السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4176. -- باب: فضل إعتاق النسمة وفك الرقبة
-- باب: جان کو آزاد کرنے اور گردن کو (غلامی سے) چھڑانے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 21313
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الزَّاهِدُ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، قَالَا: ثنا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ طَلْحَةَ الْيَامِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، قَالَ:" لَئِنْ أَقْصَرْتَ فِي الْخُطْبَةِ لَقَدْ أَعْرَضْتَ الْمَسْأَلَةَ، أَعْتِقِ النَّسَمَةَ، وَفُكَّ الرَّقَبَةَ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَهُمَا سَوَاءٌ؟ قَالَ:" لَا، عِتْقُ النَّسَمَةِ أَنْ تَنْفَرِدَ بِهَا، وَفَكُّ الرَّقَبَةِ أَنْ تُعِينَ فِي ثَمَنِهَا، وَالْمِنْحَةُ الْوَكُوفُ، وَالْفَيْءُ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الظَّالِمِ"، قَالَ: فَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ؟ قَالَ:" فَأَطْعِمِ الْجَائِعَ، وَاسْقِ الظَّمْآنَ"، قَالَ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ؟ قَالَ:" مُرْ بِالْمَعْرُوفِ، وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ"، قَالَ: فَمَنْ لَمْ يُطِقْ ذَلِكَ؟ قَالَ:" فَكُفَّ لِسَانَكَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ..
سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ تو نے خطبہ چھوٹا دیا ہے لیکن تو نے مسئلہ بہت بڑا (اور اہم) بیان کیا ہے؛ «عِتْقُ النَّسَمَةِ» ”جان آزاد کرو“ اور «فَكُّ الرَّقَبَةِ» ”گردن آزاد کرو“۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ دونوں برابر نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، «عِتْقُ النَّسَمَةِ» ”جان آزاد کرنے“ سے مراد یہ ہے کہ آپ اکیلے کسی گردن کو آزاد کریں اور «فَكُّ الرَّقَبَةِ» ”گردن آزاد کرانے“ سے مراد ہے اس کی قیمت میں مدد کرنا، اور دودھ والا جانور عطیہ میں دینا اور ظالم رشتہ دار کے ساتھ صلہ رحمی کرنا۔“ اس نے کہا: اس کی طاقت کون رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو بھوکے کو کھانا کھلاؤ اور پیاسے کو پانی پلاؤ۔“ وہ کہنے لگا: اگر میں اس کی طاقت نہ رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو۔“ اس نے کہا: جو اس کی (بھی) طاقت نہ رکھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اپنی زبان کو بھلائی کے علاوہ (ہر بات سے) روکے رکھو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العتق/حدیث: 21313]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 21313 in Urdu