السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4176. -- باب: فضل إعتاق النسمة وفك الرقبة
-- باب: جان کو آزاد کرنے اور گردن کو (غلامی سے) چھڑانے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 21306
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي وَاقِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ ابْنُ مَرْجَانَةَ، صَاحِبُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا اسْتَنْقَذَهُ اللهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنَ النَّارِ". قَالَ سَعِيدُ ابْنُ مَرْجَانَةَ: سَمِعْتُ الْحَدِيثَ، فَانْطَلَقْتُ بِهِ إِلَى عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، فَعَمِدَ إِلَى عَبْدٍ قَدْ أَعْطَاهُ بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ عَشَرَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ، أَوْ أَلْفَ دِينَارٍ، فَأَعْتَقَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَاصِمٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان کسی مسلمان کو آزاد کرواتا ہے تو اس کے عوض اللہ اس کے تمام اعضا کو جہنم کی آگ سے آزاد کر دیتے ہیں۔“
(ب) سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث سنی تو اسے لے کر علی بن حسین رحمہ اللہ کی طرف چلا، تو انہوں نے اپنے ایک غلام کا قصد کیا جس کی قیمت میں عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما انہیں دس ہزار درہم یا ایک ہزار دینار دے رہے تھے اور اسے آزاد کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21306]
(ب) سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث سنی تو اسے لے کر علی بن حسین رحمہ اللہ کی طرف چلا، تو انہوں نے اپنے ایک غلام کا قصد کیا جس کی قیمت میں عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما انہیں دس ہزار درہم یا ایک ہزار دینار دے رہے تھے اور اسے آزاد کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21306]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21307
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ مَرْجَانَةَ، سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَعْتَقَ اللهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ حَتَّى يُعْتِقَ فَرْجَهُ بِفَرْجِهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مومن گردن کو آزاد کر دیا تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام اعضا اس کے بدلے میں جہنم سے آزاد کر دیں گے، یہاں تک کہ شرمگاہ کو شرمگاہ کے عوض۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21307]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21308
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الشِّيرَازِيُّ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَا:: ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ أَبِي غَسَّانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ سَعِيدٍ ابْنِ مَرْجَانَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً أَعْتَقَ اللهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْ أَعْضَائِهِ مِنَ النَّارِ حَتَّى فَرْجَهُ بِفَرْجِهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ رُشَيْدٍ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ رُشَيْدٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”جس نے گردن آزاد کی تو اللہ اس کے تمام اعضاء کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے، یہاں تک کہ شرمگاہ کو شرمگاہ کے عوض۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21308]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21309
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا ⦗٤٦٠⦘ يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، قَالَ: قِيلَ لِكَعْبِ بْنِ مُرَّةَ، أَوْ مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ الْبَهْزِيِّ: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِلَّهِ أَبُوكَ وَاحْذَرْ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَجُلًا مُسْلِمًا كَانَ فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ، يُجْزَى بِكُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهِ عَظْمًا مِنْ عِظَامِهِ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ امْرَأَتَيْنِ مُسْلِمَتَيْنِ كَانَتَا فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ، يُجْزَى بِكُلِّ عَظْمَيْنِ مِنْ عِظَامِهِمَا عَظْمًا مِنْ عِظَامِهِ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مَسْلَمَةٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَةً مَسْلَمَةً كَانَتْ فِكَاكَهَا مِنَ النَّارِ، تُجْزَى بِكُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهَا عَظْمًا مِنْ عِظَامِهَا".
سیدنا کعب بن مرہ یا مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: ہمیں کوئی حدیث سنائیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، آپ کا بھلا ہو، اور احتیاط کیجیے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس مسلمان نے کسی مسلمان کی گردن آزاد کروائی، اللہ اس کو جہنم سے آزاد کروا دیں گے، ہڈی ہڈی سے کفایت کر جائے گی، جس مسلمان نے دو عورتیں آزاد کیں، تو ان کا آزاد کرانا گویا جہنم سے بچاؤ ہے، ان کی ہر دو ہڈیاں اس کی ایک ہڈی کا بدلہ ہوں گی، جو عورت مسلمان عورت کو آزاد کروا دے تو اس کو جہنم سے آزادی مل جائے گی تو اس کی ہڈی اس کی ہڈی سے کفایت کر جائے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21309]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21310
أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ النَّيْسَابُورِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ أَسَدَ بْنَ وَدَاعَةَ الطَّائِيَّ، يَقُولُ: قَالَ شُرَحْبِيلُ بْنُ السِّمْطِ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى حِمْصَ لِعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا نَجِيحٍ حَدِّثْنَا بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيْسَ فِيهِ تَزَيُّدٌ وَلَا نِسْيَانٌ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَعْتَقَ اللهُ بِكُلَّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللهِ فَبَلَغَ الْعَدُوَّ وَأَصَابَ كَانَ لَهُ كَعِدْلِ رَقَبَةٍ، وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللهِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
شرحبیل بن سبط رضی اللہ عنہ جو حمص کے امیر تھے، عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں: اے ابونجیح! ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سناؤ، جس میں زیادتی اور نسیان نہ ہو۔ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مومن گردن کو آزاد کیا تو اللہ اس کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد کر دے گا۔ جس نے دشمن کو تیر مارا تو یہ بھی گردن آزاد کروانے کے برابر ہے، جو اللہ کے راستہ میں بوڑھا ہو گیا، اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21310]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21311
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ، قَالَ: حَاصَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْرَ الطَّائِفِ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ بَلَغَ بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللهِ فَهُوَ لَهُ عَدْلُ مُحَرَّرٍ"، فَبَلَغْتُ يَوْمَئِذٍ سِتَّةَ عَشَرَ سَهْمًا، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللهِ فَهُوَ لَهُ دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ، وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَجُلًا مُسْلِمًا فَإِنَّ اللهَ جَاعِلٌ وِقَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهِ عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرَّرِهِ مِنَ النَّارِ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مَسْلَمَةٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَةً مَسْلَمَةً فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ وِقَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهَا عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرَّرِهَا مِنَ النَّارِ".
سیدنا ابو نجیح سلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر طائف کے محلات کا محاصرہ کیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”جس نے اللہ کے راستے میں تیر پھینکے، وہ گردن کے آزاد کرنے کے برابر ہیں“، میں نے اس دن سولہ تیر پھینکے تھے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جس نے اللہ کے راستے میں تیر مارا اس کے لیے جنت میں درجہ ہوگا، اور جو اسلام میں بوڑھا ہوا اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا، اور جس مسلمان نے کسی مسلمان کو آزاد کیا تو اللہ اس کے اعضاء کو اس کے اعضاء کے عوض جہنم سے بچا لے گا، جس مسلمان عورت نے کسی مسلمان عورت کو آزاد کر دیا تو اللہ اس کے تمام اعضاء کو اس کے تمام اعضاء کے عوض آزاد کر دے گا“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21311]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21312
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دِيزِيلَ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، قَالُوا: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنِي شَيْخٌ، مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ يُقَالُ لَهُ: شُعْبَةُ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى وَمَعَهُ بَنُوهُ فَقَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ ⦗٤٦١⦘ حَدَّثَنِي بِهِ أَبِي؟ قَالُوا: بَلَى يَا أَبَتِ، فَحَدِّثْنَا، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً أَوْ عَبْدًا كَانَتْ فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ عُضْوًا بِعُضْوٍ".
شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم ابوبردہ رحمہ اللہ کے پاس تھے، ان کے بچے بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں حدیث نہ سناؤں جو میرے والد نے مجھے سنائی؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اے میرے والد! فرمایا کہ میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے گردن یا غلام آزاد کیا تو اس کے عوض اس کے تمام اعضاء جہنم سے آزاد ہوں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21312]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 21313
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الزَّاهِدُ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، قَالَا: ثنا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ طَلْحَةَ الْيَامِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، قَالَ:" لَئِنْ أَقْصَرْتَ فِي الْخُطْبَةِ لَقَدْ أَعْرَضْتَ الْمَسْأَلَةَ، أَعْتِقِ النَّسَمَةَ، وَفُكَّ الرَّقَبَةَ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَهُمَا سَوَاءٌ؟ قَالَ:" لَا، عِتْقُ النَّسَمَةِ أَنْ تَنْفَرِدَ بِهَا، وَفَكُّ الرَّقَبَةِ أَنْ تُعِينَ فِي ثَمَنِهَا، وَالْمِنْحَةُ الْوَكُوفُ، وَالْفَيْءُ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الظَّالِمِ"، قَالَ: فَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ؟ قَالَ:" فَأَطْعِمِ الْجَائِعَ، وَاسْقِ الظَّمْآنَ"، قَالَ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ؟ قَالَ:" مُرْ بِالْمَعْرُوفِ، وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ"، قَالَ: فَمَنْ لَمْ يُطِقْ ذَلِكَ؟ قَالَ:" فَكُفَّ لِسَانَكَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ..
سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ تو نے خطبہ چھوٹا دیا ہے لیکن تو نے مسئلہ بہت بڑا (اور اہم) بیان کیا ہے؛ «عِتْقُ النَّسَمَةِ» ”جان آزاد کرو“ اور «فَكُّ الرَّقَبَةِ» ”گردن آزاد کرو“۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ دونوں برابر نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، «عِتْقُ النَّسَمَةِ» ”جان آزاد کرنے“ سے مراد یہ ہے کہ آپ اکیلے کسی گردن کو آزاد کریں اور «فَكُّ الرَّقَبَةِ» ”گردن آزاد کرانے“ سے مراد ہے اس کی قیمت میں مدد کرنا، اور دودھ والا جانور عطیہ میں دینا اور ظالم رشتہ دار کے ساتھ صلہ رحمی کرنا۔“ اس نے کہا: اس کی طاقت کون رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو بھوکے کو کھانا کھلاؤ اور پیاسے کو پانی پلاؤ۔“ وہ کہنے لگا: اگر میں اس کی طاقت نہ رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو۔“ اس نے کہا: جو اس کی (بھی) طاقت نہ رکھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اپنی زبان کو بھلائی کے علاوہ (ہر بات سے) روکے رکھو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21313]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح