السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4077. -- باب: وجوه العلم بالشهادة
-- باب: گواہی کا علم حاصل ہونے کے مختلف پہلوؤں (طریقوں) کا بیان۔
حدیث نمبر: Q20581
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: مِنْهَا: مَا عَايَنَهُ الشَّاهِدُ، فَيَشْهَدُ بِالْمُعَايَنَةِ. قَالَ الشَّيْخُ: وَهِيَ الْأَفْعَالُ الَّتِي تُعَايِنُهَا فَتَشَهَدُ عَلَيْهَا بِالْمُعَايَنَةِ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ان (گواہی کی صورتوں) میں سے ایک یہ ہے کہ جس چیز کا گواہ نے (خود) مشاہدہ کیا ہو تو وہ مشاہدے کی بنیاد پر گواہی دے۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور اس سے مراد وہ افعال ہیں جن کا تم مشاہدہ کرتے ہو اور پھر مشاہدے کی بنیاد پر ان کی گواہی دیتے ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: Q20581]
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور اس سے مراد وہ افعال ہیں جن کا تم مشاہدہ کرتے ہو اور پھر مشاہدے کی بنیاد پر ان کی گواہی دیتے ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: Q20581]
حدیث نمبر: 20581
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَأَى عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ رَجُلًا يَسْرِقُ، فَقَالَ: أَسَرَقْتَ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ؟ قَالَ: وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، قَالَ: فَقَالَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ: آمَنْتُ بِاللهِ، وَكَذَّبْتُ بَصَرِي". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَمِنْهَا مَا تَظَاهَرَتْ بِهِ الْأَخْبَارُ مِمَّا لَا يُمْكِنُ فِي أَكْثَرِهِ الْعَيَانُ، وَتَثْبُتُ مَعْرِفَتُهُ فِي الْقُلُوبِ، فَيَشْهَدُ عَلَيْهِ بِهَذَا الْوَجْهِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے ایک آدمی کو چوری کرتے دیکھا تو اس سے فرمایا: ”کیا تو نے چوری کی ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ نے فرمایا: ”اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں؟“ اس نے کہا: ”اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔“ تو عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ”میں اللہ پر ایمان لایا اور اپنی نظر کو جھٹلاتا ہوں۔““
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اور ان (گواہی کی صورتوں) میں سے ایک وہ ہے جس پر خبریں تواتر سے آئیں، جن میں سے اکثر کا مشاہدہ ممکن نہیں ہوتا، اور دلوں میں ان کی معرفت پختہ ہو جاتی ہے، تو وہ اسی بنیاد پر اس کی گواہی دیتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20581]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اور ان (گواہی کی صورتوں) میں سے ایک وہ ہے جس پر خبریں تواتر سے آئیں، جن میں سے اکثر کا مشاہدہ ممکن نہیں ہوتا، اور دلوں میں ان کی معرفت پختہ ہو جاتی ہے، تو وہ اسی بنیاد پر اس کی گواہی دیتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20581]
تخریج الحدیث: «متفق عليه»
الحكم على الحديث: متفق عليه
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20581 in Urdu