🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3983. -- باب: ما يوفى به من نذر ما يكون مباحا، وإن لم يكن طاعة
-- باب: کسی مباح کام کی نذر پوری کرنے کا بیان، اگرچہ وہ کام طاعت و عبادت نہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20102
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ، أَبُو قُدَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَضْرِبَ عَلَى رَأْسِكَ بِالدُّفِّ، فَقَالَ:" أَوْفِي بِنَذْرِكَ". ⦗١٣٣⦘ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَذِنَ لَهَا فِي الضَّرْبِ، لِأَنَّهُ أَمْرٌ مُبَاحٌ، وَفِيهِ إِظْهَارُ الْفَرَحِ بِظُهُورِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُجُوعِهِ سَالِمًا، لَا أَنَّهُ يَجِبُ بِالنَّذْرِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: ”میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دف بجانے کی نذر مانی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی نذر کو پورا کر۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دف بجانے کی اجازت صرف اس لیے دی کہ یہ ایک مباح کام ہے اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلبے اور صحیح سلامت واپسی پر خوشی کا اظہار ہے، نہ اس لیے کہ نذر کی وجہ سے یہ واجب ہو جاتا ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النذور/حدیث: 20102]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20102 in Urdu