السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4103. -- جماع أبواب من تجوز شهادته، ومن لا تجوز من الأحرار البالغين العاقلين المسلمين
-- آزاد، بالغ، عاقل مسلمانوں میں سے جن کی گواہی جائز ہے اور جن کی جائز نہیں ان کے جامع ابواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 20761
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، ثنا غَيْلَانُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالًا هِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِنَ الشَّعْرِ، إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا لَهِيَ الْمُوبِقَاتُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ.
غیلان رحمہ اللہ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ (انہوں نے فرمایا): تم ایسے بہت سے اعمال کرتے ہو جو تمہاری نظروں میں بال سے بھی زیادہ باریک ہیں، حالانکہ ہم انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہلاک کر دینے والے شمار کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20761]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 6492»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20762
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِيَّاكُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الْأَعْمَالِ، إِنَّهُنَّ لَيُجْمَعْنَ عَلَى الرَّجُلِ حَتَّى يُهْلِكْنَهُ"، وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ لَهُنَّ مَثَلًا:" كَمَثَلِ قَوْمٍ نَزَلُوا بِأَرْضِ فَلَاةٍ، فَحَضَرَ صَنِيعُ الْقَوْمِ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْعُودِ وَالرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْعُوَيْدِ، حَتَّى جَمَعُوا مِنْ ذَلِكَ سَوَادًا، ثُمَّ أَجَّجُوا نَارًا فَأَنْضَجَتْ مَا قُذِفَ فِيهَا". وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ قَوْلِهِ، غَيْرَ مَرْفُوعٍ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم حقیر اعمال سے بچو، اگر وہ آدمی پر جمع ہو جائیں تو اس کو ہلاک کر دیں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مثال بیان فرمائی ہے کہ ”ایسی قوم جو چٹیل میدان میں ہو اور قوم کے کھانا پکانے کا وقت آ جائے تو لوگ ایک ایک لکڑی لانی شروع کر دیں، انھوں نے زیادہ لکڑیاں جمع کر لیں، پھر انھوں نے آگ روشن کی، پھر وہ جلا ڈالے گی جو بھی اس میں ڈالا جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20762]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20763
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ الْقَاضِي، بِمِصْرَ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَذْنَبَ ذَنْبًا كَانَتْ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ فِي قَلْبِهِ، فَإِنْ تَابَ وَنَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ صُقِلَ مِنْهَا قَلْبُهُ، فَإِنْ عَادَ رَانَتْ حَتَّى يُغْلَقَ بِهَا قَلْبُهُ"، فَذَاكَ الَّذِي ذَكَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي كِتَابِهِ: {كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ} [المطففين: ١٤] ". ⦗٣١٧⦘ قَالَ الشَّيْخُ:" وَيُشْبِهُ أَنْ تَكُونَ هَذِهِ الْأَخْبَارُ وَمَا جَانَسَهَا فِي التَّغْلِيظِ وَالتَّشْدِيدِ فِيمَنْ أَصَرَّ عَلَى الذُّنُوبِ غَيْرَ مُسْتَغْفِرٍ مِنْهَا، وَلَا مُحَدِّثٍ نَفْسَهُ بِتَرْكِهَا".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نکتہ لگ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کر لے اور گناہ چھوڑ دے اور استغفار کر لے تو نکتہ صاف کر دیا جاتا ہے۔ اگر وہ دوبارہ گناہ کرتا ہے تو دل زنگ آلود ہو جاتا ہے۔“ اس کا تذکرہ اللہ نے اپنی کتاب میں کیا ہے: ﴿كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾ [سورة المطففين: 14] ”ہرگز نہیں بلکہ ان کی اپنی کرتوتوں کی وجہ سے ان کے دل زنگ آلود ہو گئے۔“
شیخ فرماتے ہیں: یہ ان کے لیے ڈانٹ ہے جو گناہوں پر اصرار کرتے ہیں، توبہ استغفار نہیں کرتے اور اپنے دل کو گناہ چھوڑنے پر آمادہ نہیں کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20763]
شیخ فرماتے ہیں: یہ ان کے لیے ڈانٹ ہے جو گناہوں پر اصرار کرتے ہیں، توبہ استغفار نہیں کرتے اور اپنے دل کو گناہ چھوڑنے پر آمادہ نہیں کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20763]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 20764
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي عَمْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ عَبْدًا أَصَابَ ذَنْبًا فَقَالَ: يَا رَبِّ إِنِّي أَذْنَبْتُ ذَنْبًا فَاغْفِرْ لِي، فَقَالَ رَبُّهُ: عَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ، فَغَفَرَ لَهُ، ثُمَّ مَكَثَ مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ أَصَابَ ذَنْبًا آخَرَ"، وَرُبَّمَا قَالَ:" أَذْنَبَ ذَنْبًا آخَرَ، فَقَالَ: يَا رَبِّ إِنِّي أَذْنَبْتُ ذَنْبًا آخَرَ فَاغْفِرْ لِي، قَالَ رَبُّهُ: عَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ فَغَفَرَ لَهُ، ثُمَّ مَكَثَ مَا شَاءَ اللهُ ثُمَّ أَصَابَ ذَنْبًا آخَرَ"، وَرُبَّمَا قَالَ:" أَذْنَبَ ذَنْبًا آخَرَ، فَقَالَ: يَا رَبِّ إِنِّي أَذْنَبْتُ ذَنْبًا آخَرَ، فَاغْفِرْ لِي، فَقَالَ رَبُّهُ: عَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ، فَقَالَ رَبُّهُ: غَفَرْتُ لِعَبْدِي فَلْيَعْمَلْ مَا شَاءَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ هَمَّامٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بندہ گناہ کرتا ہے اور کہتا ہے: «أَيْ رَبِّ اغْفِرْ لِي» ”اے میرے رب! مجھے معاف فرما“ تو اللہ فرماتے ہیں کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کے گناہ معاف کرنے والا رب ہے، جو اس کا مواخذہ بھی کر سکتا ہے۔ پھر اللہ اس کو معاف کر دیتے ہیں، پھر کچھ دیر کے بعد وہ دوبارہ گناہ کر لیتا ہے اور بعض اوقات کئی اور بھی گناہ کر لیتا ہے، پھر کہتا ہے: «أَيْ رَبِّ اغْفِرْ لِي» ”اے اللہ! میں نے دوسرا گناہ کر لیا ہے، مجھے معاف فرما“ تو اللہ فرماتے ہیں کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ اللہ اس کو معاف کر دے گا اور اس کا مواخذہ بھی کر سکتا ہے، اللہ اس کو معاف کر دیتے ہیں۔ پھر وہ کچھ دیر ٹھہرتا ہے، پھر گناہ کر لیتا ہے، پھر کہتا ہے: «أَيْ رَبِّ اغْفِرْ لِي» ”اے اللہ! مجھے گناہ معاف کر دے“ تو اللہ فرماتے ہیں کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ اللہ اس کو معاف کر دیں گے، اس کا مواخذہ بھی کر سکتا ہے تو اللہ فرماتے ہیں: «غَفَرْتُ لِعَبْدِي فَلْيَعْمَلْ مَا شَاءَ» ”میں نے تجھے معاف کر دیا جو مرضی عمل کر“۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20764]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20765
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ ابْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ وَاقِدٍ الْعُمَرِيُّ، عَنْ أَبِي نُصَيْرَةَ، عَنْ مَوْلًى لِآلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَصَرَّ مَنِ اسْتَغْفَرَ، وَإِنْ عَادَ فِي الْيَوْمِ سَبْعِينَ مَرَّةً".
ابو نصیرہ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے استغفار کر لیا اس نے (گناہ پر) اصرار نہیں کیا، اگرچہ وہ ایک دن کے اندر ستر مرتبہ (گناہ کی طرف) لوٹے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20765]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20766
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، سَمِعَ أَبَا عُبَيْدَةَ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللهَ يَبْسُطُ يَدَهُ بِاللَّيْلِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ النَّهَارِ، وَبِالنَّهَارِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ اللَّيْلِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ بُنْدَارٍ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ.
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ رب العزت رات کو اپنا ہاتھ پھیلاتے ہیں تاکہ دن کا گناہ گار توبہ کرلے اور دن کو اپنے ہاتھ پھیلاتے ہیں، تاکہ رات کا پاپی توبہ کرلے، یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20766]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 2759»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20767
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ سُوَيْدٍ، يَقُولُ: أَتَيْنَا عَبْدَ اللهِ يَعْنِي: ابْنَ مَسْعُودٍ فَحَدَّثَنَا بِحَدِيثَيْنِ، أَحَدُهُمَا: عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْآخَرُ عَنْ نَفْسِهِ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ ⦗٣١٨⦘ الْمُؤْمِنِ مِنْ رَجُلٍ"، قَالَ:" بِأَرْضِ فَلَاةٍ دَوِيَّةٍ وَمَهْلَكَةٍ وَمَعَهُ رَاحِلَتُهُ، عَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ، فَنَزَلَ فِيهَا، فَنَامَ وَرَاحِلَتُهُ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَاسْتَيْقَظَ وَقَدْ ذَهَبَتْ، فَذَهَبَ فِي طَلَبِهَا، فَلَمْ يَقْدِرْ عَلَيْهَا حَتَّى أَدْرَكَهُ مِنَ الْعَطَشِ، فَقَالَ: وَاللهِ لَأَرْجِعَنَّ فَلَأَمُوتَنَّ حَيْثُ كَانَ رَحْلِي، فَرَجَعَ فَنَامَ وَاسْتَيْقَظَ، وَإِذَا رَاحِلَتُهُ عِنْدَ رَأْسِهِ عَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ".
حارث بن سوید فرماتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے ہمیں دو احادیث بیان کیں: ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوع بیان کی اور دوسری اپنی جانب سے۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اپنے بندے کی توبہ سے اس آدمی سے بڑھ کر خوش ہوتا ہے، جو جنگلی سفر میں ہلاکت کی جگہ پر تھا۔ اس کی سواری پر کھانا پینا موجود تھا۔ وہ قیام کی غرض سے اترا، آرام کرنے کے بعد بیدار ہوا تو سواری غائب تھی۔ تلاش کرنے پر اس کو پا نہ سکا۔ اس کو پیاس نے تنگ کیا۔ اس نے کہا: میں اپنی سواری والی جگہ واپس پلٹ جاؤں گا یہاں تک کہ موت آ جائے۔ وہ اس جگہ پر آ کر سو گیا۔ جب بیدار ہوا، اس کی سواری موجود تھی اور اس کا کھانا پینا بھی تھا۔“ پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مومن بندہ جب گناہ دیکھتا ہے تو وہ اپنے آپ کو پہاڑ کے نیچے تصور کرتا ہے کہ کہیں اس کے اوپر نہ گر جائے اور گناہ گار اپنے گناہ کو اس طرح خیال کرتا ہے جیسے اس کی ناک پر مکھی ہو، وہ اپنی ناک پر ہاتھ پھیر دیتا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: فرح کی نسبت اللہ کی جانب ہے۔ اس سے مراد اللہ کی رضا و قبولیت ہے جیسے ﴿كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ﴾ [سورة المؤمنون: 53] ”ہر گروہ جو اس کے پاس ہے اس پر راضی ہے۔“ جو دارالسلام کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے اور گناہوں میں مصروف ہو جاتا ہے، اللہ کی مشیت پر ہے کہ معاف کرے یا سزا دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20767]
شیخ فرماتے ہیں: فرح کی نسبت اللہ کی جانب ہے۔ اس سے مراد اللہ کی رضا و قبولیت ہے جیسے ﴿كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ﴾ [سورة المؤمنون: 53] ”ہر گروہ جو اس کے پاس ہے اس پر راضی ہے۔“ جو دارالسلام کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے اور گناہوں میں مصروف ہو جاتا ہے، اللہ کی مشیت پر ہے کہ معاف کرے یا سزا دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20767]
حدیث نمبر: 20768
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ثنا أَبِي، ثنا الْأَعْمَشُ، ثنا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ، ثنا وَاللهِ أَبُو ذَرٍّ، بِالرَّبَذَةِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْشِي فِي حَرَّةِ الْمَدِينَةِ عِشَاءً، فَاسْتَقْبَلْنَا أُحُدًا، فَقَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدًا ذَاكَ لِي ذَهَبًا تَأْتِي عَلَيْهِ لَيْلَةٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا دِينَارًا أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ، إِلَّا أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللهِ هَكَذَا وَهَكَذَا"، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ"، قُلْتُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" أَلَا إِنَّ الْأَكْثَرِينَ هُمُ الْأَقَلُّونَ، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا ⦗٣١٩⦘ وَهَكَذَا"، ثُمَّ قَالَ لِي:" مَكَانَكَ لَا تَبْرَحْ يَا أَبَا ذَرٍّ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ"، قَالَ: وَانْطَلَقَ حَتَّى غَابَ عَنِّي، فَسَمِعْتُ صَوْتًا، فَتَخَوَّفْتُ أَنْ يَكُونَ عَرَضَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرَدْتُ أَنْ آتِيَهُ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَهُ:" لَا تَبْرَحْ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، سَمِعْتُ صَوْتًا خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ عَرَضَ لَكَ ذَاكَ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَكَ فَأَقَمْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ذَاكَ جِبْرَائِيلُ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَإِنْ زَنَا وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ:" وَإِنْ زَنَا وَإِنْ سَرَقَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ، عَنِ الْأَعْمَشِ..
زید بن وہب فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، جو ربذہ میں تھے۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شام کے وقت مدینہ کے پتھریلے علاقے میں چل رہا تھا۔ ہم احد پہاڑ کے سامنے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! مجھے یہ پسند نہیں کہ یہ احد پہاڑ میرے لیے سونا بن جائے اور اس پر ایک رات بھی ایسی گزرے کہ اس میں سے ایک دینار میرے پاس ہو، سوائے اس دینار کے جو میں قرض کے لیے رکھ لوں، مگر یہ کہ میں اسے اللہ کے بندوں میں اس طرح اور اس طرح تقسیم کر دوں۔“ اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، پھر فرمایا: ”اے ابوذر!“ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! حاضر ہوں، حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! زیادہ مال والے ہی (اجر میں) کم ہوں گے، سوائے اس کے جس نے اس طرح، اس طرح اور اس طرح خرچ کیا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”اے ابوذر! اپنی جگہ رہنا، میں تیرے پاس آتا ہوں۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے، مجھ سے چھپ گئے، میں نے آواز سنی تو میں ڈرا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کوئی معاملہ پیش نہ آ جائے، میں نے ارادہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آؤں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات یاد آ گئی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ: ”ابوذر! اپنی جگہ رہنا۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے آواز سنی تھی، میں ڈرا کہ کوئی معاملہ پیش نہ آئے۔ پھر آپ کی بات یاد آ گئی تو میں ٹھہر گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جبرائیل ہیں، اس نے مجھے خبر دی کہ میری امت کا جو فرد فوت ہو گیا اور اللہ کے ساتھ اس نے شرک نہ کیا تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20768]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20769
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا أَبِي، ثنا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، نَحْوَهُ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ. قَالَ الْبُخَارِيُّ: حَدِيثُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ مُرْسَلٌ، وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ"، قَالَ الْبُخَارِيُّ:" وَقَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، فَذَكَرَ مَا.
سابقہ حدیث کی ایک اور سند ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوصالح کی ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت مرسل ہے، اور صحیح ابوذر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20769]
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوصالح کی ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت مرسل ہے، اور صحیح ابوذر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20769]
حدیث نمبر: 20770
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ السَّدِيرِيُّ الْبَيْهَقِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنبأ شُعْبَةُ، ثنا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، وَسُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، قَالُوا: سَمِعْنَا زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي فَبَشَّرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ"، قَالَ: قُلْتُ: وَإِنْ زَنَا وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ:" وَإِنْ زَنَا وَإِنْ سَرَقَ". قَالَ سُلَيْمَانُ يَعْنِي لِزَيْدِ بْنِ وَهْبٍ: إِنَّمَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: أَمَّا أَنَا فَسَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي ذَرٍّ.
زید بن وہب سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل آئے اور مجھے خوشخبری دی کہ جو امتی فوت ہو گیا اور اس نے شرک نہ کیا ہو وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اگرچہ اس نے چوری اور زنا بھی کیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20770]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح