السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4068. -- باب: الشهادة في الطلاق، والرجعة وما في معناهما من النكاح والقصاص والحدود
-- باب: طلاق، رجوع اور ان کے ہم معنی امور جیسے نکاح، قصاص اور حدود میں گواہی کا بیان۔
حدیث نمبر: Q20525
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ} [الطلاق: 2] .
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ﴾ ”پھر جب وہ اپنی (عدت کی) مدت کو پہنچنے لگیں تو انہیں بھلے طریقے سے روک لو یا بھلے طریقے سے ان سے جدا ہو جاؤ، اور اپنے میں سے دو عادل آدمیوں کو گواہ بنا لو۔“ [سورة الطلاق: 2] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: Q20525]
حدیث نمبر: 20525
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَاشِدٍ، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، ثنا عَبَايَةُ بْنُ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: أَصْبَحَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مَقْتُولًا بِخَيْبَرَ، فَانْطَلَقَ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ:" أَلَكُمْ شَاهِدَانِ يَشْهَدَانِ عَلَى قَتْلِ صَاحِبِكُمْ"؟ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، لَمْ يَكُنْ ثَمَّ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَإِنَّمَا هُمْ يَهُودُ، وَقَدْ يَجْتَرِئُونَ عَلَى أَعْظَمَ مِنْ هَذَا، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری صبح کے وقت خیبر میں مقتول پایا گیا، اس کے وارثوں نے اس کا تذکرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تمہارے دو گواہ اس قتل پر گواہی دیں گے؟“ انہوں نے کہا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہاں کوئی مسلمان موجود نہیں ہے، وہاں یہودی ہیں وہ اس سے بھی بڑا کام کرسکتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20525]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20526
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ ⦗٢٥٠⦘ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّفَّاءُ الْهَرَوِيُّ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمَّادٍ الْقُومِسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يُونُسَ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ، فَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ، فَإِنْ نَكَحَتْ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ". وَرَوَيْنَا فِي كِتَابِ النِّكَاحِ، عَنِ الْحَسَنِ وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ" وَرُوِّينَاهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَالَّذِي رَوَاهُ حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَجَازَ شَهَادَةَ الرَّجُلِ مَعَ النِّسَاءِ فِي النِّكَاحِ لَا يَصِحُّ، فَعَطَاءٌ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُنْقَطِعٌ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَمُرْسَلُ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَصَحُّ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ اگر وہ آپس میں اختلاف کریں تو بادشاہ اس کا ولی ہے جس کا کوئی ولی نہیں۔ اگر اس نے اپنا نکاح خود کر لیا تو نکاح باطل ہے۔“
(ب) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح باطل ہے۔
(ج) حجاج بن ارطاۃ کی عطاء کے واسطے سے یہ روایت کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نکاح میں عورتوں کے ساتھ مرد کی گواہی کی اجازت دی، درست نہیں ہے۔
عطاء کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت منقطع ہے، حجاج بن ارطاۃ قابلِ حجت نہیں، اور ابن مسیب کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مرسل روایت زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20526]
(ب) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح باطل ہے۔
(ج) حجاج بن ارطاۃ کی عطاء کے واسطے سے یہ روایت کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نکاح میں عورتوں کے ساتھ مرد کی گواہی کی اجازت دی، درست نہیں ہے۔
عطاء کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت منقطع ہے، حجاج بن ارطاۃ قابلِ حجت نہیں، اور ابن مسیب کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مرسل روایت زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20526]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في كتاب النكاح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20527
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خِمَيْرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ لَا يُجِيزُ شَهَادَةَ النِّسَاءِ عَلَى الْإِطْلَاقِ".
حضرت حسن رحمہ اللہ عورتوں کی گواہی کو مطلقاً جائز نہیں سمجھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20527]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20528
قَالَ: وَحَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ لَا يُجِيزُ شَهَادَةَ النِّسَاءِ عَلَى الْحُدُودِ وَالطَّلَاقِ، قَالَ:" وَالطَّلَاقُ مِنْ أَشَدِّ الْحُدُودِ".
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت کی گواہی حدود و طلاق میں جائز نہیں، فرمایا: طلاق تو سب سے زیادہ سخت حدود ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20528]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح