السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4136. -- باب: شهادة الشعراء
-- باب: شاعروں کی گواہی کا بیان۔
حدیث نمبر: 21107
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: ثنا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَعِنْدَهَا حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ يُنْشِدُهَا شِعْرًا يُشَبِّبُ بِأَبْيَاتٍ لَهُ، فَقَالَ: حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِيبَةٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَى مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:" لَكِنَّكَ لَسْتَ كَذَاكَ"، قَالَ مَسْرُوقٌ: فَقُلْتُ لَهَا: لِمَ تَأْذَنِينَ لَهُ يَدْخُلُ عَلَيْكِ؟ وَقَدْ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ} [النور: ١١] فَقَالَتْ:" فَأَيُّ عَذَابٍ أَشَدُّ مِنَ الْعَمَى؟"، وَقَالَتْ: إِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ أَوْ يُهَاجِي عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ بِشْرِ بْنِ خَالِدٍ.
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، ان کے پاس حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ تھے، وہ اشعار پڑھ رہے تھے، جو ان کی جوانی کے اشعار تھے۔ شعر
وہ سنجیدہ اور پاک دامن ہیں جن پر کبھی تہمت نہیں لگائی گئی
وہ ہر صبح بھوکی ہو کر نادان بہنوں کا گوشت نہیں کھاتیں
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں: آپ تو ایسے نہیں، مسروق رحمہ اللہ کہنے لگے: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ ان کو اپنے پاس آنے کی اجازت کیوں دیتی ہیں؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾ [سورة النور: 11] ”وہ انسان جو تہمت کا والی بنا ان میں سے ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔“ فرمانے لگیں: اندھے پن سے بڑا عذاب کیا ہے؟ اور فرمانے لگیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21107]
وہ سنجیدہ اور پاک دامن ہیں جن پر کبھی تہمت نہیں لگائی گئی
وہ ہر صبح بھوکی ہو کر نادان بہنوں کا گوشت نہیں کھاتیں
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں: آپ تو ایسے نہیں، مسروق رحمہ اللہ کہنے لگے: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ ان کو اپنے پاس آنے کی اجازت کیوں دیتی ہیں؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾ [سورة النور: 11] ”وہ انسان جو تہمت کا والی بنا ان میں سے ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔“ فرمانے لگیں: اندھے پن سے بڑا عذاب کیا ہے؟ اور فرمانے لگیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21107]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21108
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَنْزَلَ فِي الشِّعْرِ مَا أَنْزَلَ، قَالَ:" إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِسَيْفِهِ وَلِسَانِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَكَأَنَّمَا تَرْمُونَهُمْ بِهِ نَضْحُ النَّبْلِ" كَذَا قَالَ.
عبدالرحمن بن کعب بن مالک اپنے والد (سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ نے اشعار کے بارے میں جو نازل کیا سو کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن اپنی تلوار اور زبان سے جہاد کرتا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میری جان ہے، گویا کہ تم ان پر تیروں کی بارش کرتے ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21108]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21109
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، حِينَ أَنْزَلَ اللهُ فِي الشِّعْرِ مَا أَنْزَلَ، أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: إِنَّ اللهَ قَدْ أَنْزَلَ فِي الشِّعْرِ مَا قَدْ عَلِمْتَ، فَكَيْفَ تَرَى فِيهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِسَيْفِهِ وَلِسَانِهِ".
عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب بن مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، جب اللہ تعالیٰ نے اشعار کے بارے میں کچھ نازل کیا اور عرض کیا: اللہ تعالیٰ نے اشعار کے بارے میں جو نازل کیا ہے آپ اسے جانتے ہیں، آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مؤمن اپنی تلوار اور زبان سے جہاد کرتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21109]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21110
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ⦗٤٠٥⦘ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أنبأ شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: وَكَانَ بَشِيرُ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ يُحَدِّثُ أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَكَأَنَّمَا تَنْضَحُونَهُمْ بِالنَّبْلِ فِيمَا تَقُولُونَ لَهُمْ مِنَ الشِّعْرِ".
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! جو تم اشعار ان کے بارے میں کہتے ہو، گویا کہ تم ان پر تیروں کی بارش کرتے ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21110]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21111
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَهْ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" {وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ} [الشعراء: ٢٢٤] فَنَسَخَ مِنْ ذَلِكَ وَاسْتَثْنَى فَقَالَ: {إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللهَ كَثِيرًا} [الشعراء: ٢٢٧] ".
عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ﴿وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ﴾ [سورة الشعراء: 224] اس سے منسوخ ہوگئی ﴿إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا﴾ [سورة الشعراء: 227] ”مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور اللہ کا بہت زیادہ ذکر کرتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21111]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21112
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، وَابْنُ بُكَيْرٍ قَالَا: ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي الْهَيْثَمُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَهُوَ يَقُصُّ وَهُوَ يَقُولُ فِي قَصَصِهِ، وَهُوَ يَذْكُرُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَخًا لَكُمْ لَا يَقُولُ الرَّفَثَ - يَعْنِي بِذَلِكَ عَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ - قَالَ:.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے قصے بیان کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کرتے کہ ”تمہارا بھائی ہے، وہ بےہودہ بات نہیں کرتا“ یعنی عبداللہ بن رواحہ۔ شعر:
1 ہمارے اندر اللہ کے رسول ہیں، جو اس کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں جب بھلائی والی فجر طلوع ہوتی ہے۔
2 اس نے اندھے پن کے بعد ہمیں ہدایت دی اور ہمارے دل اس کا یقین کرنے والے ہیں، جو اس نے کہہ دیا واقع ہونے والا ہے۔
3 وہ رات گزارتا ہے کہ اس کے پہلو بستر سے جدا رہتے ہیں، جس وقت کفار کے پہلو اپنے بستروں پر بھاری ہوتے ہیں، یعنی چمٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21112]
1 ہمارے اندر اللہ کے رسول ہیں، جو اس کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں جب بھلائی والی فجر طلوع ہوتی ہے۔
2 اس نے اندھے پن کے بعد ہمیں ہدایت دی اور ہمارے دل اس کا یقین کرنے والے ہیں، جو اس نے کہہ دیا واقع ہونے والا ہے۔
3 وہ رات گزارتا ہے کہ اس کے پہلو بستر سے جدا رہتے ہیں، جس وقت کفار کے پہلو اپنے بستروں پر بھاری ہوتے ہیں، یعنی چمٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21112]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1155۔ 6151»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21113
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّعْرِ فَقَالَ:" هُوَ كَلَامٌ، فَحَسَنُهُ حَسَنٌ، وَقَبِيحُهُ قَبِيحٌ". وَصَلَهُ جَمَاعَةٌ، وَالصَّحِيحُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شعر کے متعلق سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کلام ہے، اچھے اشعار اچھا کلام اور برے اشعار برا کلام ہیں۔“
ایک جماعت نے اسے موصول بیان کیا ہے، لیکن ان سے صحیح یہ ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21113]
ایک جماعت نے اسے موصول بیان کیا ہے، لیکن ان سے صحیح یہ ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21113]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 21114
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: سُئِلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَثَّلُ بِشَيْءٍ مِنَ الشِّعْرِ؟ ⦗٤٠٦⦘ قَالَتْ: رُبَّمَا دَخَلَ وَهُوَ يَقُولُ:" سَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ".
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا گیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی مثال اشعار میں سے ہے؟ انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی اس طرح کہہ لیا کرتے تھے: ”عنقریب تیرے پاس وہ شخص خبریں لائے گا، جس کو تو نے زادِ سفر بھی نہیں دیا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21114]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21115
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْكَرَابِيسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ قَدِمَا عَلَيْنَا بَيْهَقَ وَهُمَا صَحِيحٌ سَمَاعُهُمَا قَالَا: أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ الْبَصْرِيُّ - يَعْنِي: الْبَرَاءَ حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ طَيْسَلَةَ، أَخْبَرَنِي مَعْنُ بْنُ ثَعْلَبَةَ الْمَازِنِيُّ، حَدَّثَنِي الْأَعْشَى الْمَازِنِيُّ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْشَدْتُهُ:.
اعشیٰ مازنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اشعار پڑھے:
اے لوگوں کے رب اور عرب کے فیصلہ کرنے والے!
میری ملاقات ایک زبان دراز آدمی سے ہوئی
میں تو گھبراہٹ اور پریشانی کی حالت میں رزق تلاش کر رہا تھا۔
کراسی کی روایت: میں تو رزق کی تلاش میں نکلا، اس نے میرا پیچھا نیزوں کے ساتھ کیا، اس نے وعدہ کی خلاف ورزی کی اور گناہ میں لت پت ہو گیا۔ وہ جس پر غالب آ جاتی ہیں ان کے لیے بدترین شر ہوتی ہیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مثال دیتے ہوئے فرمایا تھا: «وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبَ» ”وہ جس پر غالب آ جاتی ہیں ان کے لیے بدترین شر ہوتی ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21115]
اے لوگوں کے رب اور عرب کے فیصلہ کرنے والے!
میری ملاقات ایک زبان دراز آدمی سے ہوئی
میں تو گھبراہٹ اور پریشانی کی حالت میں رزق تلاش کر رہا تھا۔
کراسی کی روایت: میں تو رزق کی تلاش میں نکلا، اس نے میرا پیچھا نیزوں کے ساتھ کیا، اس نے وعدہ کی خلاف ورزی کی اور گناہ میں لت پت ہو گیا۔ وہ جس پر غالب آ جاتی ہیں ان کے لیے بدترین شر ہوتی ہیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مثال دیتے ہوئے فرمایا تھا: «وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبَ» ”وہ جس پر غالب آ جاتی ہیں ان کے لیے بدترین شر ہوتی ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21115]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21116
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَرْعَرَةَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَاءُ، أنبأ طَيْسَلَةُ بْنُ نُبَاتَةَ الْمَازِنِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، وَالْحِيُّ عَنْ أَعْشَى بْنِ مَاعِزٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْشَدْتُهُ، فَذَكَرَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: تَزَوَّجْتُ ذِرْبَةً، وَقَالَ: ذَهَبْتُ أَبْغِيهَا، وَقَالَ: فَخَالَفَتْنِي بِنِزَاعٍ وَهَرَبْ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْبَيْتَ الْخَامِسَ، وَقَالَ غَيْرُهُ: عَنْ إِبْرَاهِيمَ: طَيْسَلَةُ بْنُ صَدَقَةَ.
سیدنا عشی بن ماعز رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اشعار پڑھتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، انہوں نے ذکر کیا کہ میں نے ایک زبان دراز عورت سے شادی کی ہے، میں اس کی تلاش میں نکلا تو اس نے جھگڑے اور فرار کے ساتھ میری مخالفت کی، لیکن پانچواں شعر ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21116]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم»
الحكم على الحديث: ضعيف