السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4132. -- باب:: لا بأس باستماع الحداء، ونشيد الأعراب، كثر أو قل
-- باب: حدی خوانی اور دیہاتیوں کے اشعار سننے میں کوئی حرج نہیں، خواہ وہ کم ہوں یا زیادہ۔
حدیث نمبر: 21028
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" هَلْ مَعَكَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ شَيْءٌ؟"، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" هِيهِ"، قَالَ: فَأَنْشَدْتُهُ بَيْتًا، فَقَالَ:" هِيهِ"، قَالَ: فَأَنْشَدْتُهُ حَتَّى بَلَغْتُ مِائَةَ بَيْتٍ..
عمرو بن شرید اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیچھے بٹھایا اور فرمایا: ”کیا امیہ بن ابی صلت کا کوئی شعر یاد ہے؟“ میں نے کہا: ہاں، فرمایا: ”سناؤ۔“ کہتے ہیں: میں نے ایک شعر سنایا تو فرمایا: ”اور سناؤ۔“ یہاں تک کہ سو اشعار سنا دیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21028]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 2255»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21029
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ.
(٢٠٨٧٢) سابقہ حدیث کی ایک اور سند ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21029]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21030
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُوبَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَنْشَدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةَ قَافِيَةٍ مِنْ قَوْلِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ:" هِيهِ، هِيهِ"، ثُمَّ قَالَ:" إِنْ كَادَ فِي شِعْرِهِ لَيُسْلِمَ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْمُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَسَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُدَاءَ وَالرَّجَزَ.
عمرو بن شرید اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو امیہ بن ابی صلت کے سو اشعار سنا دیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اور سناؤ۔“ پھر فرمایا: ”قریب تھا کہ وہ مسلمان ہو جاتا۔“
«قَالَ الشَّافِعِيُّ»: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجز یا اشعار سنے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21030]
«قَالَ الشَّافِعِيُّ»: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجز یا اشعار سنے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21030]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21031
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، وَأَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، وَكَانَ غُلَامٌ يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ يَحْدُو لَهُمْ وَيَسُوقُ بِهِمْ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ، رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ". قَالَ أَيُّوبُ: عَنْ أَبِي قِلَابَةَ: يَعْنِي النِّسَاءَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ وَغَيْرِهِ، عَنْ حَمَّادٍ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے، ایک بچہ تھا جس کو انجشہ کہا جاتا تھا، وہ سواریوں کو چلا رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انجشہ! عورتوں کی سواریوں کو آہستہ چلاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21031]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21032
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ حَادِيًا، لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ، وَكَانَ حَسَنَ الصَّوْتِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رُوَيْدَكَ يَا أَنْجَشَةُ، لَا تَكْسِرِ الْقَوَارِيرَ" أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ هَمَّامٍ.
قتادہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حدی خواں تھا، اس کو انجشہ کہا جاتا تھا، اس کی آواز خوبصورت تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انجشہ! رک جاؤ، شیشوں کو نہ توڑو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21032]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21033
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ أَنْجَشَةُ يَحْدُو بِالنِّسَاءِ، وَكَانَ الْبَرَاءُ بْنُ مَالِكٍ يَحْدُو بِالرِّجَالِ، وَكَانَ أَنْجَشَةُ حَسَنَ الصَّوْتِ، كَانَ إِذَا حَدَا أَعْنَقَتِ الْإِبِلُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ، رُوَيْدَكَ سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انجشہ رضی اللہ عنہ عورتوں کی سواریوں کو ہانکتے تھے اور براء بن مالک رضی اللہ عنہ مردوں کی سواریوں کو چلاتے تھے اور انجشہ رضی اللہ عنہ کی آواز بڑی خوبصورت تھی، جب وہ آواز دیتے تو اونٹ تیز بھاگتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انجشہ! تجھ پر افسوس، عورتوں کی سواریوں کو آہستہ چلاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21033]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21034
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا أَبُو يَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى سَلَمَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، قَالَ: فَسِرْنَا لَيْلًا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لِعَامِرِ بْنِ الْأَكْوَعِ: أَلَا تُسْمِعُنَا مِنْ هُنَيْهَاتِكَ وَكَانَ عَامِرٌ رَجُلًا شَاعِرًا، فَنَزَلَ يَحْدُو بِالْقَوْمِ يَقُولُ:.
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف گئے۔ ہم ایک رات چلتے رہے تو ایک آدمی نے سیدنا عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تم ہمیں اپنے اشعار نہیں سناؤ گے؟ اور عامر ایک شاعر آدمی تھے۔ وہ (اپنی سواری سے) نیچے اترے اور سواریوں کو ہانکتے ہوئے یہ اشعار پڑھنے لگے:
”اے اللہ! اگر تو ہمیں ہدایت نہ دیتا تو ہم صدقہ اور نماز ہی ادا نہ کرتے۔
ہمارے اوپر سکینت کو نازل فرما، جب ہمارے اوپر آزمائش آئے۔
اور ہماری پریشانی کو تبدیل فرما دینا۔“
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”سواریوں کو ہانکنے والا کون ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ عامر بن اکوع ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ان پر رحم فرمائے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا تھا کہ قوم میں تحریک پیدا کرو، تو انہوں نے رجزیہ اشعار کہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21034]
”اے اللہ! اگر تو ہمیں ہدایت نہ دیتا تو ہم صدقہ اور نماز ہی ادا نہ کرتے۔
ہمارے اوپر سکینت کو نازل فرما، جب ہمارے اوپر آزمائش آئے۔
اور ہماری پریشانی کو تبدیل فرما دینا۔“
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”سواریوں کو ہانکنے والا کون ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ عامر بن اکوع ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ان پر رحم فرمائے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا تھا کہ قوم میں تحریک پیدا کرو، تو انہوں نے رجزیہ اشعار کہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21034]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21035
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَبُو عَمْرٍو أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْوَرَّاقُ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ ⦗٣٨٥⦘ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَوَاحَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ، فَقَالَ لَهُ:" يَا ابْنَ رَوَاحَةَ، انْزِلْ فَحَرِّكِ الرِّكَابَ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ تَرَكْتُ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اسْمَعْ وَأَطِعْ، قَالَ: فَرَمَى بِنَفْسِهِ وَقَالَ:.
سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن رواحہ! نیچے اترو اور سواری کو حرکت دو۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے یہ کام چھوڑ دیا ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سنو اور اطاعت کرو۔ کہتے ہیں: انہوں نے خود کو (سواری سے) نیچے گرا دیا اور کہنے لگے:
«اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا، وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا» ”اے اللہ! اگر تو ہمیں ہدایت نہ فرماتا، نہ ہم صدقہ کرتے اور نہ ہی نمازیں ادا کرتے۔“
«فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا، وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا» ”تو ہمارے اوپر سکینت کو نازل فرما اور دشمن کے مقابلہ میں ہمارے قدموں کو ثابت رکھنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21035]
«اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا، وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا» ”اے اللہ! اگر تو ہمیں ہدایت نہ فرماتا، نہ ہم صدقہ کرتے اور نہ ہی نمازیں ادا کرتے۔“
«فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا، وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا» ”تو ہمارے اوپر سکینت کو نازل فرما اور دشمن کے مقابلہ میں ہمارے قدموں کو ثابت رکھنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21035]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 21036
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ السَّلِيطِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عنْ أَنَسٍ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، وَابْنُ رَوَاحَةَ آخِذٌ بِغَرْزِهِ وَهُوَ يَقُولُ:.
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے اور ابن رواحہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی مہار پکڑے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے: اے کفار! آج ان کا راستہ خالی کر دو، مقابلہ میں اترنے والے کی آج گردنیں اتار دی جائیں گی، جو ان کی گردنیں تن سے جدا کریں گے اور دوست کو دوست سے جدا کر دیا جائے گا، «يَا رَبِّ إِنِّي مُؤْمِنٌ بِقَوْلِهِ» ”اے میرے رب! میں ان کی بات پر ایمان لایا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21036]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21037
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عُمَرَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ أَبُو الْقَاسِمِ اللَّخْمِيُّ، بأَصْبَهَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي سُوَيْدٍ الشِّبَامِيُّ، سَنَةَ ثَمَانٍ وَسَبْعِينَ وَمِائَتَيْنِ بِمَدِينَةِ شِبَامٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ مَشَى عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ:.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ القضا کو ادا کرنے کے لیے مکہ میں داخل ہوئے تو ابن رواحہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے چل رہے تھے اور کہہ رہے تھے: اے کفار! اس کے راستے کو چھوڑ دو۔
اللہ نے اس کی مہمانی فرمائی ہے، بہترین مقتول وہ ہے جو اس کے راستے میں قتل ہو۔ اس تاویل پر ہم نے جہاد کیا۔ جبکہ ہم نے تمہارے ساتھ لڑائی کی اس کے مہمان کے ساتھ مل کر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21037]
اللہ نے اس کی مہمانی فرمائی ہے، بہترین مقتول وہ ہے جو اس کے راستے میں قتل ہو۔ اس تاویل پر ہم نے جہاد کیا۔ جبکہ ہم نے تمہارے ساتھ لڑائی کی اس کے مہمان کے ساتھ مل کر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21037]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح