السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4068. -- باب: الشهادة في الطلاق، والرجعة وما في معناهما من النكاح والقصاص والحدود
-- باب: طلاق، رجوع اور ان کے ہم معنی امور جیسے نکاح، قصاص اور حدود میں گواہی کا بیان۔
حدیث نمبر: 20526
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ ⦗٢٥٠⦘ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّفَّاءُ الْهَرَوِيُّ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمَّادٍ الْقُومِسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يُونُسَ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ، فَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ، فَإِنْ نَكَحَتْ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ". وَرَوَيْنَا فِي كِتَابِ النِّكَاحِ، عَنِ الْحَسَنِ وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ" وَرُوِّينَاهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَالَّذِي رَوَاهُ حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَجَازَ شَهَادَةَ الرَّجُلِ مَعَ النِّسَاءِ فِي النِّكَاحِ لَا يَصِحُّ، فَعَطَاءٌ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُنْقَطِعٌ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَمُرْسَلُ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَصَحُّ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ اگر وہ آپس میں اختلاف کریں تو بادشاہ اس کا ولی ہے جس کا کوئی ولی نہیں۔ اگر اس نے اپنا نکاح خود کر لیا تو نکاح باطل ہے۔“
(ب) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح باطل ہے۔
(ج) حجاج بن ارطاۃ کی عطاء کے واسطے سے یہ روایت کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نکاح میں عورتوں کے ساتھ مرد کی گواہی کی اجازت دی، درست نہیں ہے۔
عطاء کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت منقطع ہے، حجاج بن ارطاۃ قابلِ حجت نہیں، اور ابن مسیب کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مرسل روایت زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20526]
(ب) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح باطل ہے۔
(ج) حجاج بن ارطاۃ کی عطاء کے واسطے سے یہ روایت کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نکاح میں عورتوں کے ساتھ مرد کی گواہی کی اجازت دی، درست نہیں ہے۔
عطاء کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت منقطع ہے، حجاج بن ارطاۃ قابلِ حجت نہیں، اور ابن مسیب کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مرسل روایت زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20526]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في كتاب النكاح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20526 in Urdu