السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3973. -- باب: الحلف على التأويل فيما بينه وبين الله تعالى
-- باب: ان معاملات میں تاویل (کسی اور معنی کی نیت) کر کے قسم کھانے کا بیان جو اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہوں۔
حدیث نمبر: 20033
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ أَظُنُّهُ قَالَ: ثنا إِسْرَائِيلُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ جَدَّتِهِ، عَنْ أَبِيهَا سُوَيْدِ بْنِ حَنْظَلَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَنَا وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ فَلَقِيَهُ قَوْمٌ هُمْ لَهُ عَدُوٌّ فَأَبَى الْقَوْمُ أَنْ يَحْلِفُوا، وَتَقَدَّمْتُ فَحَلَفْتُ أَنَّهُ أَخِي، فَلَمَّا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ الْقَوْمَ أَبَوْا أَنْ يَحْلِفُوا، وَتَقَدَّمْتُ فَحَلَفْتُ أَنَّهُ أَخِي، قَالَ:" صَدَقْتَ، الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ". لَفْظُ حَدِيثِ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ وَحَدِيثِ الزُّبَيْرِيِّ بِمَعْنَاهُ مُخْتَصَرٌ.
سیدنا سوید بن حنظلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور ہمارے ساتھ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ان کا ایسی قوم سے ٹکراؤ ہوا جو ان کی دشمن تھی۔ لوگوں نے قسم اٹھانے سے انکار کر دیا، تو میں نے آگے بڑھ کر قسم کھائی کہ وہ میرا بھائی ہے۔ جب ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! لوگوں نے قسم اٹھانے سے انکار کر دیا ہے، لیکن میں نے قسم کھائی کہ وہ میرے بھائی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے سچ کہا؛ کیونکہ مسلمان، مسلمان کا بھائی ہوتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 20033]