السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3988. -- باب: الهدي فيما ركب، واختلاف الروايات فيه
-- باب: جس قدر راستہ سواری پر طے کیا اس کے بدلے ہدی (قربانی) دینے اور اس میں روایات کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 20123
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي رَكْبٍ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، إِذَ بَصُرَ بِخَيَالٍ قَدْ نَفَرَتْ مِنْهُ إِبِلُهُمْ، فَأَنْزَلَ رَجُلًا، فَنَظَرَ، فَإِذَا هُوَ بِامْرَأَةٍ عُرْيَانَةٍ نَاقِضَةٍ شَعْرَهَا، فَقَالَ: مَا لَكِ؟ قَالَتْ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَحُجَّ الْبَيْتَ مَاشِيَةً عُرْيَانَةً نَاقِضَةً شَعْرِي، فَأَنَا أَتَكَمَّنُ بِالنَّهَارِ وَأَتَنَكَّبُ الطَّرِيقَ بِاللَّيْلِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ:" ارْجِعْ إِلَيْهَا فَمُرْهَا فَلْتَلْبَسْ ثِيَابَهَا وَلْتُهْرِقْ دَمًا" هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مُنْقَطِعٍ، دُونَ ذِكْرِ الْهَدْيِ فِيهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم آدھی رات کے وقت ایک قافلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہیولا دیکھا جس سے ان کے اونٹ بدک گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اتارا، اس نے دیکھا تو وہ ایک ننگی، کھلے بالوں والی عورت تھی۔ اس نے کہا: تجھے کیا ہے؟ وہ کہنے لگی: میں نے نذر مانی ہے کہ بیت اللہ کا حج ننگے اور کھلے بالوں کروں گی۔ میں دن کو چھپ جاتی ہوں اور رات کو راستے سے ہٹ کر سفر کرتی ہوں۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو حکم دو کہ وہ کپڑے پہنے اور قربانی دے۔“
یہ سند ضعیف ہے، اور یہ ایک دوسری منقطع سند سے بھی مروی ہے جس میں قربانی کا ذکر نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 20123]
یہ سند ضعیف ہے، اور یہ ایک دوسری منقطع سند سے بھی مروی ہے جس میں قربانی کا ذکر نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 20123]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20124
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهَ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَانَتْ مِنْهُ نَظْرَةٌ، فَإِذَا هُوَ بِامْرَأَةٍ نَاشِرَةٍ شَعْرَهَا، فَقَالَ:" مَا هَذِهِ؟"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً نَاشِرَةً شَعْرَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مُرُوهَا فَلْتُغَطِّي رَأْسَهَا، وَلْتَرْكَبْ".
ایوب عکرمہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایک بکھرے ہوئے بالوں والی عورت پر پڑی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے نذر مانی ہے کہ پیدل چل کر، بال کھول کر حج کرے گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو حکم دو کہ اپنے سر کو ڈھانپے اور سواری کر لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 20124]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20125
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو عَامِرٍ صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَلَّمَا قَامَ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا حَثَّنَا فِيهِ عَلَى الصَّدَقَةِ وَنَهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ، وَقَالَ:" إِنَّ مِنَ الْمُثْلَةِ أَنْ تَنْذِرَ أَنْ تَخْرِمَ أَنْفَهُ، وَمِنَ الْمُثْلَةِ أَنْ تَنْذِرَ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيًا، ⦗١٣٩⦘ فَإِذَا نَذَرَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَحُجَّ مَاشِيًا فَلْيُهْدِ هَدْيًا وَلْيَرْكَبْ" وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ صَالِحٍ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ" فَلْيُهْدِ بَدَنَةً وَلْيَرْكَبْ".
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان بیٹھتے یا تو صدقہ کی ترغیب دیتے یا «الْمُثْلَةِ» (مثلہ) سے منع کرتے اور فرمایا: ”مثلہ یہ ہے کہ آپ اپنی ناک کو چھیدیں یا پیدل چل کر حج کریں۔ جب پیدل چل کر حج کرنے کی نذر مانی جائے تو اس کے عوض قربانی دیں اور سواری کریں۔“
(ب) حضرت صالح کی حدیث میں ہے کہ وہ اونٹ کی قربانی دے اور سواری کو اختیار کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 20125]
(ب) حضرت صالح کی حدیث میں ہے کہ وہ اونٹ کی قربانی دے اور سواری کو اختیار کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 20125]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20126
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغَوِيُّ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاه وَقَالَ" فَلْيُهْدِ بَدَنَةً وَلْيَرْكَبْ" وَلَا يَصِحُّ سَمَاعُ الْحَسَنِ مِنْ عِمْرَانَ، فَفِيهِ إِرْسَالٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ وَرُوِيَ فِيهِ: عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
صالح بن رستم رحمہ اللہ نے اس کے ہم معنی ذکر کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ وہ اونٹ کی قربانی دیں اور سواری کو اختیار کریں۔
حسن کا عمران رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں، لہٰذا اس میں ارسال ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 20126]
حسن کا عمران رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں، لہٰذا اس میں ارسال ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 20126]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20127
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الرَّجُلِ يَحْلِفُ: عَلَيْهِ الْمَشْيُ، فَقَالَ:" يَمْشِي، فَإِنْ عَجَزَ رَكِبَ وَأَهْدَى بَدَنَةً.
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک آدمی کے بارے میں، جس نے پیدل چل کر حج کرنے کی قسم کھائی تھی، پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: وہ پیدل چلے اور اگر عاجز آجائے تو سوار ہو جائے اور اونٹ کی قربانی کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 20127]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره