السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3983. -- باب: ما يوفى به من نذر ما يكون مباحا، وإن لم يكن طاعة
-- باب: کسی مباح کام کی نذر پوری کرنے کا بیان، اگرچہ وہ کام طاعت و عبادت نہ ہو۔
حدیث نمبر: 20101
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسُ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مِنْ بَعْضِ مَغَازِيهِ فَأَتَتْهُ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ إِنْ رَدَّكَ اللهُ سَالِمًا، أَنْ أَضْرِبَ بَيْنَ يَدَيْكَ بِالدُّفِّ، فَقَالَ:" إِنْ كُنْتِ نَذَرْتِ، فَاضْرِبِي"، قَالَ: فَجَعَلَتْ تَضْرِبُ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهِيَ تَضْرِبُ، ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَلْقَتِ الدُّفَّ تَحْتَهَا، وَقَعَدَتْ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الشَّيْطَانَ يَخَافُ مِنْكَ يَا عُمَرُ".
سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوہ سے واپس آئے۔ تو ان کے پاس ایک سیاہ رنگ کی لونڈی آئی، اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے نبی! میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صحیح سلامت واپس کر دیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دف بجاؤں گی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر نذر مانی ہے تو پوری کر۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ دف بجانے لگی۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے تو وہ دف بجاتی رہی تھی۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو اس نے دف نیچے رکھ کر اس کے اوپر بیٹھ گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! شیطان تجھ سے خوف کھاتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 20101]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 20102
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ، أَبُو قُدَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَضْرِبَ عَلَى رَأْسِكَ بِالدُّفِّ، فَقَالَ:" أَوْفِي بِنَذْرِكَ". ⦗١٣٣⦘ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَذِنَ لَهَا فِي الضَّرْبِ، لِأَنَّهُ أَمْرٌ مُبَاحٌ، وَفِيهِ إِظْهَارُ الْفَرَحِ بِظُهُورِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُجُوعِهِ سَالِمًا، لَا أَنَّهُ يَجِبُ بِالنَّذْرِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: ”میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دف بجانے کی نذر مانی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی نذر کو پورا کر۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دف بجانے کی اجازت صرف اس لیے دی کہ یہ ایک مباح کام ہے اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلبے اور صحیح سلامت واپسی پر خوشی کا اظہار ہے، نہ اس لیے کہ نذر کی وجہ سے یہ واجب ہو جاتا ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 20102]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دف بجانے کی اجازت صرف اس لیے دی کہ یہ ایک مباح کام ہے اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلبے اور صحیح سلامت واپسی پر خوشی کا اظہار ہے، نہ اس لیے کہ نذر کی وجہ سے یہ واجب ہو جاتا ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 20102]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره