِ مَا يَبَرُّ اللهُ قَسَمَهُ فِيهِ"، وَفِيهِ أَنَّهُ أَصْلٌ لِلرَّجُلِ يَحْلِفُ: لَيَفْعَلَنَّ كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ يَفْعَلُ مِنْهُ شَيْئًا دُونَ شَيْءٍ يَبَرُّ فِي يَمِينِهِ. قَالَ الشَّيْخُ: يَعْنِي: يَفْعَلُ مَا يَقَعُ عَلَيْهِ الِاسْمُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے تین بچے فوت ہو گئے، صرف قسم کو پورا کرنے کے لیے اس کو آگ چھوئے گی۔“
ابو عبید فرماتے ہیں: «تَحِلَّةَ الْقَسَمِ»، یعنی اللہ کا فرمان: ﴿وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلَىٰ رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا﴾ [سورة مريم: 71] ”جہنم سے گزر صرف اس لیے ہے کہ یہ تیرے رب کا حتمی فیصلہ ہے۔“ فرماتے ہیں: صرف قسم کو پورا کرنے کی خاطر جہنم سے گزارا جائے گا۔ اگر انسان قسم اٹھائے کہ فلاں کام کرے گا لیکن پھر کچھ کرتا ہے کچھ نہیں تو قسم مکمل ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: وہ کام کر لے جس پر وہ نام صادق آتا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 20032]
ابو عبید فرماتے ہیں: «تَحِلَّةَ الْقَسَمِ»، یعنی اللہ کا فرمان: ﴿وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلَىٰ رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا﴾ [سورة مريم: 71] ”جہنم سے گزر صرف اس لیے ہے کہ یہ تیرے رب کا حتمی فیصلہ ہے۔“ فرماتے ہیں: صرف قسم کو پورا کرنے کی خاطر جہنم سے گزارا جائے گا۔ اگر انسان قسم اٹھائے کہ فلاں کام کرے گا لیکن پھر کچھ کرتا ہے کچھ نہیں تو قسم مکمل ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: وہ کام کر لے جس پر وہ نام صادق آتا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 20032]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح