السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4077. -- باب: وجوه العلم بالشهادة
-- باب: گواہی کا علم حاصل ہونے کے مختلف پہلوؤں (طریقوں) کا بیان۔
حدیث نمبر: Q20581
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: مِنْهَا: مَا عَايَنَهُ الشَّاهِدُ، فَيَشْهَدُ بِالْمُعَايَنَةِ. قَالَ الشَّيْخُ: وَهِيَ الْأَفْعَالُ الَّتِي تُعَايِنُهَا فَتَشَهَدُ عَلَيْهَا بِالْمُعَايَنَةِ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ان (گواہی کی صورتوں) میں سے ایک یہ ہے کہ جس چیز کا گواہ نے (خود) مشاہدہ کیا ہو تو وہ مشاہدے کی بنیاد پر گواہی دے۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور اس سے مراد وہ افعال ہیں جن کا تم مشاہدہ کرتے ہو اور پھر مشاہدے کی بنیاد پر ان کی گواہی دیتے ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: Q20581]
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور اس سے مراد وہ افعال ہیں جن کا تم مشاہدہ کرتے ہو اور پھر مشاہدے کی بنیاد پر ان کی گواہی دیتے ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: Q20581]
حدیث نمبر: 20581
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَأَى عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ رَجُلًا يَسْرِقُ، فَقَالَ: أَسَرَقْتَ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ؟ قَالَ: وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، قَالَ: فَقَالَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ: آمَنْتُ بِاللهِ، وَكَذَّبْتُ بَصَرِي". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَمِنْهَا مَا تَظَاهَرَتْ بِهِ الْأَخْبَارُ مِمَّا لَا يُمْكِنُ فِي أَكْثَرِهِ الْعَيَانُ، وَتَثْبُتُ مَعْرِفَتُهُ فِي الْقُلُوبِ، فَيَشْهَدُ عَلَيْهِ بِهَذَا الْوَجْهِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے ایک آدمی کو چوری کرتے دیکھا تو اس سے فرمایا: ”کیا تو نے چوری کی ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ نے فرمایا: ”اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں؟“ اس نے کہا: ”اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔“ تو عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ”میں اللہ پر ایمان لایا اور اپنی نظر کو جھٹلاتا ہوں۔““
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اور ان (گواہی کی صورتوں) میں سے ایک وہ ہے جس پر خبریں تواتر سے آئیں، جن میں سے اکثر کا مشاہدہ ممکن نہیں ہوتا، اور دلوں میں ان کی معرفت پختہ ہو جاتی ہے، تو وہ اسی بنیاد پر اس کی گواہی دیتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20581]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اور ان (گواہی کی صورتوں) میں سے ایک وہ ہے جس پر خبریں تواتر سے آئیں، جن میں سے اکثر کا مشاہدہ ممکن نہیں ہوتا، اور دلوں میں ان کی معرفت پختہ ہو جاتی ہے، تو وہ اسی بنیاد پر اس کی گواہی دیتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20581]
تخریج الحدیث: «متفق عليه»
الحكم على الحديث: متفق عليه
حدیث نمبر: 20582
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَمَتَّ لَهُ بِرَحِمٍ بَعِيدَةٍ، فَأَلَانَ لَهُ الْقَوْلَ وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اعْرَفُوا أَنْسَابَكُمْ تَصِلُوا أَرْحَامَكُمْ، فَإِنَّهُ لَا قُرْبَ لِلرَّحِمِ إِذَا قُطِعَتْ، وَإِنْ كَانَتْ قَرِيبَةً، وَلَا بُعْدَ لَهَا إِذَا وُصِلَتْ، وَإِنْ كَانَتْ بَعِيدَةً". فَأَمَرَ بِمَعْرِفَةِ الْأَنْسَابِ، وَالْعِلْمُ بِأَصْلِهَا إِنَّمَا يَقَعُ بِتَظَاهُرِ الْأَخْبَارِ، وَلَا يُمْكِنُ فِي أَكْثَرِهَا الْعَيَانُ.
اسحاق بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد نے بیان کیا کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، ان کے پاس ایک آدمی آیا، انہوں نے اس سے سوال کیا کہ: ”تم کون ہو؟“ اس نے دور کی رشتہ داری بتائی، تو انہوں نے اس سے نرمی سے بات کی اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے نسبوں کو پہچانو اور رشتہ داریاں ملایا کرو، جب رشتہ داری کاٹ دی جائے تو جتنی بھی قریبی ہو نہیں رہتی اور دوری نہیں ہوتی جب اس کو ملایا جائے، اگرچہ دور کا تعلق ہی کیوں نہ ہو۔“ انہوں نے نسب کو پہچاننے کا حکم دیا؛ کیونکہ اخبار سے ہی یہ ظاہر ہوتا ہے کیونکہ اکثر ان کی اصل معلوم نہیں ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20582]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الطيالسي 2880»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20583
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ⦗٢٦٥⦘ بِبَغْدَادَ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنَّهُ سَمِعَ الْأَسْوَدَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، يَقُولُ: لَقَدْ قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي مِنَ الْيَمَنِ، فَمَكَثْنَا حِينًا مَا نَرَى إِلَّا أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِمَّا نَرَى مِنْ دُخُولِهِ وَدُخُولِ أُمِّهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يُوسُفَ.
اسود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے سنا کہ میں اور میرا بھائی یمن سے آئے، ہم یہاں کچھ وقت ٹھہرے اور ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا ایک فرد ہی خیال کرتے تھے؛ کیونکہ وہ اور ان کی والدہ اکثر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20583]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20584
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ:" قَدِمْنَا مِنَ الْيَمَنِ فَمَكَثْنَا حِينًا وَلَا نَرَى إِلَّا وَابْنُ مَسْعُودٍ وَأُمُّهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِكَثْرَةِ دُخُولِهِمْ وَلُزُومِهِمْ لَهُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ آدَمَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَفِي هَذَا كَالدِّلَالَةِ عَلَى أَنَّ كَثْرَةَ الدُّخُولِ فِي الدَّارِ، وَالتَّصَرُّفَ فِيهَا يُسْتَدَلُّ بِهِمَا عَلَى الْمِلْكِ، وَاللهُ أَعْلَمُ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَمِنْهَا: مَا سَمِعَهُ فَيَشْهَدُ بِمَا أَثْبَتَ سَمْعًا مِنَ الْمَشْهُودِ عَلَيْهِ مَعَ إِثْبَاتِ بَصَرٍ".
اسود بن یزید رحمہ اللہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم یمن سے مدینہ آئے۔ کچھ وقت یہاں ٹھہرے، ہم ابن مسعود اور ان کی والدہ رضی اللہ عنہما کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے خیال کرتے تھے، ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکثر آنے کی وجہ سے۔
(ب) اس حدیث میں اس بات کی دلیل جیسی ہے کہ گھر میں اکثر داخل ہونا اور گھر میں مصروف رہنا ملکیت پر دلالت کرتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اور ان (گواہی کی صورتوں) میں سے ایک وہ ہے جو وہ سنے، تو جس شخص کے خلاف گواہی دے رہا ہے اس سے سن کر اور آنکھ سے دیکھ کر جو بات ثابت کی ہو اس کی گواہی دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20584]
(ب) اس حدیث میں اس بات کی دلیل جیسی ہے کہ گھر میں اکثر داخل ہونا اور گھر میں مصروف رہنا ملکیت پر دلالت کرتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اور ان (گواہی کی صورتوں) میں سے ایک وہ ہے جو وہ سنے، تو جس شخص کے خلاف گواہی دے رہا ہے اس سے سن کر اور آنکھ سے دیکھ کر جو بات ثابت کی ہو اس کی گواہی دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20584]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20585
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ح، قَالَ: وَأَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَتَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالَا: ثنا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ: إِنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُأْثِرُ هَذَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ:" نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالْوَرِقِ، إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَعَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ، إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، فَأَشَارَ أَبُو سَعِيدٍ بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى عَيْنَيْهِ وَأُذُنَيْهِ، فَقَالَ: أَبْصَرَ عَيْنَايَ، وَسَمِعَتْ أُذُنَايَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ، إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا مِنْهُ غَائِبًا بِنَاجِزٍ، إِلَّا يَدًا بِيَدٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ. فَأَخْبَرَ أَنَّ الْعِلْمَ بِالْقَوْلِ يَقَعُ بِمُعَايَنَةِ قَائِلِهِ وَسَمَاعِهِ مِنْهُ، وَفِي هَذَا عَنِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَمْثِلَةٌ كَثِيرَةٌ، قَالَ الشَّافِعِيُّ ⦗٢٦٦⦘ رَحِمَهُ اللهُ: وَبِهَذَا قُلْتُ:" لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ الْأَعْمَى إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَثْبَتَ شَيْئًا مُعَايَنَةً، أَوْ مُعَايَنَةً وَسَمْعًا، ثُمَّ عَمِيَ، فَتَجُوزُ شَهَادَتُهُ"، قَالَ:" وَإِذَا كَانَ الْقَوْلُ أَوِ الْفِعْلُ وَهُوَ أَعْمَى لَمْ يَجُزْ مِنْ قِبَلِ أَنَّ الصَّوْتَ يُشْبِهُ الصَّوْتَ".
نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو لیث کے ایک آدمی نے کہا کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ چاندی کی بیع چاندی کے ساتھ کی جائے مگر برابر برابر، اسی طرح سونے کی بیع بھی برابر برابر کی جائے۔“ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اپنی انگلی سے اپنی آنکھوں اور کانوں کی طرف اشارہ کیا کہ میری آنکھوں نے دیکھا اور میرے کانوں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاندی اور سونے کی بیع برابر برابر کی جائے اور ایک دوسرے پر (قیمت میں) اضافہ نہ کرو، اور غائب کو موجود کے عوض فروخت نہ کرو مگر ہاتھوں ہاتھ۔“
(ب) پس انہوں نے بتایا کہ بات کا علم کہنے والے کے مشاہدے اور اس سے سننے کے ذریعے حاصل ہوتا ہے، اور اس بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بہت سی مثالیں ہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نابینا آدمی کی شہادت صرف اس صورت میں قبول ہے کہ اس نے مشاہدہ کیا ہو یا سنا ہو بینائی ختم ہونے سے پہلے، لیکن جب وہ نابینا ہو جائے اور قول یا فعل نقل کرے درآں حالیکہ وہ اندھا ہو تو اس کی جانب سے یہ خبر مقبول نہیں؛ کیونکہ آوازیں ایک دوسرے کے مشابہ ہوتی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20585]
(ب) پس انہوں نے بتایا کہ بات کا علم کہنے والے کے مشاہدے اور اس سے سننے کے ذریعے حاصل ہوتا ہے، اور اس بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بہت سی مثالیں ہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نابینا آدمی کی شہادت صرف اس صورت میں قبول ہے کہ اس نے مشاہدہ کیا ہو یا سنا ہو بینائی ختم ہونے سے پہلے، لیکن جب وہ نابینا ہو جائے اور قول یا فعل نقل کرے درآں حالیکہ وہ اندھا ہو تو اس کی جانب سے یہ خبر مقبول نہیں؛ کیونکہ آوازیں ایک دوسرے کے مشابہ ہوتی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20585]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20586
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خِمَيْرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ الْعَنَزِيُّ، سَمِعَ قَوْمَهُ، يَقُولُونَ:" إِنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَدَّ شَهَادَةَ أَعْمَى فِي سَرِقَةٍ لَمْ يُجِزْهَا".
اسود بن قیس عنزی نے اپنی قوم سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ چوری کے کیس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اندھے کی شہادت کو رد کر دیا، اسے درست قرار نہیں دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20586]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20587
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَرِهَ شَهَادَةَ الْأَعْمَى. قَالَ الشَّافِعِيُّ:" وَإِذَا كَانَ هَذَا هَكَذَا، كَانَ الْكِتَابُ أَحْرَى أَنْ لَا يَحِلَّ لِأَحَدٍ يَشْهَدُ عَلَيْهِ".
یونس حضرت حسن رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اندھے کی شہادت کو ناپسند کرتے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب معاملہ اس طرح ہے تو تحریر اس بات کی زیادہ حق دار ہے کہ کسی کے لیے اس کی بنیاد پر گواہی دینا جائز نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20587]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب معاملہ اس طرح ہے تو تحریر اس بات کی زیادہ حق دار ہے کہ کسی کے لیے اس کی بنیاد پر گواہی دینا جائز نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20587]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20588
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفرَاينِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْحَذَّاءُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنِي أَبُو مُعَاوِيَةَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ النَّخَعِيُّ، قَالَ: قُلْتُ لِلشَّعْبِيِّ، أَوْ سَمِعْتُ رَجُلًا قَالَ لِلشَّعْبِيِّ: أَعْرِفُ نَقْشَ خَاتَمِي فِي الصَّكِ، وَلَا أَعْرِفُ الشَّهَادَةَ؟ قَالَ:" لَا تَشْهَدْ إِلَّا عَلَى مَا تَعْرِفُ، فَإِنَّ النَّاسَ قَدْ يَنْقِشُونَ عَلَى الْخَوَاتِيمِ".
ابو معاویہ عمرو بن عبداللہ بن وہب نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے شعبی رحمہ اللہ سے کہا یا میں نے ایسے آدمی سے سنا جس نے شعبی رحمہ اللہ سے کہا: میں دستاویز پر اپنی انگوٹھی کے نقش کو پہچانتا ہوں، لیکن شہادت کے بارے میں نہیں جانتا۔ فرمانے لگے: صرف اسی بات کی گواہی دو جسے تم جانتے ہو۔ بہت سارے لوگ انگوٹھی پر نقش بناتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20588]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 20589
قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَلِيٌّ، ثنا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ: قُلْتُ لِإِبْرَاهِيمَ: أَرَى اسْمِي فِي الصَّكِّ، وَلَا أَذْكُرُ الشَّهَادَةَ، فَقَالَ:" قَالَ اللهُ تَعَالَى: {إِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ} [الزخرف: ٨٦] ".
ازہر بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عون رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے ابراہیم رحمہ اللہ سے کہا کہ دستاویز میں اپنا نام دیکھتا ہوں، لیکن شہادت کے بارے میں کچھ یاد نہیں۔ انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ﴾ [سورة الزخرف: 86] ”حق کی گواہی دی اور وہ جانتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20589]